ایف اے ٹی ایف کا پاکستان کے حوالے سےبڑا اعلان

پیرس (نیوزڈیسک) ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی طور پر پاکستان کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق پیرس میں ایف اے ٹی ایف کا اجلاس جاری ہے۔حکومتی وزیر حماد اظہر وفد کے ہمراہ اجلاس میں شریک ہیں۔ اجلاس میں پاکستان کی نئی نیشنل رسک اسیسمنٹ رپورٹ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔پاکستان نے 150صفحات پر مشتمل رپورٹ ایف اے ٹی ایف کو بھجوائی تھی۔ رپورٹ میں 3 اہم پہلوؤں سے متعلق رسک اسیسمنٹ کی گئی۔

رپورٹ میں ٹیرر ازم اور ٹیرر ازم فنانسنگ کے خطرات کا تعین کیا گیا۔ایف اے ٹی ایف نے ابتدائی طور پر پاکستان کے اقدامات کو تسلی بخش قرار دے دیا۔ ۔زرائع وزارت خزانہ کے مطابق سفارشات کی صورت میں باقاعدہ عمل در آمد شروع کر دیا جائے گا۔اگلے دو دن پاکستان کی طرف سے ایکشن پلان پر عملدرآمد کے نکات زیر غور آئیں گے۔ خیال رہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کا اجلاس پیرس میں جاری ہے۔ پاکستان اور ایف اے ٹی ایف کے درمیان باضابطہ مذاکرات آج 14 اکتوبر سے پیرس میں شروع ہوئے ہیں ۔

18 اکتوبر تک جاری رہنے والے اجلاس میں دنیا بھر کے 200 سے زائد ممالک اور عالمی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔ اجلاس کے ایجنڈے میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے سمیت کئی نکات شامل ہیں۔ اجلاس میں پاکستان کے وفد کی سربراہی وفاقی وزیر اقتصادی امور حماد اظہر کررہے ہیں۔فنانشل ایکشن ٹاسک فورس میں منی لانڈرنگ کی روک تھام اور دہشت گردی کی مالی امداد کے خاتمے کے لیے کیے گئے-

پاکستان کے اقدامت پر غور کیا جائے گا۔ پاکستان کے اقدامات سے ایف اے ٹی ایف کے مطمئن ہونے سے اسے گرے ایریا کی فہرست سے خارج کرنے کی کارروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس 18 اکتوبر تک جاری رہے گا جس میں 205 ممالک اور عالمی تنظیمیں شرکت کریں گی۔ ذرائع کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ پاکستان کا نام گرے ایریا سے نکالا جائے گا یا بلیک لسٹ میں ڈال دیا جائے گا۔ بتایا گیا ہے کہ گر پاکستان کے اقدامات سے ایف اے ٹی ایف مطمئن ہوا تو اسے ’گرے ایریا‘ کی فہرست سے خارج کرنے کی کاروائی کا آغاز ہو سکتا ہے۔

‘دیگر صورت میں ایف اے ٹی ایف ناکافی پیش رفت کی وجہ سے پاکستان کے بارے اگلی سطح کے اقدامات لینے کے بارے میں غور کرے گی۔ اس کے علاوہ روس اور ترکی کے ان اقدامت پر بھی غور ہو گا جو انھوں نے منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی امداد روکنے کے لیے کیے ہیں۔ پاکستان، ایران اور چند دیگر ممالک جو موجودہ عالمی مالی نظام کے لیے ‘خطرہ’ ہیں، ان کے اقدامات کی پیش رفت پر 14 اور 15 اکتوبر کو غور کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں