حسینؓ کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں،یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے،مولانا فضل الرحمن

سکھر (ویب ڈیسک ) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ ہم حسینؓ کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں،یزید کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے، آزادی مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا فیصلہ نہیں ہوا، مذاکرات کیلئے تیار ہیں، حکومت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ دے۔سکھر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سربراہ جے یو آئی (ف) مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جے یو آئی ف 27 اکتوبر کو پورے ملک میں کشمیریوں سے اظہار یکجہتی میں شریک ہو گی، حکومت نے کشمیریوں کا سودا کر کے ملک کو ایک امتحان میں ڈال دیا ہے۔

انہوں نےکہا کہ آزادی مارچ کی تاریخ میں تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، آزادی مارچ ہو کر رہے گا اور 31 اکتوبر کو قافلہ اسلام آباد میں داخل ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم حسینؓ کا مؤقف اپنائے ہوئے ہیں اور یزید کیہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے حکومت کے ساتھ مذاکرات سے انکار نہیں کیا اپوزیشن کی رہبر کمیٹی حکومتی کمیٹی سے حکومتی ٹیم سے مذاکرات کرے گی۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سب اپوزیشن جماعتیں ایک پیچ پر ہیں، تمام اپوزیشن جماعتیں اور رہبر کمیٹی مشاورت سے حکومتی کمیٹی کو جواب دے گی۔

انہوں نے کہاکہ اسلام آباد پہنچنے کے بعد وہاں ٹھہرنے کی مدت رہبر کمیٹی طے کرے گی۔ حکومت کی جانب سے آزادی مارچ کو روکنے کیلئے خندقیں کھودنے اور کنٹینر کھڑے کرنے سے متعلق سوال پر سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ حکومت کی خندق ہمارے لئے ہموار زمین ہے اور کنٹینرز کو ہم اٹھا کر پھینک دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ راستے بند نہیں کریں گے لیکن خفیہ طور پر دھمکیاں دی جا ری ہیں، لوگ پیدل اور خچروں پر آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم مذاکرات کیلئے تیار ہیں-

لیکن حکومت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑدے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کیلئے پارلیمنٹ میں کمیٹی بنائی گئی تھی لیکن اس کمیٹی کے ٹی آو آرز تک نہیں بنائے گئے۔ انہوں نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد متفقہ فیصلہ ہوا کہ کوئی الیکشن ٹریبونل میں نہیں جائے گا، اْس وقت بھی حکومتی کمیٹی کے سربراہ بھی پرویز خٹک تھے، اب کیا ہو گا-

اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ ہم نے ہمت نہیں ہارنی ہے، پوری قوت کے ساتھ قوم کو سہارا دینا ہے۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حکومت کو حق حکمرانی حاصل نہیں ہے، عوام کو آزادی مارچ سے امید ہے اور تمام طبقات اس مارچ میں شرکت کر رہے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں