”جموں‌کشمیر چھوڑ دو تحریک” چلانے والے مظاہرین اور پولیس میں تصادم ، ایک شخص ہلاک متعدد زخمی اور گرفتار

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز، رپورٹنگ ٹیم)قوم پرست تنظیموں کے اتحاد (پی این اے) کے احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والے تصادم میں ایک شخص کی ہلاکت سمیت متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکاروں کے زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے دو درجن کے قریب مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔ مظفرآباد شہرمیں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہنگامے جاری ہی، پی این اے کے یہ مظاہرین اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے، پولیس نے رکاوٹیں ڈال کر انہیں روکنا چاہا تو مظاہرین مشتعل ہو گئے جسکی وجہ سے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اطلاعات کے مطابق نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات خان سمیت درجنوں کارکنان کو پولیس نے حراست میں بھی لے لیا ہے۔پولیس کے آنسو گیس سے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ ساتھ مظفرآباد کے مقامی صحافیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔جموں کشمیر پبلک رائیٹس پارٹی کے چیئرمین شہزاد خورشید راٹھور بھی پولیس کے آنسو گیس سے متاثر ہوئے. شہزاد خورشید نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کے اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر قراردیا ہے.

مظفرآباد سے سٹیٹ ویوز کے نامہ نگار کے مطابق قوم پرست تنظیموں کے اتحاد پی این اے کی کال پر گزشتہ رات آزادکشمیر کے مختلف شہروں سے کارکنان کی ایک بڑی تعداد مظفرآباد پہنچی تھی جہاں ان مظاہرین نے یونیورسٹی گراونڈ میں ایک بڑا اجتماع کیا اوربا اختیار اسمبلی اور خو مختار کشمیر کے نعرے بھلگائے اور آج دن کے وقت جب مظاہرین اپر اڈہ جمع ہوئے تو احتجاج میں شریک ‌سینکڑوں افراد جموں کشمیر کی مکمل آزادی، خودمختاری اور حقوق دینے کیلئے نعرے لگا رہے تھے

اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے والے رہنماوں میں چیئرمین پیپلز نیشنل الائنس راجہ ذوالفقار احمد، چیئرمین جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ، پی این اے کے سیکرٹری جنرل سردار لیاقت حیات خان، سپریم ہیڈ لبریشن فرنٹ رؤف کشمیری، مرکزی صدر این ایس ایف ابرار لطیف، سینئر وائس چیئرمین لبریشن فرنٹ راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ و دیگر کر رہے تھے۔

پی این اے کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 22 اکتوبر کی صبح گیارہ بجے یونیورسٹی گراؤنڈ سے احتجاجی مارچ کا آغاز کیا جانا تھا اور یہ احتجاجی مارچ اسمبلی سیکرٹریٹ تک جانا اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پی این اے کا مطالبہ تھا کہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ایک خودمختاراور با اختیار حکومت قائم کی جائے جبکہ آئینی، معاشی اور سیاسی حقوق کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے.

ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بدر منیر نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مظاہرین کی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ طے پا گیا تھا کہ مارچ کے مظاہرین ریلی کی شکل میں بنک روڈ پر واقعہ سنٹریل پریس کلب تک جائیں گے اور وہیں جلسہ کر کے اپنا پروگرام ختم کر دیں گے۔ مظاہرین میں سے چند شرپسند عناصر اس فیصلے سے شاید متفق نہیں تھے یا ان کے ارادے تصادم کرنے کے تھے اس لیے مظاہرین میں سے چند افراد نے انتظامیہ پر پتھروا شروع کردیا، جس کے بعد پولیس نے اپنے بچاو کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بدر منیر کا کہنا تھا کہ زخمیوں اور گرفتار افراد کی تعداد ابھی تک معلوم نہیں تاہم مظاہرین کی قیادت کے ساتھ رابطے کر کے اس کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب پی این اے کی قیادت اپنا لائحہ عمل دینے کیلئے آپس میں بات چیت کر رہی ہے جبکہ تصادم میں جانحق ہونے والے بزرگ شہری قاضی محمد اسلم عباسی کی میت کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے. شہری کی ہلاکت پر مظاہرین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں