سید فیصل علی /آزادآدمی

حکومتیں بنتے ہی ڈی چوک کیوں سجتا ہے؟

اسلام آباد کے باسی اقتدار کے ایوانوں کے بالکل سامنے موجود ڈی چوک کی افادیت سے نا بلد بلکل بھی نہیں ہیں۔ اسلام آباد کا ڈی چوک عام چوکوں چوراہو ں کیطرح ایسے ہی صبح سے شام ہونے کا مشاہدہ نہیں کرتا۔بلکہ یہ اپنے بلکل سامنے موجود جمہوریت کے علمبردار ایوانوں کی کاروائیاں بھی اپنے سامنے ہوتے دیکھتا ہے۔ اور ایسا کئی دہائیوں سے ہو رہا ہے .

اس چوک نے بندوق برداروں کو پارلیمنٹ کے جنگلے پھلانگتے دیکھا ہے۔ تو وہیں ۰۸ کی دہائی میں ایک مذہبی جماعت کا خوفناک مارچ بھی دیکھا ہے جس کے اراکین پارلیمنٹ کے اندر جا پہنچے اور اپنے مطالبات منوانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ یہ ڈی چوک کبھی لبیک لبیک کی صداو ں سے بھی گونجتا رہا ایسے ہی اسی ڈی چوک کے بالکل سامنے پارلیمنٹ کی عمارت کے ساتھ عدالت عالیہ کی دیوارو ں پر شلواریں بھی لٹکتی دیکھی گئیں اور اس ڈٖی چوک نے تو پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ آوروں کو بھی اپنے ہاں سے راستہ دیا تھاکہ جاو فتح کر لو۔۔۔۔۔

بحرطور اس ڈی چوک کا قضیہ بڑا پرانا ہے۔یہ عادی ہے اپنے احاطے میں ہجوم تشدد اور نعروں کی گونج سننا۔اور چپ چاپ سہتے رہنا اور تبدیل اور تحلیل ہوتی اسمبلیاں بھی دیکھنا ا س ڈی چوک کی روایت بھی ہے۔چلیے ڈی چوک کی عادات و اطوار سے سارا ملک یوں ہی واقف اس لیے ہے. کہ یہ اکثر خبروں کی زینت بھی بنتا ہے اور اب تو مولانا کے نام کے ساتھ بھی اک بار پھر ڈی چوک کا نام لیا جا رہا ہے۔جمیعت عللمائے اسلام کے مولانا فضل الرحمن کا ملین مارچ اپنی نوعیت کے منفرد انتظامات کے مراحل سے گزر رہا ہے۔اس سب کے بیچ اسلام ٓباد کا ڈی چوک اک بار پھر سجنے جا رہا ہے۔

یوں تو ڈی چوک میں اکثر اوقات دھرنے اور احتجاج جاری ہی رہتے ہیں۔ لیکن ایسا بھی کیا ہوتا ہے کہ نئی حکومت کے قیام کے سال بعد یہ چوک سجنے کی اک نئی ڈگر پر چل پڑتا ہے۔ایسا تواتر کے ساتھ گزشتہ دو حکومتوں کے ساتھ ہوتا آرہا ہے۔اس سے قبل ڈی چوک سجنے کا انداز ذرا مختلف ہوا کرتا تھا۔ اب کی بار موجودہ حکومت کو مشکل یہ درپیش ہے۔ کہ یہ ایوانوں میں بیٹھے ہوئے حکومتی ارکان بھی اسی ڈی چو ک میں دھرنا سیاست کے بعد ایوانوں تک پہنچ پائے ہیں۔ اب کہ خود اسی حکومت کو مولانا کی صورت میں بڑی مزاحمت کا سامنا ہے۔حکومتی وزراء خود پریشان ہیں۔بڑا منہ کر کے تنقید بھی نہیں کر سکتے چونکہ موجودہ حکومت خود ڈی چوک کی زینت رہی ہے۔ایسے میں مسلہ کشمیر بہترین دوائی کے طور استعمال کیا جا رہا ہے۔لیکن موجودہ حکومت کی خود کی اپنی پالیسیاں بھی وسیع تر قومی مفاد سے باہر باہر ہی رہی ہیں۔ ۵ اگست کو بھارت کی جانب سے ریاست جموں کشمیر کی تاریخی جغرافیائی حثیت تبدیل کرنے کے بعد حکومت کو ملک کے اندر سیاسی انتشار کے ماحول کو قابو کر کے یک زبان ہو کر کشمیر کا مقدمہ لڑنا تھا۔مگر نہیں حکومت اور اپوزیشن میں کھینچا تانی جاری رہی نیب گردی کا دور برابر جاری رہا۔اس سب کا نقصان یہ ہوا کہ اندرونی طور پر ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں کے اختلافات بڑے پیمانے پر کھل کر سامنے آتے رہے۔ اپوزیشن اتحاد جو کچا پکا ہی سہی مگر کہیں نا کہیں اس حکومت کے خلاف ہمیشہ سے ہی رہا۔

اس اپوزیشن نے حکومت کو بھی سخت مزاحمت دکھانے کی ٹھان لی۔اس کی بڑی مثالیں اُس انتہائی نازک دور میں دیکھی گئیں جب ملک کو ایک آواز بننا تھا۔ یہ ۵ اگست کے فوری بعد کا وقت تھا۔لیکن اس وقت بھی اپوزیشن اپنی اپنی بقا کی جنگ میں مصروف رہی۔تو حکومت ان کو سبق سکھانے کی روش برقرار رکھتے ہوئے ملک کے اندر ہی الجھی رہی۔ایسے میں بحثیت قوم دنیا بھر کے سامنے ہمارا رویہ بڑا ہی غیر سنجیدہ رہا۔

اپوزیشن کی بڑ ی جماعتوں کے کرتا دھرتا قایدین جیلوں کی زینت بن چکے ہیں۔ایسے میں ایک ایسی جماعت جو ہمیشہ سے ہر آنے والی حکومت کے ساتھ اتحاد بنا کر اپنی کرسی لیے چلتی رہی ہے۔ اس جماعت نے حکومت کو مزاحمت دکھانے کی ٹھان لی ۔اس جماعت کے سربراہ مولانا فضلالرحمن ہیں جو ہمیشہ سے ہی حکومتوں کا حصہ رہے۔لیکن اس بار عجب یہ ہوا کہ مولانا کو حکومت میں جگہ نہیں ملی اور ان کی دیگر ہم پلہ جماعتیں اور ان کے رہنما بھی جیل میں ہیں۔مولانا نے حکومت مخالف تحریک چلانے کا اعلان کیا اپوزیشن کی دیگر جماعتیں پہل پیچھے رہیں نگر رفتہ رفتہ انہوں نے بھی جزوی یا مشروط حمایت کا اعلان کرد یا۔موجودہ وزیر اعظم اور مولانا کے درمیان فاصلہ کافی زیادہ رہا ہے اور ایسا ہمیشہ سے ہی ہے،مولانا کی موجودہ مزاحمت کی اک بڑی وجہ یہ بھی ہے۔بحر حال کہنے والو ں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ن لیگ کی حکومت کے ایک سال بعد موجودہ حکومت دھرنا دے کر ڈی چوک کی زینت بنی تھی۔ اور اب بھی تحریک انصاف کی حکومت کے قیام کے ٹھیک ایک سال بعد بھی ایسا ہی ہونے جا رہا ہے۔اس سب میں بالادست قوتوں کی منشاء و مقصد بالواسطہ یا بلاواسطہ کئی نا کئی نظر آرہا ہے۔

کہنے والے یہ بھی کہ رہے ہیں کہ خان کو وزارت عظمی کا قلمدان سونپنے والے خود بھی اب تبدیلی چاہتے ہیں۔مگر اب وہ خان کے بغیر تبدیلی چاہتے ہیں۔ سنجیدہ حلقوں میں یہ بازگشت بھی ہے کہ ملک کی موجودہ مجموعی صورتحال کے تناظر میں مسلہ کشمیر اہم ہے۔ ایسے میں مولانا ملک دشمن ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔جبکہ مولانا بھی چونکہ کافی سیانے ہیں۔ اور ایک بڑے عرصے تک وہ کشمیر کمیٹی کے چئیرمین بھی رہے ہیں۔ایسے میں مولانا نے اپنے ملین مارچ کے لیے ۷۲ اکتوبر کا دن مختص کیا ہے۔یعنی اس دن یوں بھی ملک بھر میں مقبوضہ کشمیر پر بھارت کے جبری قبضے کے خلاف ہر برس یوم سیاہ منایا جاتا ہے۔اس لیے دانشوروں کو خاموش کروانے ک واسطے مولانا کے پاس بھی کافی جوابات ہیں۔

اس ساری صورتحال میں ڈی چوک اک بار پھر مکالموں کی زینت بن چکا ہے۔مولانا اپنے دنڈا بردار جانبازوں کی تربیتی مشقوں کے بعد ان سے سلامی بھی لے چکے ہیں۔اور ایک دنڈا بردار فورس جو زرد لباس میں ملبو س ہے اسلام آبا دکا رخ کرنے کو تیار ہے۔ ڈی چوک کو معلوم ہوتا ہے کہ تبدیلی کے خواب کب کہاں اور کیسے دیکھے جاتے ہیں۔ان کی تکمیل کے لیے کیسے ڈی چوک کا استعمال کیا جاتا ہے۔اور ڈی چوک تو یہ بھی جانتا ہے کہ تبدیلی کو پروان چڑھانے والے جب تبدیلی سے خائیف ہوتے ہیں۔ تو وہ کس طرح ڈی چوک کو دوبارہ سجاتے ہیں اور پھر ایک اور تبدیلی کی داغ بیل ڈالتے ہیں۔اور یوں ہر برس ڈی چوک کو سجانے کا ساماں کیا جاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں