عدلیہ بلڈنگ کمیٹی نےجوڈیشری کیلیے عمارتیں تعمیر نہ کرنے پر حکومت کے خلاف سخت ترین ایکشن لینے کا عندیہ دے دیا

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز۔ کاشف میر)پی آئی ڈی مظفرآباد کی طرف سے جاری ریلیز کے مطابق سینئر جج آزادجموں وکشمیر سپریم کورٹ چیئرمین عدلیہ بلڈنگ کمیٹی جسٹس راجہ سعید اکرم خان کی صدارت میں عدلیہ کی بلڈنگ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں راولاکوٹ، باغ، دھیرکوٹ اورمظفرآباد میں جوڈیشل کمپلیکس ہا کی تعمیر اور بقیہ کام کے علاوہ، ضلعی عدلیہ کے ججز صاحبان کی رہائش گاہوں کی تعمیر کے امور زیر غور آئے ۔

اجلاس میں جج سپریم کورٹ جسٹس غلام مصطفی مغل ، رجسٹرار سپریم کورٹ شیخ راشد مجید، سیکرٹری تعمیرات عامہ کے علاوہ محکمہ تعمیرات عامہ کے حکام موجود تھے ۔ اجلاس میں چیئرمین بلڈنگ کمیٹی جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے فیصلوں کی تعمیل نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیااورکہاکہ عدالتی مکانیت کے معاملات میں عدم توجہی پر ذمہ داران کے خلاف سخت ترین کارروائی کی جائے گی۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ باغ میں جوڈیشل کمپلیکس میں عدالتوں میں فرنیچر بھی نہیں اور نہ ہی عمارت قابل استعمال ہے جس پر جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے ہدا یت کی کہ چیف انجینئر تعمیرات عامہ بقیہ کام اورکوالٹی کے معیار کو یقینی بنا کر چیف جسٹس عدالت عالیہ کو رپورٹ پیش کریں۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ چیف انجینئر تعمیرات عامہ نے 13 جون کو ہونے والے اجلاس میں جو یقین دہانی کروائی تھی وہ اس کی تعمیل نہیں کی گئی ۔ 5 ماہ کے عرصہ میں آپ سے راولاکوٹ میں ایک واش روم بھی نہ بن سکاجس پر چیئرمین عدلیہ بلڈنگ کمیٹی نے کہاکہ گزشتہ اجلاس میں جوڈیشل کمپلیکس باغ کے ڈیزائن میں حائل رکاوٹوں اور راولاکوٹ جوڈیشل کمپلیکس کے بقیہ تعمیراتی کام بارے تحریر رپورٹ طلب کی گئی تھی، ابھی تک کیوں پیش نہ گئی اور نلوچھی پراجیکٹ کی تعمیر کا کام کس مرحلے پر ہے اور اسکی رپورٹ بھی کیوں نہیں پیش کی گئی ۔

اس موقع پر چیئرمین بلڈنگ کمیٹی جسٹس راجہ سعید اکرم خان نے ہدایت کی کہ تعمیرت عامہ کے حکام ہر 15 ایام کے بعد رپورٹ پیش کرنے کے پابند ہونگے ۔ انہوں نے کہاکہ دھیرکوٹ میں عدالتوں کی اراضی کے سلسلہ میں محکمہ مال کے متعلقہ حکام کوآئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے اور عدالتی مکانیت بارے میںرپورٹ 15 اکتوبر تک پیش کی جائے۔بلڈنگ کمیٹی کا اجلاس 15اکتوبر کو طلب کر لیا گیا ہے۔

دوسری جانب سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے ایوان وزیراعظم کے ترجمان نے کہا کہ محکمہ تعمیرات عامہ بلڈنگ کے مجموعی بجٹ میں سے 33 فیصد بجٹ اس سال بھی عدلیہ کی مکانیت پر خرچ ہوا ہے۔ اسی طرح گزشتہ سالوں میں بھی محکمہ تعمیرات عامہ جو تمام سرکاری عمارات کی تعمیر کا ذمہ دار ہے کا 30 فیصد سے زائد بجٹ عدلیہ کی مکانیت پر خرچ ہوتا رہا ہے۔حکومت نے عدلیہ کی مکانیت کے انتظام کیساتھ ساتھ دیگر شعبہ جات کی ضروریات بھی پوری کرنی ہوتی ہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ آزادکشمیر میں ایک ہزار سے زائد سکولوں کی تعمیر ابھی تک فنڈز کی کمی کی وجہ سے شروع نہیں ہو سکی۔ مختلف اضلاع کی جیلیں اور تھانے بجٹ نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حال عمارتوں میں قائم ہیں۔ اسی طرح مختلف محکمہ جات کے دفاتر پرائیوٹ عمارتوں میں ہیں اس لیے کسی ایک شعبہ پر تعمیرات عامہ کا بجٹ خرچ کرنا ممکن نہیں ہے۔

سٹیٹ ویوز کو اپنے ذرایع نے بتایا ہے کہ اعلی عدلیہ کے ججز کی نظر کشمیر ہاوس اسلام آباد کی حدود میں تعمیر ہونے والی نئی عمارت پر ہیں۔ عدلیہ کے بعص سینئر لوگ حکومت پر دباو ڈال رہے ہیں کہ اس عمارت کا ایک بڑا حصہ عدلیہ کو رہائش وغیرہ کیلیے دیا جائے لیکن حکومت وہ عمارت کسی اور شعبہ کے استعمال میں لانا چاہتی ہے۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آزادکشمیر کی عدلیہ کے اکثر سینئر لوگ کشمیر ہاوس اسلام آباد یا اسمبلی ہاسٹل مظفرآباد اور مختلض اضلاع میں سرکاری گیسٹ ہاوسز میں جب بھی ذاتی دورہ کریں یا سماعت کے دوران جائیں تو یہ رہائش کا طے شدہ کرایہ اور طعام کا بل ادا نہیں کرتے جبکہ دیگرحکمہ جات یا پرائیویٹ لوگوں سے سرکاری گیسٹ ہاوسز میں رہائش اور طعام کا کرایہ لیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں