لاہور ہائی کورٹ‌کو چھوٹی بچیوں نے پہلے سے دیا گیا فیصلہ بدلنے پر مجبور کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) لاہور ہائیکورٹ کو بچی کی چیخ و پکار پر ماں کے حوالے کرنے کا فیصلہ واپس لینا پڑا۔بچی نے عدالتی فیصلے کے بعد ماں کے ساتھ جانے پر چیخنا اور رونا شروع کردیا ۔ بچی چیخ چیخ کر کہتی رہی کہ میں نے پاپا کے پاس جانا ہے۔ بچی کی چیخ و پکار پر فاضل عدالت نے والد اور والدہ کو پھر صلح کا موقع فراہم کر دیا۔ عدالت نے بچی کی چیخ و پکار پر کیس دوبارہ کال کر لیا۔ عدالت نے دونوں میاں بیوی کی رضامندی سے صلح کا ایک اور موقع دیدیا۔

فاضل عدالت نے دونوں میاں بیوی کو کہا کہ بچی کے مستقبل کیلئے آپ دونوں اپنی رنجشیں ختم کر لیں ۔ عدالت نے بچی کو پہلے والدہ گلنا ر بی بی کے حوالے کرنے کا حکم دیا مگر دوبارہ کیس کال کرنے پردونوں فریقین کو صلح کا موقع دے دیا اور بچی کو دوبارہ والد کے حوالے کر دیا۔ فاضل عدالت نے حکم دیا کہ اگلی سماعت پر آپ بچی کو لے کر عدالت میں پیش ہونگے۔ایک اور کیس میں لاہور ہائیکورٹ نے سات سالہ بچی کو باپ سے لے کر ماں کے حوالے کر دیا۔ عدالت میں کمسن بچی چیخ و پکار کرتی رہی اور ماں کے ساتھ جانے سے انکار کرتی رہی۔

تفصیلات کے مطابق احاطہ عدالت میں سات سالہ اسما نے رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیا۔ بچی کی والدہ صغراں بی بی نے شوہر سے اس کی بازیابی کے لیے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا۔ جسٹس ارم سجاد گل کے سامنے صغراں بی بی نے موقف اختیار کیا تھا کہ اس کے شوہر نے دوسری شادی کر کے اس کی سات سالہ بیٹی کوزبردستی اپنے پاس رکھا ہوا ہے۔ جبکہ اس کے شوہر محمد اشرف نے موقف اختیار کیا کہ وہ بیٹی کی بہتر پرورش کر رہا ہے-

اس لیے اس کی بیٹی کو اس کے پاس رہنے دیا جائے۔تاہم عدالت نے وکلاءکے دلائل مکمل ہونے کے بعد اسماءکو باپ کی تحویل سے لے کر ماں کے حوالے کر دیا۔ بچی جیسے ہی احاطہ عدالت میں آئی تو اس نے چیخ و پکار شروع کر دی۔ اسماءاپنے والد کے ساتھ جانے کے لیے روتی رہی لیکن اس کی والدہ اسے اپنے ساتھ لے کر لاہور ہائیکورٹ سے روانہ ہوگئی ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں