نقطہ نظر/سید سلیم گردیزی

22اکتوبر مظفرآباد پر قبائلی حملہ……افسانہ اور حقیقت!

22اکتوبر 1947کا واقعہ تاریخ تحریک آزادی کشمیر کا ایک متنازعہ باب ہے۔بھارت اور اور کے ہمنوا اس واقعہ کو مہاراجہ ہری سنگھ کی جانب سے ریاست کے بھارت سے الحاق کا جواز بناکر پیش کرتے ہیں جبکہ پاکستانی موقف یہ ہے کہ کشمیری مسلمانوں پر ڈوگرہ مظالم کے خلاف قبائلی عوام کا یہ ایک فطری ردعمل تھااور وہ اپنے مظلوم کشمیری مسلمانوں کو ڈوگرہ حکومت کے مظالم سے نجات دلانے آئے تھے۔

کشمیری مورخین اور محققین جن میں ”تاریخ کشمیر“ کے مصنف سید محمود آزاد، ”کشمیر آزادی کی دہلیز پر کے“مصنف جناب غلام احمد پنڈٹ اور دیگر شامل ہیں، ان کا موقف زیادہ قرین حقیقت ہے کیونکہ جناب غلام احمد پنڈت ان واقعات کے عینی شاہدہیں جبکہ سید محمود آزاد نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مظفرآباد میں ہی گزارا ہے اور اس واقعہ کے حوالے سے تمام تر تحریری مواد اور چشم دید گواہوں کے بیانات کو انہوں نے ایک مورخ اور محقق کی حیثیت سے تحقیق کی کسوئی پر پرکھا ہے۔

مظفرآباد میں ہندو اور سکھ تعداد میں مسلمانوں سے اگرچہ کم تھے لیکن جیساکہ 1873 کے سرکاری گزئیٹر کے مطابق مسلمانوں اور ہندوؤں کا تناسب شہر میں 5:7کا بیان کیا گیا ہے۔اغلب ہے کہ 1947 میں بھی یہی تناسب برقرار رہا ہوگا(یہ تناسب صرف شہری آبادی کا ہے، دیہی علاقوں میں مسلمان آبادی نوے فیصد سے زائد تھی تاہم وہ نسل در نسل ہندو ساہوکاروں کے سود درسود کے پھندے میں گرفتار تھے) شہر میں مسلمان معمولی عددی اکثریت کے باوجود ہندوؤں کے سامنے دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت رکھتے تھے کیونکہ کاروبارزیادہ تر ہندوؤں کے پاس تھا جبکہ مسلمان زیادہ تر مختلف پیشوں سے وابستہ تھے مثلاً جو لاہے، شال باف، تیلی، لوہار، کمہار، ترکھان وغیرہ۔

مسلمانوں میں سے کچھ گھرانے متمول اور صاحب حیثیت بھی تھے لیکن ہندوؤں کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم تھی۔جبکہ ہندو زیادہ تر تاجر اور ساہوکار تھے جنہیں مسلمانوں پر معاشی بالادستی کے ساتھ ساتھ سرکار کی سرپرستی بھی حاصل تھی۔مظفرآباد کے مسلمان سیاسی طور پر بھی اس قدر متحرک نہ تھے جس قدر جموں، پونچھ اور دوسرے علاقوں میں تھے۔یہاں کی مسلم سیاست بھی وادی کی طرح مسلم کانفرنس اور نیشنل کانفرنس میں منقسم تھی۔عوام کی غالب اکثریت اور قیادت کا ایک حصہ اگرچہ مسلم کانفرنس کے نظریئے کے حامی تھے تاہم ایک بااثر طبقہ نیشنل کانفرنس سے وابستہ تھا جس کے باعث مسلم سیاسی کافی حد تک کمزور تھی جبکہ ہندو اور سکھ کامل یکسوئی کے ساتھ ڈوگرہ سرکارکے وفادار اور خیرخواہ تھے۔یہاں کے ہندوؤں پر آرایس ایس،مہاویردل اور ہندو مہاسبھاکے گہرے اثرات تھے۔

شہر کی اس قلیل سی آبادی میں ہندو انتہا پسندوں کے اثرورسوخ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ 1946 میں انتہا پسند تنظیم ویردل نے سالانہ مرکزی جلسہ کے لیے مظفرآباد کو منتخب کیا جس میں ہندوستان بھر کے سرکردہ مہاسبھائی لیڈروں ڈاکٹر مونجے، ڈاکٹر کھاپرے اور ویرساورکرنے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی اشتعال انگیز تقاریر کرکے ہندو نوجوانوں کو تشدد پر اکسایا تھا۔ اس قسم کی اشتعال انگیز سرگرمیاں روز کا معمول تھیں۔

مظفرآباد اپنے محل وقوع کے اعتبار سے زبردست اہمیت کا حامل تھا کیونکہ یہ پاکستان کی سرحد پر راولپنڈی سے سرینگر جانے والی قومی شاہراہ پر واقع تھا۔اس شہر کو ڈوگرہ سرکار کے لیے محفوظ بنانا ڈوگرہ حکومت کی اولین ترجیح تھی جس کے لیے یہاں سے مسلم آبادی کا انخلاء اس حکمت عملی کا لازمی حصہ تھا۔سرینگر کے معروف صحافی، مصنف اور محقق جناب پی جی رسول نے اپنی کتاب ”مسئلہ کشمیر کی تاریخی اصلیت“ میں ڈوگرہ حکومت کے سرکاری ریکارڈ کی روشنی میں پاکستان کی سرحد کے ساتھ دفاعی پٹی قائم کیئے جانے کی حکمت عملی کا انکشاف کیا ہے جس کے مطابق ڈوگرہ فوج، ریاستی پولیس و انتظامیہ اور مسلح ہندواور سکھ تنظیموں کے ذریعے اس حفاظتی پٹی سے مسلمانوں کا صفایا کیا جانا مطلوب تھا تاکہ پاکستان کی جانب سے کسی قسم کی ممکنہ دراندازی کو روکا جاسکے اس حکمت عملی میں پاکستان کی سرحد سے ملحقہ شہروں، قصبات اور دیہات کے مسلمانوں کو غیر مسلح کرنا، انہیں خوف و دہشت کا ماحول پیدا کرکے علاقے سے پاکستان کی جانب نقل مکانی پر مجبور کرنا اور اگر انخلاء پر تیار نہ ہوں تو قتل عام کے ذریعے ان کا قلع قمع کرنا شامل تھا۔

اس حکمت عملی کے تحت پاکستان سے ملحقہ سرحدی علاقوں میں ڈوگرہ فوج کی نفری بڑھادی گئی اور مغربی پاکستان سے نقل مکانی کرنے والے ہندو اور سکھ انتہا پسند تنظیموں کے مسلح جھتے ان علاقوں میں آن پہنچے۔مظفرآباد ان کا خصوصی ہدف تھا۔مظفرآباد کے مسلمانوں سے ہر قسم کا اسلحہ ضبط کرلیا گیا جبکہ ہندو اور سکھ تربیت یافتہ مقامی و غیر مقامی نوجوانوں کو مسلح کردیا گیا۔یہ مسلح نوجوان روزانہ مارچ پاسٹ کرتے، اسلحہ لہراتے اور کھلے بندوں مسلمانوں کو قتل عام کی دھمکیاں دیتے تھے۔مسلمان خوفزدہ ہوکر اپنے گھروں میں دبکے ہوئے تھے اور اپنے بھیانک انجام کے منتظر تھے۔

مشرقی پنجاب اور دیگر علاقوں سے مسلمانوں کے قتل عام اور جبری انخلاء سے یہ بات اظہرمن الشمس ہوچکی تھی کہ اگلی باری کشمیری مسلمانوں کی ہے۔باؤنڈری کمیشن کی طرف سے دھاندلی کے ذریعے گورداسپور کو بھارت میں شامل کرکے کشمیر تک بھارت کو زمینی رسائی دیئے جانے سے یہ بات عیاں ہوگئی کہ بھارت ہر قیمت پر کشمیر پر قبضہ کرنا چاہتا ہے اور مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ کو اس منصوبے میں بھارت کی پشت پناہی حاصل تھی۔

مسلم لیگ صوبہ سرحد کے راہنما خان عبدالقیوم خان جن کا تعلق کشمیر سے تھا اور جو کشمیر کے حالات پر گہری نظر رکھتے تھے، نے قبائلی زعماء کو مسلمانان کشمیر کی مدد کے لیے آمادہ کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ابتداً قبائلی عمائدین نے کشمیر پر حملے کے لیے عید کے بعد کا وقت مقرر کیا تھا لیکن زعمائے مظفرآباد کو اپنے ذرائع سے اطلاع ملی کہ ہندوؤں کا منصوبہ عید کے اجتماع پر یکبارگی حملہ کرکے مسلمانوں کا صفایا کرنے کا ہے اس لیے عید کے بعد کا انتظار تباہ کن ہوسکتا تھا۔لہذا زعمائے مظفرآباد کا ایک وفد قبائلی حملے کے منصوبہ سازوں کے پاس فریاد لے کر پیش ہوا کہ ممکن ہے جب آپ مظفرآباد پہنچیں تو وہاں پہلے ہی مسلمانوں کا صفایا ہوچکا ہواس لیے شیڈول میں تبدیلی کریں۔ مظفرآباد کے زعماء کی درخواست پر عید کے بعد کی بجائے 22 اکتوبر کی تاریخ مقرر ہوئی۔

مظفرآباد میں ڈوگرہ سرپرستی میں ہندوؤں اور سکھوں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام کا منصوبہ کوئی سربستہ راز نہیں تھا۔اس زمانے کے بزرگ اس صورت حال کے عینی شاہد ہیں اور وہ قیامت کے لمحات ان پر بیتے ہیں جن کا آج کی نسل تصور نہیں کرسکتی۔ مورخ کشمیر سید محمود آزاد جنہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ مظفرآباد میں ہی گزارا ہے اپنی کتاب”تاریخ کشمیر“ میں بیان کرتے ہیں:۔

”عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ (22اکتوبر کی صبح) جونہی گولیاں چلنا شروع ہوئیں مظفرآباد کے تمام ہندو اور سکھ مسلح ہوکر بازار میں نکل آئے۔ان کا خیال تھا کہ شاید نلوچھی گردوارہ کے سکھوں نے بجائے 25تاریخ کے 22تاریخ کو ہی حملہ کردیا ہے۔نلوچھی گردوارے میں ہندوؤں اور سکھوں کے مابین طے ہوا تھا کہ 25تاریخ کو مظفرآباد شہر پر حملہ کرکے تمام مسلمانوں کو ختم کردیا جائے گا۔اس مقصد کے لیے انہوں نے مختلف اطراف سے بندوقیں اور تلواریں لاکر آپس میں تقسیم کردی تھیں جس کی بھنک مسلمانوں کو پڑ چکی تھی“
جناب غلام احمد پنڈٹ سابق ایڈیشنل چیف سیکرٹری آزاد کشمیر جو مظفرآباد کے مقامی اور ان واقعات کے عینی شاہد تھے، اپنی کتاب ”کشمیر آزادی کی دہلیز پر“ میں لکھتے ہیں:۔

”قبائلی مجاہدین کشمیری مسلمانوں کی مدد پر آمادہ تھے اور نماز عید کے بعد جہاد پر روانگی کا فیصلہ کرچکے تھے مگر بقول حاجی لسہ جو میر مظفرآباد کے وفد نے استدعا کی کہ روانگی ہر صورت میں عید سے پہلے ہونی چاہیے کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ منصوبے کے مطابق ڈوگرہ حکومت کی درپردہ مدد سے سکھ اور ہندو اجتماعی طور پر مسلمانوں کا قتل عام کردیں گے لہذا اگر وہ اپنے عزائم میں کامیاب ہوگئے تو اس امداد کا مقصد فوت ہوجائے گا۔لہذا انہوں نے آپس میں مشورہ کیا اور کافی غور و فکر کے بعد کشمیری وفد کو چند قبائلی سرداروں کے ہمراہ جمرود اور ملحقہ دروں میں بھیج دیا تاکہ وہ قبائلی ملکوں سے براہ راست درخواست کریں اور انہیں بتائیں کہ ان وجوہ کی بناء پر کوچ کی تاریخ میں تبدیلی مطلوب ہے۔خوش قسمتی سے انہیں اس مقصد میں کامیابی ہوئی اور مظفرآباد آمد کی تاریخ 22اکتوبر مقرر ہوئی“۔

شہریان مظفرآباد کا یہ خدشہ بلاوجہ نہیں تھا۔ہندوؤں کی جانب سے مسلمانوں کے قتل عام کے منصوبے کو متعدد داخلی شہادتوں سے بھی تقویت ملتی ہے جن میں سے دوکاتذکرہ کافی ہوگا۔
پہلی شہادت مظفرآباد میں تعینات ڈوگرہ وزیر وزارت جسے آج کی اصطلاح میں ڈپٹی کمشنر کہا جاتا ہے، دونی چندمہتہ کی بیوی کرشنا کی کتاب میں درج بیان سے ملتی ہے لیکن پہلے دونی چند مہتہ اور اس کی پتنی کرشنا مہتہ کا مختصر تذکرہ ہوجائے۔

بھارتی پریس نے دونی چند مہتہ اور اس کی پتنی کو اپنا قومی ہیرو بنا کر پیش کیا ہے جس طرح انہوں نے پاکستان ائیرفورس کے ہاتھوں اپنا لڑاکا جہاز تباہ کروانے والے پائلٹ ابی نندن کو قومی ہیرو کا درجہ دیا ہے۔بھارت کو اس کا حق پہنچتا ہے لیکن بھارت کی بولی بولنے والے قوم پرستوں کا ایک حلقہ بھی انہیں آزادی کا دیوتا بنا کر پیش کررہاہے۔دونی چند مہتہ جموں وکشمیر پر میں ایک صدی سے مسلط ظلم و استبداد پر مبنی ڈوگرہ نظام کا نمائندہ تھا جو قبائلی مجاہدین کے ہاتھوں پہلے ہی مرحلے پر جہنم رسید ہوا۔اس کی بیوی کرشنا مہتہ(1993-1913) کشتوار کے کرنل رام کی بیٹی تھی جو لداخ کے گورنربھی رہے۔اس نے اپنی آپ بیتی ہندی زبان میں لکھی جس کا انگریزی ترجمہ A Survivors Story کے نام سے 1954 میں کلکتہ سے اور بعد میں 2005 میں دہلی سے شائع ہوا۔

کرشنا مہتہ یقینا ذاتی حوالے سے ایک المیہ سے گزری تھی لہذا اس کی تحریر میں ترشی کی وجہ سمجھ میں آتی ہے تاہم اس کی کتاب کے بین السطور میں ان حقائق کی نقاب کشائی ہوتی ہے جنہیں ہندو پریس اور ان کے سہولت کار ہمیشہ چھپانے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔کتاب کے مطابق کرشنا شوہر کی ہلاکت کے بعد ایک بیٹے اور چار بیٹیوں کو لے کر اپنی رہائش گاہ سے فرار ہوگئی اور مظفرآباد کے نواحی علاقوں خشکڑ، رنجاٹہ، بوتھا اور کھلہ میں مقامی مسلمانوں کے گھروں میں پناہ گزین رہی۔یہ مقامی مسلمانوں کا حسن سلوک تھا ورنہ جموں کی کسی مسلمان بیٹی کو کسی ہندو کی اس قسم کی پناہ نصیب نہ ہوسکی۔اس عرصہ میں اسے کھانے پینے اور رہائش کی مشکلات کا سامنا رہا کیونکہ مقامی غریب مسلمان تو مکئی کی روٹی اور ساگ لسی کھانے کے عادی تھے اور معمولی بچھونے پر سوجاتے تھے جبکہ وہ ایک امیر زادی تھی۔تاہم چند روز بعد جب دومیل میں ہندو پناہ گزینوں کے لیے کیمپ قائم کیا گیا تو وہ اس کیمپ میں آگئی۔اس کوپہلے اپنے سرکاری مکان میں رہائش فراہم کی گئی جو بطور وزیر وزارت اس خاندان کے زیر استعمال تھا۔قبائلی انتظامیہ اسے وہی خوراک فراہم کرتی تھی جو اس کو اور اس کے بچوں کو اپنے دور اقتدار میں میسر تھی اور وہی لباس انہیں فراہم کیا جاتا تھاجس کی وہ خواہش کرتے تھے۔

ایک اکیلی عورت بچوں کے ہمراہ اس مکان میں شائد محفوظ خیال نہ کرتی تھی لہذا اسے سلطانی مسجد کے امام مولوی عبدالرحمن کے گھر منتقل کردیا گیا۔اس حقیقت کے باوجود کے اس کا خاوند اس جنگ میں کام آیا تھا جس کا مداوا ممکن نہ تھا تاہم مقامی قبائلی انتظامیہ اور حکومت آزادکشمیر کی طرف سے اس کی ہر ممکن دلجوئی کی گئی۔مظفرآباد کے منتظم قبائلی کمانڈر کو اس نے اپنا منہ بولا بھائی بنایا ہوا تھا۔جب کمانڈر واپس اپنے علاقے میں جانے لگا تو کرشنا نے اسے راکھی باندھی اور ایک قیمتی شال اسے اپنی نشانی کے طور پر تحفے میں دی۔صدر حکومت جناب سردار محمد ابراہیم خان اس کے پاس اس کی خیریت دریافت کرنے اور اس کی ضروریات کا جائزہ لینے بنفس نفیس چل کرگئے۔

بعد میں قیدیوں کے تبادلے میں یہاں کے ہندو سکھ قیدیوں کو براستہ علی بیگ جموں بھیجا جانے لگا تو حکومت پاکستان نے اسے پیش کش کی کہ اگر وہ بھارت واپس جانے کا ارادہ ترک کردے اوریہیں مستقل رہائش اختیار کرلے تو اسے ایبٹ آباد میں شایان شان کوٹھی الاٹ کی جائے گی اور اس کے بیٹے کو بڑا ہونے پر اس کے انجہانی باپ کی جگہ تعینات کردیا جائے گا لیکن اس نے اس پیش کش کو شکریہ کے ساتھ مسترد کردیا اور اپنے وطن مالوف چلی گئی۔یہ انکشافات اس کی کتاب کے بین السطور میں موجود ہیں جبکہ جموں میں مسلمانوں پر جوبیتی وہاں رئیس الاحرار چوہدری غلام عباس کی بیٹی کو بھی نہیں بخشا گیا۔مظفرآباد سے تعلق رکھنے والے راجہ مظفر خان جو ریاسی میں بطور جج فرائض سرانجام دے رہے تھے، انہیں برسر عدالت ان کے ساتھی ہندو ڈپٹی کمشنر گوران سنگھ نے اپنے ہاتھ سے گولی مار کر شہید کردیا لیکن بھارت کے سہولت کار ان واقعات کا تذکرہ کرنے سے کنی کتراکر نکل جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں کرشنا مہتہ کے اس بیان کی طرف جو ڈوگرہ انتظامیہ کے مسلمانوں سے متعلق بھیانک عزائم کی گواہی دیتا ہے۔وہ لکھتی ہیں کہ 21اکتوبر کی رات مقامی فوجی کمانڈر پولیس کا ضلعی سربراہ ودیگر محکموں اور اداروں کے افسران ڈپٹی کمشنر کی رہائش گاہ پر دعوت میں مدعو تھے۔رات دیر تک بات چیت اور تبادلہ خیالات کا سلسلہ چلتا رہا۔صبح کرشنا مہتہ گولیوں کی آواز سن کر بیدار ہوئی۔اس نے اپنے پتی ڈپٹی کمشنر کو جگانے کی کوشش کی اور اسے بتایا کہ فائرنگ کی آواز آرہی ہے۔اٹھ کر صورت حال کا جائزہ لیں لیکن دونی چند مہتہ نے سنی ان سنی کردی اور کہا کہ ہمارے اپنے لوگ ہیں۔اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔کرشنا کہتی ہے کہ گولیوں کی آواز قریب سے قریب تر آتی جارہی تھی۔اس نے خاوند کو دوبارہ جگایا اور اس سے پوچھا کہ وہ کس طرح اطمینان سے سویا ہوا ہے ممکن ہے دشمن نے حملہ کردیا ہو؟ کیا اسے رات کو فوجی کمانڈر نے بتایا تھا کہ ہمارے بندے فوجی کارروائی یا مشق کریں گے۔کرشنا کے اصرار پر وہ اٹھا۔سونے کے لباس میں ہی سلیپر پہن کر پستول ہاتھ میں لے کر صورتحال کا جائزہ لینے باہر نکلا اور قبائلی مجاہدین کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔

ڈپٹی کمشنر دونی چند مہتہ کا اطمینان اور اصرار کہ ”یہ اپنے لوگ ہیں جو گولیاں چلارہے ہیں اس میں گھبرانے کی کوئی بات نہیں“ اس بات کا کافی ثبوت ہے کہ ڈوگرہ انتظامیہ نے مکمل منصوبہ بندی کررکھی تھی حتیٰ کہ ڈپٹی کمشنر بھی یہی سمجھا کہ ان کا منصوبہ بروئے کار آگیا ہے لیکن سب منصوبہ سازوں سے اللہ بہتر منصوبہ ساز ہے۔

دوسری شہادت مظفرآباد کے ہندوؤں اور سکھوں کا فوری ردعمل ہے۔جونہی گولیاں چلنے کی آواز آئی، مظفرآباد کے ہندو اور سکھ بندوقیں، کرپانیں، تلواریں اور برچھیاں لہراتے بازار میں نکل آئے اور جشن منانے لگے کہ اب مسلمانوں کا صفایا شروع کردیا گیا ہے کیونکہ وہ بھی ان گولیوں کا وہی مطلب سمجھے تھے جو ڈپٹی کمشنر دونی چند مہتہ سمجھا تھا۔وہ یہ سمجھے کہ نلوچھی اور دومیل کے ہندوؤں اور سکھوں نے منصوبے کے مطابق مسلمانوں کا قلع قمع کرنے کا عمل شروع کردیا ہے لیکن تھوڑی ہی دیر میں قبائلی مجاہدین قضائے مبرم بن کر ان کے سرپر پہنچ چکے تھے۔ان کے رنگ میں بھنگ پڑ گئی اور وہ بجھ کر رہ گئے۔یہ واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ ہندوؤں اور سکھوں نے ڈوگرہ انتظامیہ کے زیر سرپرستی مسلمانوں کے قتل عام کی تیاری مکمل کررکھی تھی لیکن قدرت کا فیصلہ نافذ ہوکر رہا۔

قبائلی مجاہدین 22اکتوبر 1947 کی صبح اذان فجر کے ساتھ ہی مسلمانان مظفرآباد کے لیے نجات دھندہ بن کر آئے۔آسمان سے باران رحمت برس رہی تھی اور فضا میں تکبیر کے نعروں کی گونج تھی۔سہ پہر تک یہ آپریشن مکمل ہوچکا تھا مجاہدین نے دوسرے دن جہلم ویلی روڈ پر سرینگر کی جانب پیش قدمی شروع کردی۔ہندوستان بھر کے ہندو پریس نے قبائلی مجاہدین کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر قتل عام اور لوٹ مار کی وہ داستانیں گھڑ گھڑ کر پھیلانی شروع کردیں کہ مسلم کاز سے ہمدردی رکھنے والے بھی اس پروپیگنڈے سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔قبائلی مجاہدین کوئی قرون اولیٰ کے مسلمان نہیں تھے اور نہ وہ کوئی منظم فوج تھے۔اکا دکا واقعات اس قسم کے جنگی ماحول میں وقوع پذیر ہوسکتے ہیں اور یہ کوئی اچھبنے کی بات نہیں لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پروپیگنڈے کے پیچھے وہ بھارتی لابی ہے جس کے اپنے ہاتھ لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔بھارت کی منظم فوج نے جس طرح جموں وکشمیر میں مسلمانوں کا اجتماعی قتل عام کیا ہے اور بھارت کی پروردہ وحشی جنونی تنظیموں آرایس ایس، بجرنگ دل، اکالی دل اور دیگر مسلح جتھوں نے جس طرح جموں میں لاکھوں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلی ہے، قبائلی مجاہدین کے ہاتھوں اسی طرح کے واقعات آٹے میں نمک کے برابر ہیں۔

بھارت کا پروردہ طبقہ بات کا بتنگڑ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔مثلاً بھارت نے شیخ عبداللہ کے قوم پرستوں کے ذریعے یہ جھوٹ پھیلایا گیا کہ قبائلیوں نے بلاتفریق ہندو مسلم خواتین کے زیور ہتھیانے کے لیے ان کے ناک اور کان کاٹے۔بھارت پریس کے اگلے ہوئے اس جھوٹ کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہوسکتا ہے کہ آج تک کسی ایک خاتون کو بھی بطور مثال پیش نہیں کیا جاسکا جس کی ناک یا کان قبائلیوں نے کاٹے ہوں۔بھارت کے سہولت کار قوم پرست بغیر کسی ثبوت کے جھوٹ پھیلانے میں مصروف ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ تمام تر بشری کمزوریوں کے باوجود قبائلی مجاہدین کشمیریوں کے محسن ہیں اور بقول غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کشمیر کے لوگ اپنے قبائلی بھائیوں کے احسان مند ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں