حکومت مولانا فضل الرحمنٰ کے دھرنے سے کیسے نمٹے ؟حامد میرنے مشورہ دے دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) پاکستان کے سینئیر صحافی حامد میر نے وزیراعظم عمران خان کو مشورہ دیا ہے کی دھرنوں کی تیاریوں میں مصروف اپوزیشن کو کہیں ہمارے ساتھ مذاکرات کریں ۔تفصیلات کے مطابق حامد میر کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو احساس ہو گیا ہے کہ انہوں نے 2014میں جو دھرنا دیا وہ غلط تھا، لہذا عمران خان کو چاہئے کہ اسے تسلیم کرتے ہوئے اپوزیشن کو بھی غلطی سے روکیں۔حامد میر نے مشورہ دیا کہ عمران خان قومی اسمبلی یا کسی عوام جلسے میں کہہ دیں کہ 2014ء میں ہم نے اس لیے دھرنا دیا کہ ہمارے فلاں فلاں مطالبات تھےاور ہم سے غلطی ہوئی اور غلط کام کو بنیاد بنا کر آپ بھی قدم نہ اٹھائیں-

بلکہ ہمارے ساتھ مذاکرات کریں۔انہوں نے کہا کہ اگر وزیراعظم ایسا کرتے ہیں اور مولانا فضل الرحمن نے انکار کر دیا تو عمران خان کو اخلاقی برتری حاصل ہو جائے گی۔حامد میر نے کہا کہ اگر مولانا مذاکرات کی حکومتی پیشکش کے باوجود ضد پر اڑ جاتے ہیں تو لوگ کہیں گے کہ مولانا پرانے عمران خان بن گئے۔حامد میر نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان نے سب کچھ لکھ کر رکھا ہوا ہے کہ پہلے مرحلے میں کیا کرنا ہے اور بعد کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ وہ دھرنا لازمی دیں لیکن سیاسی جماعتوں کو پتہ نہیں کیوں سمجھ نہیں آ رہی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ حکومت فوری طور پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ سیاسی مذاکرات شروع کرے-

خیال رہے کہ جمیعت علمائےاسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پہلے 27 اکتوبر کو آزادی مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا تھا تاہم گذشتہ روز سربراہ جمیعت علمائے اسلام (ف) مولانا فضل الرحمان نے آزادی مارچ اور دھرنے کی تاریخ تبدیل کر دی اور کہا کہ آزادی مارچ 27 کو نہیں بلکہ 31 اکتوبر کو اسلام آباد میں داخل ہوگا۔ اُن کا کہنا تھا کہ ملک بھر سے قافلے ایک ہی وقت میں اسلام آباد میں داخل ہوں گے۔ جبکہ 27 اکتوبر کے جلوس کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے لیے نکالے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں