دھرنوں کی سیاست

تحریر: سید اویس کاظمی

14اگست 2014ء کو پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آ باد کو یرغمال بنا کر ڈی چوک پر دھرنوں کی سیاست کا آغاز کیا ۔ اُس دھرنے کی طوالت 126دن پر محیط ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کا اُس وقت کی حکومت سے یہ مطالبہ تھا کہ چار حلقے کھولے جائیں کیونکہ پاکستان تحریک انصاف یہ سمجھتی تھی کہ الیکشن میں دھاندلی کر کے ن لیگ کو اقتدار میں لایا گیا ہے۔ 2014ء میں قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف تیسری بڑی جماعت تھی۔ جب پی ٹی آئی کے اس مطالبے کو نہ مانا گیا تو پی ٹی آئی کی قیادت نے اسلام آباد میں ڈی چوک پر دھرنا دیا جو 126دن تک جاری رہا ۔

دھرنے کا اختتام اُس وقت ہوا جب پشاور میں آرمی پبلک سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کیا اور وہاں پر 130سے زائد بچوں کو شہید کر دیا۔ پی ٹی آئی کے صدر عمران خان اور اُس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دھرنے کو ختم کر کے دہشتگردی سے مل کر لڑنے کا فیصلہ کیا۔

جب پی ٹی آئی ڈی چوک پر دھرنا دے رہی تھی تواُس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت تحریک انصاف کو یہ باور کروا رہی تھی کہ دھرنوں سے مسائل کا حل نہیں نکلتا بلکہ دھرنوں سے جمہوریت ڈی ریل ہوتی ہے۔ مسائل کا حل صرف پارلیمنٹ کے اندر رہ کر ہی نکا لا جاسکتاہے۔
2018ء میں پی ٹی آئی اقتدار میں آئی تو روایت کو اپناتے ہوئے اپوزیشن کی جماعتوں نے دھاندلی کا واویلا شروع کر دیا جس طرح 2014ء میں پاکستان تحریک انصاف کررہی تھی ۔

پی ٹی آئی کی روایت کو اپناتے ہوئے جے یو آئی (ف) کے سربراہ فضل الرحمان نے27 اکتوبر کو لانگ مارچ اور 31اکتوبر کو اسلام آباد میں دھرنا دینے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے مولانا کے لانگ مارچ کی حمایت جبکہ دھرنے کی مخالفت کا فیصلہ کیا ہے۔جبکہ ن لیگ کوئی واضح لائحہ عمل نہ دے سکی۔ نواز شریف نے مولانا کے دھرنے اور لانگ مارچ کی حمایت کا اعلان کیا، شہباز شریف اور دیگر ن لیگ کی قیادت نے دھرنے کی مخالف کی ہے۔

جس چیز کی طرف میں آپ کی توجہ مبذول کروانا چاہتا ہوں وہ یہ کہ دھرنوں سے پاکستان کی عام عوام کو کیا فائدہ اور نقصان پہنچتاہے۔
2014ء میں جب پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں دھرنا دیا تو اُس سے اسلام آباد کے شہریوں کی زندگی اجیرن بن گئی تھی۔چین کے صدر کا بہت اہم دورہ ہونا تھا جو کہ نہ ہوسکا۔ کنٹینروں پہ تقریروں سے جب کچھ نہ ہوا تو پی ٹی آئی کے غنڈوں نے پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ کردیا۔ املاک کو نقصان پہنچایا گیا ۔ سڑکوں کو بلاک کیا ۔ کنٹینر پر کھڑے ہوکر عمران خان بڑے بڑے وعدے کرتے رہےکہ جب میں اقتدار میں آؤں گا تو کوئی بے روزگار نہیں رہے گا، میرٹ کو پامال نہیں کیا جائے گا۔ 1کروڑ نوکریاں اور 50لاکھ گھردوں گا۔ پولیس کی کارکردگی کو بہتر کریں گے۔

عمران خان کو اقتدار میں آئے ہوئے ایک سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اُن کا وعدہ کے بے روزگار کوئی نہیں رہے گا۔ وہ کسی کو روزگار تونہیں دے سکے ہاں لاکھوں لوگوں کے روزگار چھینے میں اپنا کردار ادا کیا ہے ۔ عوام کو گھر تونہیں دیے ہاں اُن غریب عوام سے چھتیں ضرور چھینی ہیں۔ پولیس کی بہتری کا جہاں تک تعلق ہے تو ڈی پی او پاکپتن اور آئی جی اسلام کے واقعات ہمارے سامنے ہیں ۔ یہ توصرف چند واقعات ہیں جو میں نے پیش کیے ہیں یہ آٹےمیں نمک کے برابر بھی نہیں۔ عوام کو جس طرح بےروزگار اور غریب سے غریب تر کیا جارہا ہے اُس کی مثال نہیں ملتی۔

اب بات کرتے ہیں مولانا کے دھرنے پر۔۔۔۔۔!
مولانا فضل الرحمان 18سال پارلیمنٹ اور 10سال کشمیر کمیٹی کے چیئر مین اور حکومتوں کے اتحادی بھی رہے۔ جب تک وہ اقتدار میں رہے اور عوام کے پیسوں سے مزے لیتے رہے تب تک نہ توانھوں نے کبھی یہ کہا کہ دھاندلی ہوئی ہے احتجاجی مارچ اورنہ کبھی دھرنا دیا۔ کیونکہ ان کا مقصد صرف اقتدار میں آؤ اور عوام کے پیسوں سے مزلے لیتے رہو۔

اب عوام نے انھیں مسترد کیا اور الیکشن میں ہار گے تو اب اُن کو دھاندلی ،غربت ،بےروزگاری اور حکومت چور لگنے لگی اور حکومت کے خلاف مارچ اور دھرنے کا اعلان کیا۔

جب پیپلز پارٹی اور ن لیگ عوام کو قرضوں میں ڈبو رہی تھی یہ پارلیمنٹ میں اُن کا ساتھ دے رہے تھے جب ان ہی جماعتوں کے رہنماء پیسے چوری کر کے باہر لے جارہےتھے۔ تب تو یہ اُن کا ساتھ دے رہے تھے۔ جو بھی اقتدار سے باہر ہوتاہے اُس کو دھرنا یادآجاتاہے۔ پی ٹی آئی جب دھرنا دی رہی تھی تو اس کا بھی یہی موقف اور ڈیمانڈ تھی جو آج مولانا کی ہے ۔ ایک سال سے زائدکا عرصہ ہو چُکا کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔ جنہوں نے پی ٹی آئی کے دھرنے کا ساتھ دیا وہ آج پچھتا رہے ہیں ۔

اب بھی جو مولانا کے مارچ اوردھرنے کے حامی یا اس میں شرکت کا ارادہ رکھتے ہیں میری اُن سے گزارش ہےکہ نہ تومولانا اور نہ ہی اپوزیشن کی دوسری جماعتیں آپ کے بارے میں سوچ رہی ہیں ۔ وہ تو بس صرف اپنے اقتدار کے لیے مارچ اور دھرنے دینے کا اعلان کررہی ہیں اگر انھوں نے کچھ کرنا ہوتا تو وہ پچھلے چالیس سال سے برسرے اقتدار رہی ہیں تب کرتی اور آج ہم اس حالت میں نہ ہوتے۔

چین ہم سے بعد میں آزاد ہو ا اور آج دنیا کا معیشت کے اعتبار سے دوسر ا بڑا ملک ہے ۔ ہر جگہ آپ کو چین کی چیزیں نظر آئیں گی کیونکہ وہا ں کے حکمرانوں نے اپنے لیے کم اور عوام کے لیے زیادہ کام کیا ۔حکمرانوں کے ساتھ ساتھ ہم بھی قصور وار ہیں کیونکہ ہم ہی اُن کو ووٹ دے کر ایوانوں میں لاتے ہیں اور پھر وہ ہمارا استحصال کرتے ہیں ۔ خدارا دھرنوں کی سیاست کا خاتمہ کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔کیونکہ دھرنوں سے عوام کو نقصان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ملتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں