من کی باتیں/خالد قریشی

عمران خان حکومت اور دھرنا

آج کل مولانا فضل الرحمن کے دھرنے کا ذکر ہر محفل میں زیر بحث ہے کہ اس دھرنے کی کامیابی اور ناکامی میں حکومت جائے گی یا نہیں؟۔پاکستان کی تاریخ میں احتجاج اور تحریکیں ضرور چلی مگر اس کا فائدہ اور نقصان اصل فریقین کی جگہ کسی اور کو ہوا تھا،اس کا واضع مطلب ہے کہ ہمیشہ اس قسم کی محاذ آرائی کی پشت پناہی کوئی اور کرتا ہے،گذشتہ پی ایم ایل این کی حکومت کے خلاف عمران خان کی پارٹی نے جو احتجاج کیا تھا ،اس کی وجہ سے پی ایم ایل این کو مشکلات آئی مگر حکومت ختم نہ ہوئی ،اس سے قبل پیپلز پارٹی کے وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اپنی پارٹی کی اندرونی سیاست کا شکار ہوئے۔

سابقہ حکومت پی ایم ایل این میں محمد نواز شریف کی حکومت کی کمانڈ اینڈ کنٹرول ان کی بیٹی مریم نواز اور چند انتہا پسند مشیران کے حوالے تھی۔وہاں ایک خود ساختہ ’’بیانیہ‘‘ کو مقبول بنایا جاتا تھا جس کی پاکستان میں کوئی ضرورت نہ تھی،ایسی باتیں جو کہ پاکستان کے دشمن کہتے تھے،ان کو ہوا نہیں دینا چاہئے تھی۔مذکورہ بالا دونوں سیاسی اور بڑی پارٹیاں ذاتی اور خاندانی سیاست کا شکار ہو گئی۔وہاں نظریات اور افکار کی کوئی اہمیت نہ تھی،ان کے قریب ایسے مشیران آئے جو کہ ان لیڈروں کی خواہش اور خوشی کو اپنی کامیابی اورزندگی کا نصب العین سمجھتے تھے،یقینا اس کا انجام ہی ایسا ہونا تھا –

پاکستان کی سیاست کے حوالے سے ایک معروف صحافی نے اپنا تجزیہ لکھا تھا کہ پاکستان میں وہی سیاسی پارٹی اور سیاستدان کامیاب ہوتے ہیں یا پھر ہوں گے جن کو تین (اے)کی حمایت حاصل ہو گئی یعنی کہ ’’اے‘‘فار ’’اللہ‘‘ دوسرا (اے)فار امریکہ اورتیسرا (اے)فار آرمی،بظاہر ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں حصول اقتدار کے لئے ضروری ہوتا ہوگا مگر اقتدار سے جانے کے لئے ذاتی انا اور ضد ہوتی ہے۔گذشتہ ادوار میں پارٹیوں کے اقتدار کے دوران یعنی پاکستان پیپلز پارٹی 2008؁ء سے2013 ؁ء اور پاکستان مسلم لیگ 2013 ؁ء سے 2018 ؁ء پیپلز پارٹی کی حکومت میں مشہور زمانہ ’’میمو گیٹ‘‘ سکینڈل آیا جس میں امریکہ میں مقیم پاکستان مخالف حسین حقانی کے ذریعے مضمون لکھایا گیا-

جو کہ پاکستان کے خلاف تھا جس پر محترم نواز شریف صاحب خود کالا کوٹ پہن کر سپریم کورٹ گئے اور پھر مسلم لیگ حکومت میں ’’ڈان لیکس‘‘ رونما ہوا،دونوں حکومتوں نے پاکستان مخاف تاثر کو تقویت دی کہ پاکستان شاید دنیا میں تنہا ہو گیا،حالانکہ صورتحال ایسی کبھی نہ تھی،پاکستان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لئے ناقابل فراموش قربانیاں دی،جس کی مثال شاید ہی کوئی اور ملک پیش کر سکتا ہے،پاکستان کے پاس شاید اس کے علاوہ کوئی آپشن ہی نہ تھا،قرضوں میں جکڑا،کرپشن کا شکار ،غربت سے لڑتا ،دنیا کی ساتویں آیٹمی مسلمان طاقت پاکستان کے مخالفین کو کیسے قبول ہو گی،ایسے پاکستان کے سیاستدانوں نے بھی کوئی کمی اور کسر نہ چھوڑی –

پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر آج پاکستان میں عمران خان کی صورت میں ایسا چہرہ یقینا مل گیاجو شاید قائداعظم کے بعد نہ ملا ہو،اس میں 100% کریڈیٹ عمران خان کی ایمانداری اور دیانتداری کو جاتا ہے۔ایسے شخص کسی انا پرستی کا شکار نہیں، 10 کروڑ کی گھڑی پہن کر قومی اسمبلی میں شرکت نہیں کرتا ہے۔مہنگے ترین سوٹ اور سینکڑوں پولیس اہلکاروں کے سکواڈ کا خواہشمند نہیں ہے۔گذشتہ 71 سالوں میں اقوام متحدہ میں گیارہ قرادادیں ’’مسئلہ کشمیر‘‘ پر آئی،پاکستان حکمرانوں نے ’’تاشقند‘‘ ،’’شملہ ‘‘،’’اعلان لاہور‘‘ کیا جس میں پاک بھارت باہمی مذاکرات پر گفتگو ہوئی۔

ماضی میں کس پاکستانی حکمران اورلیڈر نے امریکہ کے میڈیا کے سامنے نہیں کہا ہو گا کہ مقبوضہ کشمیر میں جو کچھ ہو رہا ہے اگر میری ’’ماں بہن‘‘ کے ساتھ ہوتا تو میں خود بندوق اُٹھا کر جاتا، جس پاکستانی وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان سے سات گنا بڑا ملک جب جارحیت کرے گا تو میرے پاس دو آپشن ہیں کہ ’’سرینڈر‘‘ کر جائوں یا پھر میں مسلمان ہوں اور ’’لا الہ الااللہ‘‘کا المبردار ہوں،آخری گولی اور سانس تک لڑوں گا۔عمران خان نے کہا کہ جب مقبوضہ کشمیر میں کرفیو اٹھے گا عوام کا سمندر باہر آئے گا۔بھارتی فوج لوگوں کو خون کاغسل دیں گے تو پاکستان خاموش نہ ہو گا اس سے قبل شاید کسی نے کہا ہو میں کشمیریوں کا سفیر ہے۔

کس نے کہا کہ بھارت کی اینٹ کا جواب پتھر سے دوں گا،بین الاقوامی سطح پر اس سے بہتر اور مضبوط سفارت کاری ہو نہیں سکتی ۔71 سالہ پاکستانی سفارت کار کا عالم ہے ،او آئی سی کے 14 مسلمان ممالک نے ہیئومن رائٹس کمیشن سیکورٹی کونسل میں پاکستان کے حق میں ووٹ ہی نہیں ڈالا ،عمران خان نے امریکہ کے متاسب میڈیا کو لائیو شو میں کہا کہ اگر میں امریکی شہری ہوتا تو امریکی حکومت سے سوال کہ امریکی عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ فنڈز افغانستان کی جنگ میں جھونک دیے جو کہ 1.8 ٹریلین ڈالر تھے۔جب 1979-80 ؁ء میں امریکہ افغانستان آیا تھا ،اس وقت چین سارے ملک میں سڑکوں کا جال پھیلا رہا تھا،آمدورفت بین الاقوامی معیار بنا رہا تھا۔

نیو یارک کے سڑکوں کا حال چین سے خراب ہے،اقتصادی ترقی میں چین بہت آگے ہے،آج کل پاکستان میں احتجاج کا موسم ہے مگر اپوزیشن انتشار کا شکار ہے۔انجانے خدشات ،احتساب،مقدمات سیاسی مستقبل سب کچھ محفوظ نہیں ہے۔ذرا سء غلطی سیاسی راہنمائوں کا مستقبل ختم کر سکتی ہے، تمام سیاسی پارٹیوں کو معلوم ہے کہ پی ایم ایل این اور پی پی پی اپنی خاندانی اجارہ داری اور اثاثے محفوظ کرنے کے لئے حکمت عملی بناتے ہیں،ذاتی سیاست قومی خزانوں اور اقتدار سے کرتے ہیں،پاکستان کے 71 سالوں میں پاکستانی سیاست کا انداز تبدیل ہوا۔1970 ؁ء میں بھٹو نے بھی غریب ،مزدور اور ہاری کی ہمدردی حاصل کی مگر وہ سیاست جھوٹ کا شکار تھی۔

آج پی ایم ایل این اور پی پی پی کی سیاست کا محور اور مرکز دولت ہے۔یقینا پی ٹی آئی میں بھی سرمایہ دار عناصر موجود ہیں،مگر جہانگیر ترین،علیم خان کی نا اہلی کو ختم کرانے کے لئے عمران خان حکومت نے مدد نہیں کی۔جولائی 2019 ؁ء سے ستمبر 2019 ؁ء تک امریکی حکومت ،پنٹا گون،طاقتور میڈیا اور یورپ میں پہلی دفعہ پاکستانی موقف اور اسلام کا واضع اور درست موقف نہ صرف تحمل سے سنا بلکہ اس سے متاثر ہوئے۔ جب جنرل مشرف کے اقتدار میں 12 اکتوبر 1999 ؁ء کے بعد امریکن صدر بل کلنٹن پاکستان آئے تو بھارت میں چار دن ،بنگلہ دیش میں ایک مکمل دن کے بعد صرف چند گھنٹوں کے لئے آئے تو جنرل پرویز مشرف سے ملنے سے انکار کیا-

صدر پاکستان رفیق تارڑ نے استقبال کیا،امریکن صدر نے پاکستانی قوم اور حکومت کو مخاطب کر کے کہا تھا کہ پاکستان نے فیصلہ کرنا ہے کہ ہمارا ساتھ دیتا ہے یا پھر ’’پتھر کے دور‘‘ میں جاتا ہے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو بیرول دستے کا اکردار ادا کرنے کا فیصلہ سنایا۔آج جب امریکن صدارتی الیکشن میں ایک سال سے کم عرصہ رہ گیا،ایسے میں پاکستانی ادارے ،حکومت ایک واضع موقف دنیا کو تسلیم کرا چکے ہیں کہ پاکستان افغانستان امن اور امریکی فوج کی باعزت واپسی اور خطہ میں پائیدار امن کے لئے پاکستان کا کردار نمایاں ہو گا،دنیا بھارت کو اس کی جارحیت پسندی سے روکے اور کشمیر کا دیرپا اور مستقل حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق نکالے-

ایسی صورتحال علم غیب تو صرف اللہ سبحان تعالیٰ ہی جانتے ہیں۔مگر آنے والے 12 سے 18 مہینوں میں پاکستان میں کویہ بڑی سیاسی تبدیلی نہیں آ سکتی۔حالت جنگ میں کبھی دریائوں میں گھوڑوں کے سواروں کو تبدیل نہیں کیا جاتا،اگر صرف احتجاج اور دھرنے کی میڈیا کوریج بند ہو جائے تو کوئی ایشو نہیں ہو گا۔احتجاج کے لئے شکرپڑیاں پریڈ گرائونڈ کو مختص کر دیا جائے۔پاکستان کی کوئی بڑی سیاسی پارٹی خواہ اقتدار میں ہو یا پھر اپوزیشن کبھی نہ چاہے گی کہ پاکستان کی سیاست کی ڈرائیونگ سیٹ پر مذہبی عناصر اور وہ بھی صرف ایک ’’فقہ‘‘ کے حامل راہنما آئیں جو کہ پاکستان کی نظریات اسا س کے ہی مخالف رہے ہوں،عمران خان حکومت کو ایف بی آر ،کاروبار ،رئیل اسٹیٹ اور ایکسپوٹر کے لئے انقلابی اقدامات کرنے ہوں گے۔عمران خان کے ’’سیٹزن پورٹل‘‘ پر 12 لاکھ سے شکایات کا آنا اور 86 فیصد شکایات کا ازالہ ہونا حکومت پر عوام کا اعتماد کا مظہر ہے،عمران خان عوام کی ریلیف کے لئے ہنگامی اقدامات کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں