جماعت اسلامی شعبہ خواتین آزاد جموں وکشمیر کا 16اکتوبر کواسلام آباد میں کشمیر ریلی کے انعقاد کرنے کافیصلہ

اسلام آباد( سٹیٹ‌ویوز) جماعت اسلامی آزاد جموں وکشمیر کی چیئرپرسن شعبہ خواتین شمیم حنیف نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیرمیں خواتین اور بچیاں سب سے زیادہ ظلم کا شکار ہیں ،خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،بھوک افلاس ،ادویات کی کمی ،نوجوان بیٹوں کی شہادتیں اور خواتین کو کئی طرح کے لالچ دے کر ٹریپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ،عالمی ضمیر خاموش ہے ،حجاب اور لباس کے حوالے سے دنیا بھر میں کام کرنے والی تنظیموں کے لوگوں کو مقبوضہ کشمیر کی ماﺅں اور بہنوں پر جبری جنسی تشدد کیوں نظر نہیں آرہا ،ریڈ کراس،ہلا ل احمر ،انٹرنیشنل این جی اوز ،یواین کے ادارے مقبوضہ کشمیر کے 80لاکھ لوگوں کے لیے خوراک ،ادویات اور کرفیو کے خاتمے کے لیے کردار ادا کریں –

جماعت اسلامی شعبہ خواتین آزاد جموں وکشمیر نے دارلحکومت اسلام آباد میں مقبوضہ کشمیر میں خواتین اور بچیوں کے ساتھ ہونے والے ظلم وستم کے خلاف 16اکتوبر بروز بدھ بوقت 3بجے سہ پہر آبپارہ چوک اسلام آباد میں کشمیر ریلی کے انعقاد کرنے کافیصلہ کیا ہے جس میں آزادکشمیر بھر سے ہزاروں خواتین شرکت کریں گی جبکہ ریلی کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق کریں گے ،ان خیالات کااظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر نزہت بھٹی ڈپٹی سیکرٹری جنرل صوبہ پنجاب،کوثر پروین ڈپٹی سیکرٹری جنرل صوبہ پنجاب،رخسانہ غضنفر ڈپٹی سیکرٹری جنرل صوبہ پنجاب،نزہت ناطق سیکرٹری جماعت اسلامی ضلع راولپنڈی،شبانہ ایاز ،سعدیہ سیف،زیبا خالد،عظمیٰ ،زبیدہ و دیگر موجود تھیں –

اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کرفیوکو67دن گزر چکے ہیںہندوستان جنگی جرائم کا مرتکب ہورہا ہے اقوام متحدہ کی قراردادوں،انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہا ہے ،حکومت پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کرے کہ وہ ہندوستان کے خلاف قرارداد پاس کر کے اقوام متحدہ کے چارٹر کے چیپٹر7کے مطابق ہندوستان کے خلاف فوجی کارروائی کرے ،ہم مطالبہ کرتی ہیں کہ اقوام متحدہ اپنے وعدوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت فراہم کرے تا کہ وہ اپنے مستقبل کا فیصلہ رائے شماری کے ذریعے کریں ،اقوام متحدہ کے مبصرین کو مقبوضہ کشمیر میں رسائی دی جائے ،ہندوستان پر دباﺅ ڈالا جائے کہ وہ کرفیو اور تمام پابندیوں کو ختم کرے ،57اسلامی ممالک کے حکمران مقبوضہ کشمیر کی ماﺅں کو آزاد کروانے کے لیے مطلوبہ کردار ادا نہ کر سکے –

وزیر اعظم پاکستان عمران خان 80لاکھ کشمیری یرغمالیوں کو رہائی دلانے اور کشمیر کی آزادی کے لیے عملی اقدامات کریںکوئی ایسی بے تدبیری نہ کی جائے جس سے کشمیریوں کی آزادی کی منزل مزید طویل ہو،اس وقت مقبوضہ کشمیر میںمظالم کی انتہا ہے 15لاکھ قابض بھارتی افواج نے 41لاکھ خواتین کو گزشتہ 2ماہ سے زائد عرصے سے یرغمال بنا رکھا ہے ،10لاکھ بچیوں کو تعلیم سے محروم کیا ہوا ہے ،لاکھوں بچیاں سکولز اور کالجز جانے سے محروم ہیں ،قابض فوج خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہیں ،آزادکشمیر اور پاکستان کی خواتین اس مرحلے پر مقبوضہ کشمیر کی لاکھوں خواتین کے شانہ بشانہ ہیں ،جماعت اسلامی آزاد جموںو کشمیرخواتین ونگ 16اکتوبر کو اسلام آباد میں ” آزادی کشمیر خواتین مارچ “ کرےں گی ۔

مارچ کی قیادت امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق ،امیر جماعت اسلامی آزادکشمیر ڈاکٹر خالد محمود خان،سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان محترمہ دررانہ صدیقی کریں گی،،پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شمیم حنیف نے کہا کہ آزادکشمیر خواتین مارچ میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی نمائندہ خواتین سمیت تمام شعبہ زندگی سے خواتین ہوں گی۔انہوں نے کہاکہ عالمی برادری اورخواتین کے حقوق کی عالمی تنظیموں سے اپیل کرتی ہوں کہ خاموشی کے بجائے مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کو رکوانے میں اپنا کردار ادا کریں ۔یورپ ،امریکہ سمیت اسلامی ممالک میں خواتین کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع پر آگے بڑھیں اور 41لاکھ خواتین کو قابض ہندوستانی فوجیوں سے آزادی دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

قابض ہندوستانی فوج نے تحریک آزادی کشمیر کے دوران 11,144خواتین کی عصمت دری کی،22910خواتین بیوہ ہیں جن کے بارے میں معلوم نہیں ان کے شوہر زندہ ہیں یا شہید کر دئےے گے ہیں ،107,780یتیم بچوں میں نصف تعداد بچیوں کی ہے جن کو والد سے محروم کردیا گیا اور اکثریت بچیوں کی ہے جن کو خوفزدہ کیا جارہا ہے ۔اطلاعات کے مطابق 350سکولز کی بچیوں کو اغواکر لیا گیا ہے جن کے بارے میں کوئی معلومات نہیں کہ وہ کہیں ہیں اغواﺅں کا سلسلہ جاری ہے ۔مقبوضہ کشمیر کی ماﺅں بہنوں کی تحریک آزادی کشمیر میں خدمات قابل تحسین ہیں اور تاریخ کا سنہر ی باب ہیں پاکستان اور آزادکشمیر کی خواتین آزادی کے اس محاذ پر اپنی بہنوں کو تنہا نہیں چھوڑیں گی ۔

اس موقع پر میں تمام کشمیری خواتین سے اپیل کرتی ہوں کہ مقبوضہ کشمیر کی خواتین کی خاطر نکلیں اور 16اکتوبر کو ”آزادی کشمیر خواتین مارچ “میں شریک ہو کر مظلوم کشمیری خواتین کی آواز کو عالمی اداروں تک پہنچانے کا ذریعہ بنیںاور اپنے حکمرانوں کو بھی کرفیو میں مبتلاخواتین کے لیے عملی اقدامات پر مجبور کریں۔ان شااﷲ 16اکتوبر آزادی کشمیر خواتین مارچ میں ہزاروں خواتین شرکت کریں گی

اپنا تبصرہ بھیجیں