ساری زندگی مسکراہٹیں بکھیرنے والااپنی میت پر بھی لوگوں کو ہنسنے پرمجبورکرگیا

ایڈنبرا(نیوزڈیسک) آپ نے بات بات پر لطیفے اور چٹکلے سنا کر ہنسانے والے لوگ تو بہت دیکھے ہوں گے، لیکن اسکاٹ لینڈ کے ’شے بریڈلی‘ نے اپنے مرنے کے بعد، اپنی ہی تدفین میں آنے والوں کے ساتھ مذاق کرکے انہیں بے اختیار ہنسنے پر مجبور کردیا۔

شے بریڈلی کو اُن کے ملنے والے ایک ہنس مکھ اور بزلہ سنج شخص کی حیثیت سے جانتے ہیں، جو مشکل سے مشکل حالات میں بھی ہنسنے مسکرانے اور دوسروں کو ہنسانے سے باز نہیں آتے تھے۔ ان کی ساری زندگی مسکراہٹیں بکھیرتے ہوئے گزری، یہاں تک کہ بڑھاپے میں بھی، آٹھ پوتے پوتیوں اور نواسے نواسیوں کے باوجود، وہ اپنی اسی روِش پر قائم رہے۔

کچھ روز پہلے ان کا انتقال ہوگیا اور عزیز و اقارب ان کی تدفین میں شریک ہونے کےلیے پہنچ گئے۔ ابھی قبر میں ان کا تابوت اُتارا ہی جارہا تھا کہ قبرستان میں شے بریڈلی کی آواز گونجی: ’’ہیلو! کوئی ہے؟ مجھے باہر نکالو! یہاں بہت اندھیرا ہے!‘‘

یہ آواز سن کر آخری رسومات میں آنے والے لوگ پہلے تو ڈر گئے لیکن فوراً ہی انہیں احساس ہوگیا کہ یہ پہلے سے ریکارڈ کی گئی آواز ہے؛ اور پھر سب بے اختیار قہقہے لگا کر ہنسنے لگے۔ یہ ویڈیو ان کی بیٹی اینڈریا بریڈلی نے فیس بُک پر شیئر کرائی ہے جسے اب تک پندرہ لاکھ سے زیادہ افراد دیکھ چکے ہیں۔ اسی پر مبنی ایک ٹی وی رپورٹ یو ٹیوب پر بھی موجود ہے:

اس واقعے کے بارے میں شے بریڈلی کی بیوہ نے بتایا کہ شے بریڈلی پچھلے چند سال سے بہت بیمار رہنے لگے تھے اور انہیں اندازہ ہوگیا تھا کہ اب ان کے پاس زیادہ وقت نہیں رہا ہے۔ مگر وہ چاہتے تھے کہ مرنے کے بعد بھی کم از کم ایک مرتبہ اپنے پیاروں کے ہونٹوں پر ہنسی بکھیرتے جائیں۔

لہذا انہوں نے ایک سال پہلے ہی اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر یہ سارا انتظام، خفیہ طور پر کرلیا تھا اور اپنی آواز بھی ریکارڈ کروا دی تھی۔ گھر میں بھی صرف چند ہی لوگوں کو اس بارے میں پتا تھا لیکن شے بریڈلی کی آخری خواہش کا احترام کرتے ہوئے اسے راز رکھا گیا۔

’’وہ ساری زندگی الگ الگ طرح سے لوگوں کو ہنساتے رہے۔ مجھے ان کے چلے جانے کا غم ہے لیکن خوشی اس بات کی ہے کہ انہوں نے مرنے کے بعد بھی اپنے آخری مذاق سے دوستوں کو ہنسنے پر مجبور کردیا،‘‘ شے بریڈلی کی بیوہ نے بتایا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں