کینیڈین وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے عمران خان کی اقوام متحدہ میں تقریر سننے کے بعد اگلے ہی روزکیا حکم جاری کر دیا تھا ؟جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا اور آزادی مارچ خبروں میں ان ہے ۔ صبح سے لے کر شام تک اس موضوع پر بے شمار تبصرے سننے اور پڑھنے کو مل رہے ہیں ۔ روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں اس حوالے سے لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ اقوام متحدہ میں عمران خان نے ایسی باتیں کیں کہ پوری مسلمان دنیا اَش اَش کر اٹھی۔اس نے دل سے باتیں کیں اور وہ دلوں میں اتر گئیں۔ اس تقریر کے بعد مولانا کو کارڈ تبدیل کرنا پڑا۔ اب وہ دھاندلی اور ملکی معیشت کا کارڈ سامنے لے آئے ہیں۔پچھلے دنوں سیٹھوں کے ایک گروہ نے بھی آرمی چیف سے ملاقات کی تھی، ان میں سے کئی سیٹھ سابقہ حکمرانوں کے لئے کام کرتے ہیں۔

ان کا یہ عالم ہے کہ بارہ ارب ڈالر کی تجارت کرکے صرف چھ ارب ڈالر شو کرتے ہیں، باقی پیسہ پرانے آقائوں کی خواہش کے مطابق باہر ہی سے بیرونی دنیا میں بھیج دیتے ہیں۔ملاقات کا یہ کھیل جیلوں میں بند مبینہ لٹیروں کی خواہش پر رچایا گیا۔ اس کھیل کا مقصد یہ تھا کہ موجودہ حکومت کے خلاف کام کو تیز کیا جائے۔ اس ملاقات کو جنرل آصف غفور نے سیمینار میں تبدیل کر کے خواہش کو حسرت میں بدل دیا۔اچھی تقریر سے مولانا صاحب خائف ہو جاتے ہیں۔ مولانا کے والد مفتی محمود کا بھی یہی عالم تھا۔ ایک زمانے میں بھٹو نے مفتی محمود کے مقابلے میں محسن نقوی کو ٹکٹ دیا۔محسن نقوی شاعر بھی تھا، ذاکر بھی۔ حالت یہ تھی کہ ڈیرہ کے لوگ محسن نقوی کی تقریریں سننے جاتے، نہ صرف تقریریں سنتے بلکہ سارا دن ان تقریروں کے کیسٹ بھی سنتے۔

وہ تو اس الیکشن کو ضیاء الحقی وعدے کھا گئے ورنہ مفتی صاحب کی شکست یقینی تھی۔ اب مولانا صاحب فرما رہے ہیں ایک تقریر سے کیا ہوگا؟ اس کا جواب کینیڈا میں مقیم پنجابی کے خوبصورت شاعر سلیم پاشا نے دیا ہے۔وہ بتاتے ہیں کہ ’’عمران خان نے جو اقوام متحدہ میں پوائنٹس اٹھائے تھے، ان میں ایک ترقی یافتہ ملکوں کی موسمیاتی تبدیلیوں سے عدم دلچسپی کے بارے میں تھا، اگلے ہی روز کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کینیڈا میں دو ارب درخت لگانے کا حکم دیا۔دوسرا پوائنٹ اسلامو فوبیا تھا، دو روز قبل یورپی ممالک نے توہین رسالتؐ کو جرم قرار دے دیا ۔ ایک پوائنٹ RSSکی دہشتگردی تھا، گزشتہ روز امریکہ نے RSSسمیت دو ہندو تنظیموں کو دہشتگردوں کی عالمی فہرست میں شامل کیا ہے۔

ایک پوائنٹ مسئلہ کشمیر پر عالمی حمایت تھا، امریکی سینیٹ نے کشمیر میں کرفیو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، جس پر انڈیا چیخ رہا ہے، اگر یہ سب کچھ تقریر سے واقع نہیں ہوا تو پھر بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری سمجھ لیجئے‘‘۔میری مولانا سے پرانی نیازمندی ہے،میں نے تو عرصہ پہلے ان سے عرض کیا تھا کہ آپ دینی شخصیت ہیں، لوگ آپ کی عزت کرتے ہیں،
لوگ عزت کیلئے سیاست کرتے ہیں، آپ کیوں سیاست کرتے ہیں؟

مولانا کا برجستہ جواب تھا ’’میں عزت بچانے کیلئے سیاست کرتا ہوں‘‘۔مولانا صاحب ویسے تو سلیم صافی کو بھی جواب نہیں دے پائے تھے، جب پوچھا گیا کہ ناموس رسالتؐ کے حوالے سے خطاکار حکومت کے ساتھ کیوں چل رہے ہیں؟ تو مولانا نے کہا آگے چلیں، جب اینکر نے جواب مانگا تو فرمانے لگے ’’انسان خطاکار ہے، ہم حکومت کا ساتھ اس لئے دے رہے ہیں تاکہ خطا کاروں کی رہنمائی کر سکیں‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں