نقطہ نظر/نعیم مسعود

اے سرچ کمیٹی ! وومن یونیورسٹی باغ — فار وومن ہی کیا؟

تحریر:نعیم مسعود
سوری ! پچھلے دنوں بھی میں نے اپنے “جنگ” کالم میں عرض کیا تھا کہ :

” آزادکشمیر کی ہائرایجوکیشن عدالتوں سے نکلے تو برادری ازم کے ہتھے چڑھ جاتی ہے. ”

یہ ایک المیہ ہے , بہرحال سیاق و سباق یہ تھا کہ ——

“جہاں تک یہ بات کہ جامعات معیشت کے بے رحم تھپیڑوں کی زد میں ہیں , وہاں ایک بات یہ بھی کہ جامعات نے معیشت کو بےرحم تھپیڑوں سے بچانے کی کوشش بھی کب کی ؟ ایک وائس چانسلر یونیورسٹی تقریباً ساڑھے چھ لاکھ باقاعدہ ماہانہ تنخواہ اور الاؤنسز ڈال کر دس لاکھ ماہانہ سے زیادہ میں پڑتا ہے تو بڑی جامعات کے کتنے وائس چانسلرز نے یونیورسٹی بیسڈ اینٹرپرنیورشپ ایکوسسٹم (U-BEEs) کو فروغ دینے میں عقل سلیم کا سہارا لیا؟ حالانکہ ڈاکٹر طارق بنوری نے چئیرمین ایچ ای سی کا چارج لیتے ہی یونیورسٹیوں کو کہا کہ انٹرپرنیورشپ کی جانب قدم بڑھائیں اسی میں بقا ہے. امریکی یونیورسٹیاں اسی پر انحصار کرتی ہیں. لیکن قصور حکومتوں کا بھی ہے کہ جن یونیورسٹیوں کو کئی ماہ مستقل وی سی ہی نہ ملے گا تو ان کو دوبارہ اٹھنے میں کئی سال لگیں گے ,حال ہی میں جنوبی پنجاب کی ایک یونیورسٹی کا اسی حکومت میں حشر نشر ہوا , پچھلی حکومت میں وسطی پنجاب کی ایک گروئنگ یونیورسٹی کے ساتھ ایسا ہوا . یونیورسوں کے نام لئے بغیر بتادوں کہ, پروچانسلر پنجاب نے ان دونوں کے بگاڑ کے مابین مقابلہ ضرور سمجھتے مگر حل نکالنے سے قاصر ہیں. کے پی والے پریشان ہیں کہ پچھلے اسی پارٹی کے دورحکومت میں ہائر ایجوکیشن کا پرسان حال تھا, اب نہیں . سندھ کے ایچ ای سی کے دوبارہ بن جانے والے چیئرمین ڈاکٹر عاصم احتسابی نشیب و فراز سے نکلیں تو کچھ کرسکیں. بلوچستان کا اللہ ہی حافظ ہے اور آزادکشمیر کی ہائرایجوکیشن عدالتوں سے نکلے تو برادری ازم کے ہتھے چڑھ جاتی ہے. سو یونیورسٹیوں کی معاشی بدحالی 75 فیصد وائس چانسلرز اور 25 فیصد حکومتی قصور ہے. ہاں وی سی کے 75 فیصد میں 25 فیصد پروفیسرز حصہ دار ہیں. ”

حیران کن بات یہ کہ, باغ وومن یونیورسٹی کیلئے سرچ کمیٹی کو انٹرویو کئے کم و بیش ایک ہفتہ ہوگیا. انٹرویوز وائس چانسلر کے ہیں, کسی نائب قاصد کے نہیں کہ انہیں اخفا اور صیغہ راز کے پیمانے بروئے کار لائے جائیں؟ قسمیں کھائی جائیں کمزور لوگوں کی طرح ! کس گڑ بڑ کا خوف ہے ؟ پھر “سرچ” کمیٹی کو رپورٹ بھی چانسلر آفس بھیجنی تھی گمان غالب ہے جو اسی دن بھیج دی ہوگی. مطلب یہ کہ سب “اوپن سیکرٹ” ہوگیا . چھپایا کیا جارہا ہے ؟ کوئی بچوں کی چھپا چھپائی “گیم” ہے یا مشکوک عمل؟ کمزوری ہے یا کسی کا خوف ؟؟ ہنوز 5 نام سامنے نہیں.!

” سرچ ” کمیٹی تھی کوئی “ریسرچ” کمیٹی تو تھی نہیں کہ, مائیکروسکوپک یا مالیکیولر بائیولوجیکل تحقیق یا “تحقیقات” زیر عمل ہوں …. پہلا مرحلہ ہی سسپنس بنادیا ہے,تو اگلا قصہ کیا ہوگا؟ جسٹس ڈی لے یا خواہ مخواہ کام لٹکانا اس کمپیوٹر ایج میں بھی اتھاریٹیٹو رویے کی ادا ٹھہری (انا للہ وانا الیہ راجعون).

اجی , 5 نام سینٹ کو بھیجنے تھے, بعد میں سینٹ نے ان میں سے 3 نام صدر کشمیر /چانسلر کو بھیجنے ہیں جو اپنے صوابدیدی اختیار سے ایک نام سلیکٹ کریں گے. . معاملہ وی سی کا ہے , اور مسئلہ باغ وومن یونیورسٹی کا, سیدھی سی کہانی ہے وومین سرچ کرو , اور لگاؤ گر وومن یونیورسٹی بنائی ہے , پنجاب ہی کو کاپی کرنا ہے نا, پنجاب ہی کو کرنا چاہیے. سرچ کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر نجمہ نجم ایک سابق وائس چانسلر, دو ممبران چناؤ کمیٹی, کے پی کے, کی خواتین یونیورسٹی کی موجودہ وائس چانسلرز ڈاکٹر رضیہ اور ڈاکٹر نورجہاں . ڈاکٹر ہما بقائی (کراچی, آئی بی اے) کیجئے نا …. خواتین کو قومی دھارے میں شامل !!! …. جو ان کا حق بنتا ہے …. ! مسئلہ کیا ہے ؟ ( وَفِي أَنفُسِكُمْ أَفَلَا تُبْصِرُ‌ونَ ﴿الذاريات: ٢١﴾ اور خود تمہاری ذات میں بھی(نشانیاں ہیں)، تو کیا تم دیکھتے نہیں ہو ؟ )

سرچ کمیٹی میں دیگر ڈاکٹر معصوم یٰسین زئی (ریکٹر انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی) ایک سابق سیکرٹری , صدر اور ہائر ایجوکیشن سیکرٹریز بھی شامل ہیں . اتنی “دھاسو” اور جمبو سائز کمیٹی اور “سرچ” اخفا میں …. بھئی واہ !!!

ڈاکٹر ریحانہ اصغر, ڈاکٹر عائشہ سہیل, ڈاکٹر فرخندہ منظور ڈگل نے خواتین میں سے کوالیفائی کیا ہے. …. سو سپرد کیجئے کسی ایک کے …. خواتین یونیورسٹی ہی ہے نا بھئی؟

بائی دے وے ہم تو سمجھتے ہیں کہ, ایمانداری سے پروفیشنل “سرچ” کرکے اسے آفر دینی چاہیے…. یہی سرچ ہوتی ہے ماضی میں پنجاب یونیورسٹی میں ابن رسا, ڈاکٹر رفیق اور کراچی میں ڈاکٹر صدیقی وغیرہ کیا زبردست سرچ تھی. 2010 سے قبل سرچ ہی تھی اور علمی و تحقیقی کامیابی و کامرانی بھی!

جانے میرپور یونیورسٹی آزاد کشمیر کیلئے معروف ماہر تعلیم و محقق سابق وی سی جامعہ زرعیہ فیصل آباد ڈاکٹر اقرار کا کیا بنا ؟ (واللہ اعلم بالصواب)

…. جاتے جاتے ایک عرض اور , کہ “عقل والوں کیلئے نشانیاں ہیں” ڈاکٹر خواجہ فاروق جیسے ریفارمرز اور زود فہم لوگوں کیلئے تو ویسے ہی آفر بنتی ہے !!

اپنا تبصرہ بھیجیں