پیپلز نیشنل الائنس کے مرکزی صدر راجہ ذولفقار نے حکمرانوں کے سامنے تین اہم مطالبات رکھ دئیے

چک سواری(سٹیٹ ویوز)آزادی پسند سیاسی جماعتوں کے اتحاد جموں کشمیر پیپلزنیشنل الائنس کی چک سواری میں اہم بیٹھک ہوئی ہے۔

مقامی صحافی شہزادعظیم کے مطابق چیئرمین پیپلزنیشنل الائنس(پی این اے)وجموں کشمیرپیپلزنیشنل پارٹی راجہ ذوالفقاراحمدایڈووکیٹ نے کہا کہ گذشتہ بہترسالوں سے منقسم کشمیریوں نے جن روایتی سیاست دانوں سے اُمیدیں وابستہ کیے رکھیں دراصل دونوں اطراف کے یہی روایتی سیاست دان کشمیریوں کے اصل مجرم اوردشمن ہیں جنہوں نے اپنے اقتدارکودوام بخشنے کے لیے کشمیریوں کو تقسیم کیے رکھااوردہلی واسلام آبادکے لیے سہولت کاری کرتے رہے۔

بھارت اورپاکستان کے عوام کشمیریوں سے ہمدردی رکھتے ہیں لیکن دونوں ریاستوں کے حکمرانوں اورپالیسی سازوں نے کشمیردشمنی کی انتہاکرتے ہوئے گذشتہ بہترسالوں سے تحریک آزادی کشمیرکوہرممکن طریقے سے کچلنے کی کوشش کی۔بدقسمتی سے متحدہ ہندوستان کی تقسیم کے وقت کشمیریوں کوایسی قیادت ملی جنہوں نے صدیوں کی آزاد،خودمختاراورانفرادی تاریخ کی حامل ریاست کوذاتی مفادات اورتعلقات کی بناء پرتقسیم کردیا۔

انہی کی باقیات نے اقتدارکی خاطرغیرریاستی سیاسی جماعتوں کوخوش آمدیدکہا اورپھرغلاموں کی طرح دہلی اوراسلام آبادسے احکامات وصول کرتے ہیں۔

راجہ ذوالفقاراحمدایڈووکیٹ نے کہاکہ قوم پرست جماعتوں کاراستہ روکنے کے لیے الحاق پاکستان کی شق رکھی گئی کیوں کہ پالیسی سازوں کواس بات کاخطرہ ہے کہ باشعوراورقوم پرست راہ نماؤں کے اقتدارمیں آنے سے ریاست کی خودمختاری اورآزادی کی راہ ہموارہوگی۔

انہوں نے کہاکہ 5اگست کے بھارتی اقدام سے پیداشدہ صورت حال کے نتیجے میں 26قوم پرست جماعتوں نے ایک متحدہ پلیٹ فارم پرجمع ہوکرمنظم اندازمیں تحریک چلانے کاآغازکیااورجموں کشمیرپیپلزنیشنل الائنس کے نام سے الائنس تشکیل دیاگیااوراب اس پلیٹ فارم سے آزادکشمیربشمول گلگت بلتستان میں آزادی پسندوں کومنظم کیاجارہاہے اورجگہ جگہ جلسے جلوس اورریلیاں منعقدکرکے عوام کی فکری اورنظریاتی تربیت کرنے کے بعدانتہائی اورفیصلہ کن قدم اٹھایاجائے گا۔

پی این اے کے قیام سے پوری دنیامیں بسنے والے کشمیریوں میں خوشی اور اعتماد کی لہردوڑگئی اوربالخصوص یورپ میں بسنے والے قوم پرست کشمیری پی این اے کی کال پرلبیک کہنے کوتیاربیٹھے ہیں۔انہوں نے کہاکہ پیپلزنیشنل الائنس کے پلیٹ فارم سے متفقہ طور پر چندمطالبات سامنے آئے ہیں کہ ریاست میں نافذباشندہ ریاست قانون پرکوئی سمجھوتانہیں کیاجائے گا۔اس قانون کوپوری ریاست میں بحال کیاجائے اورچونکہ پاکستان نے یہ اقدام پہلے کیاتھااس لیے ہماراپہلامطالبہ پاکستان سے ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں یہ ریاست باشندہ قانون بحال کرے۔

دوسرامطالبہ یہ ہے کہ معاہدہ کراچی اورایکٹ74کاخاتمہ کرتے ہوئے کشمیر کی تمام اکائیوں پرمشتمل ایک آئین سازاورخودمختاراسمبلی کاقیام عمل میں لایاجائے جسے سب سے پہلے پاکستان تسلیم کرے۔پاکستان اگرافغانستان میں قائم ہونے والی طالبان کی حکومت کوتسلیم کرسکتاہے توکشمیریوں کی نمائندہ حکومت اورریاست کوتسلیم کرنے میں پاکستان کوکوئی عارنہیں ہونی چاہیے۔

تیسرامطالبہ یہ کہ حریت پسندراہ نماؤں باباجان اورافتخارکربلائی جنہیں عوامی شعوربیدارکرنے کے جرم میں چالیس اورسترسال قیدکی سزاسنائی گئی کوغیرمشروط رہاکیاجائے اورپھربھارت سے مطالبہ کہ وہ تمام سیاسی قیدیوں کورہا کرے۔

انہوں نے کہاکہ آزادی کی بات صرف ہم نہیں کرتے بلکہ دونوں ریاستوں پاکستان اوربھارت نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پرریاست سے فوجیں نکالنے اوررائے شماری کرانے کاوعدہ کررکھاہے اورہمیں 1947ء سے قبل والی ریاستی حیثیت چاہیے جس کارقبہ چوراسی ہزارچارسواکہترمربع میل ہے۔

انہوں نے کہاکہ ضلع میرپورکوتحریک آزادی کشمیرمیں خصوصی حیثیت حاصل رہی ہے اوراکثریتی قوم پرست جماعتوں کاقیام اسی شہرمیں ہوا۔گذشتہ دنوں برطانیہ کے مختلف شہروں میں ہونے والے مظاہرے میں اکثریتی کشمیریوں کاتعلق میرپورسے ہے اوریہی وجہ ہے کہ کامیاب مظاہروں کے بعدبھارتی چینلز نے میرپورکے متعلق ڈاکومنٹری چلائی کہ میرپورہماراحصہ ہے اوربھارت یہاں قبضہ کرے گاکیوں کہ بھارت کوبرطانیہ میں میرپوریوں کے احتجاج پرسخت تکلیف ہوئی۔

انہوں نے کہاکہ کشمیرکوارضی جنت کہاجاتاہے اورجب جنت قیدمیں ہوتواُسے آزادکرانے کے لیے تمام کشمیریوں کواٹھ کھڑاہوناچاہیے۔سیزفائرلائن کی طرف مارچ اسی صورت کامیاب ہوسکتاہے جب اُس پارسے بھی لاکھوں کشمیری سیزفائرلائن روندنے کے لیے نکل کھڑے ہوں،تب پوری دنیاکویہ پیغام جائے گاکہ دونوں اطراف کے کشمیری اس منحوس خونی لکیرکوتوڑکرآپس میں ملناچاہتے ہیں۔چیئرمین پیپلزنیشنل الائنس راجہ ذوالفقاراحمدایڈووکیٹ نے کہاکہ پی این اے کے۔

زیراہتمام10اکتوبرکوڈڈیال،14اکتوبرکومیرپوراور21اکتوبرکومظفرآبادمیں بھرپورقوت کامظاہرہ کیاجائے گا۔ان خیالات کااظہارانہوں نے ضلع میرپورکے نواحی قصبہ چک سواری میں پی این اے کی منعقدہ میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس کے علاوہ تقریب سے یونس تریابی،ادریس شان ایڈووکیٹ،ہمایوں پاشاپنڈت،چودھری بشارت حسین ایڈووکیٹ سیکرٹری جنرل ڈسٹرکٹ بارمیرپور،آصف کشمیری نے بھی خطاب کیا۔

تقریب کی نظامت کے فرائض معروف قوم پرست راہ نماخواجہ احتشام الحق ایڈووکیٹ نے سرانجام دیے۔تقریب میں عبداللہ قربان،شاویزاقبال،اسلم وطنوف،خواجہ محمدشعیب ایڈووکیٹ،غضنفرعلی راجہ،راجہ شہروزخان،زاہدبشیرسوہاج،معظم علی چودھری،افرازمحمودراجہ،غلام فریدراجہ،راجہ زاہدحسین،قیصرعزیز،حاجی واحدحسین صدرموبائل یونین چک سواری،آفتاب حسین تابی،خواجہ اکرام الحق،آفتاب حسین شاہ،چودھری خوشحال،عمران بلال،خواجہ بابرہدایت،راجہ شاہدعزیز،احمدفراز،خواجہ تعبیراحمدسمیت کثیرتعدادمیں عوام علاقہ چک سواری نے شرکت کی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں