بابر اعوان نے مولانا فضل الرحمان کے دھرنے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا–مگر کس شرط پر؟جانیے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ) مشیر وزیر اور نامور قانون دان ڈاکٹر بابر اعوان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پانچ سال سے قبل انتخابات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، عمران خان کی حکومت اپنی مدت پوری کرے گی ، اگلے 5 سالوں میں تمام ادارے تبدیل کر دیئے جائیں گے، عمران خان کسی کا بھی لحاظ نہیں کر رہے، شہباز شریف مولوی صاحب کو ہری جھنڈی دکھا چکےہیں، پیپلز پارٹی کے چیئرمین اگر جلسے میں کھڑے ہوگئے تو میں بھی جلسے میں چلا جاؤں گا۔

تفصیلات کے مطابق اپنے ویڈیو بیان میں بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حکومت کو کمزور کرنے کے لیے اسٹیٹس کو کا استعمال کیا جاتا رہا، عمران خان کو وزیر اعظم 5 سال کے لیے بنایا گیا، حکومت اپنی آئینی مدت پوری کرے گی اس سے قبل الیکشن کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس وقت ہم جس سمت جارہے ہیں اور جیسے حکومت چل رہی ہے، پاکستانی معیشت کے سارے عشاریئے اوپر جائیں گے، یہ کون لوگ ہیں؟ کس آدمی کو آگے کر کے کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟

سیاسی مولوی کہتے پھرتے ہیں کہ ہم آئیں گے اور حکومت کا اُکھاڑ پھینکیں گے، کیا ایسے بھڑکیں مارنے سے حکومتیں گر جاتی ہیں؟ جنرل یحییٰ کے دور میں ایک غیر مسلم جج سے پیپر تیار کروا کر مولانا فضل الرحمان کے والد کو پہلی بار اقتدار میں لایا گیا، انکے پاس چند ووٹوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، سیاسی مولوی ( مولانا فضل الرحمان) کو تیسری بار اقتدار ملا، پہلے 2008ء کے الیکشن میں انکا صفایا ہوا، یہ صرف تین فیصد ہی ووٹ حاصل کر سکے، پھر 2018ء کے الیکشن میں بھی پورا ور لگانے کےباوجود ووٹ حاصل نہی کر سکے-

پنجاب کراچی اور اندرون سندھ کے دیگر شہروں میں انکا کوئی وجود ہی نہیں، بلوچستان اور کے پی کے کے سرحدی علاقوں میں انکا ووٹ بینک موجود ہے، شہباز شریف نے مولوی کو جھنڈی دکھا دی ہے، پیپلز پارٹی کے چیئرمین اگر جلسے میں کھڑے ہوگئے تو میں بھی جلسے میں چلا جاؤں گا، مفتی نعیم کی جانب سے آزادی مارچ کی مخالفت کر دی گئی ہے، اگلے 5 سالوں میں تمام ادارے تبدیل کر دیئے جائیں گے عمران خان کسی کا بھی لحاظ نہیں کر رہے تمام افراد حلوے کی دیگ میں لپیٹے جائیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں