مظفرآباد تصادم میں جانحق ہونے والےقاضی اسلم عباسی کی میت بالگراں روانہ کر دی گئی۔

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)پیپلز نیشنل الائنس کے مظفرآباد میں احتجاجی مارچ کے دوران آنسو گیس لگنے سے جانحق ہونے والے بزرگ محمد اسلم عباسی کی میت کو ہسپتال سے آبائی علاقے روانہ کر دیا گیا۔ جانحق ہونے والے بزرگ شہری پاکستان تحریک انصاف آزادکشمیر کے سینئر رہنماء خورشید احمد عباسی کے چچا تھے۔

قاضی اسلم عباسی کی میت

خورشید احمد عباسی نے سٹیٹ ویوز کو بتایا کہ قاضی محمد اسلم آف بلگراں آج اپر آڈہ میں پولیس کی شیلنگ سے شہید ہوئے ہیں۔ ان کی میت کو گاوں کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے نماز جنازہ کل بروز بدھ بلگراں میں ادا کیا جائے گا۔

خورشید عباسی نے کہا کہ اس حادثاتی موت پر ہمارے پورا خاندان سوگوار ہے۔ چچا مریص ضرور تھے لیکن یہوانکی طبی موت نہیں ہوئی۔ وہ دھرنے میں شریک نہیں تھے بلکہ صرف راہگیر تھے کہ پولیس کے آنسو گیس اور تشدد کا نشانہ بنے۔ ان کے سر اور جسم کے دیگر حصوں پر زخموں کے واضح نشانات نظر آرہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ حکومت وقت چچا کی موت کے ذمہ داران کا تعین کرے اور قانون کے مطابق قاتلوں کو سزا دی جائے جبکہ اس مشکل وقت میں حکومتی ذمہ داران کو ورثاء کا مکمل ساتھ دینا چاہئیے۔

یاد رہے کہ قوم پرست تنظیموں کے اتحاد (پی این اے) کے احتجاجی مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہونے والے آج دن کے تصادم میں بزرگ شہری اسلم عباسی کی ہلاکت سمیت متعدد مظاہرین اور پولیس اہلکار زخمی ہو گئے ہیں جبکہ پولیس نے دو درجن کے قریب مظاہرین کو حراست میں بھی لے لیا ہے۔ مظفرآباد شہرمیں مظاہرین اور پولیس کے درمیان ہنگامے جاری ہی، پی این اے کے یہ مظاہرین اسمبلی سیکرٹریٹ کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے، پولیس نے رکاوٹیں ڈال کر انہیں روکنا چاہا تو مظاہرین مشتعل ہو گئے جسکی وجہ سے پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

اطلاعات کے مطابق نیشنل عوامی پارٹی کے صدر سردار لیاقت حیات خان سمیت درجنوں کارکنان کو پولیس نے حراست میں بھی لے لیا ہے۔پولیس کے آنسو گیس سے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ ساتھ مظفرآباد کے مقامی صحافیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جبکہ تمام زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔جموں کشمیر پبلک رائیٹس پارٹی کے چیئرمین شہزاد خورشید راٹھور بھی پولیس کے آنسو گیس سے متاثر ہوئے. شہزاد خورشید نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے پولیس کے اس تشدد کی مذمت کرتے ہوئے اسے ریاستی جبر قراردیا ہے.

مظفرآباد سے سٹیٹ ویوز کے نامہ نگار کے مطابق قوم پرست تنظیموں کے اتحاد پی این اے کی کال پر گزشتہ رات آزادکشمیر کے مختلف شہروں سے کارکنان کی ایک بڑی تعداد مظفرآباد پہنچی تھی جہاں ان مظاہرین نے یونیورسٹی گراونڈ میں ایک بڑا اجتماع کیا اوربا اختیار اسمبلی اور خو مختار کشمیر کے نعرے بھلگائے اور آج دن کے وقت جب مظاہرین اپر اڈہ جمع ہوئے تو احتجاج میں شریک ‌سینکڑوں افراد جموں کشمیر کی مکمل آزادی، خودمختاری اور حقوق دینے کیلئے نعرے لگا رہے تھے

اس احتجاجی مظاہرے کی قیادت کرنے والے رہنماوں میں چیئرمین پیپلز نیشنل الائنس راجہ ذوالفقار احمد، چیئرمین جموں‌کشمیر لبریشن فرنٹ سردار محمد صغیر خان ، پی این اے کے سیکرٹری جنرل سردار لیاقت حیات خان، سپریم ہیڈ لبریشن فرنٹ رؤف کشمیری، مرکزی صدر این ایس ایف ابرار لطیف، سینئر وائس چیئرمین لبریشن فرنٹ راجہ مظہر اقبال ایڈووکیٹ و دیگر کر رہے تھے۔

پی این اے کی طرف سے جاری کردہ شیڈول کے مطابق 22 اکتوبر کی صبح گیارہ بجے یونیورسٹی گراؤنڈ سے احتجاجی مارچ کا آغاز کیا جانا تھا اور یہ احتجاجی مارچ اسمبلی سیکرٹریٹ تک جانا اور اسمبلی سیکرٹریٹ کے سامنے احتجاجی جلسہ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ پی این اے کا مطالبہ تھا کہ آزادکشمیر اور گلگت بلتستان پر مشتمل ایک خودمختاراور با اختیار حکومت قائم کی جائے جبکہ آئینی، معاشی اور سیاسی حقوق کا بھی مطالبہ کیا جا رہا ہے.

ڈپٹی کمشنر مظفرآباد بدر منیر نے سٹیٹ ویوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتجاجی مظاہرین کی قیادت اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مذاکرات کے بعد یہ طے پا گیا تھا کہ مارچ کے مظاہرین ریلی کی شکل میں بنک روڈ پر واقعہ سنٹریل پریس کلب تک جائیں گے اور وہیں جلسہ کر کے اپنا پروگرام ختم کر دیں گے۔ مظاہرین میں سے چند شرپسند عناصر اس فیصلے سے شاید متفق نہیں تھے یا ان کے ارادے تصادم کرنے کے تھے اس لیے مظاہرین میں سے چند افراد نے انتظامیہ پر پتھروا شروع کردیا، جس کے بعد پولیس نے اپنے بچاو کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ بدر منیر کا کہنا تھا کہ زخمیوں اور گرفتار افراد کی تعداد ابھی تک معلوم نہیں تاہم مظاہرین کی قیادت کے ساتھ رابطے کر کے اس کشیدہ صورتحال کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

دوسری جانب پی این اے کی قیادت نے پریس کانفرنس میں ڈی اسی پی مظفرآباد کی فوری معطلی کا مطالبہ کیا ہے۔ پی این اے قائدین تے 24 اکتوبر کو ریاست گیر احتجاج کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں