پاکستان قونصلیٹ دبئی میں‌27 اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے پروگرام کا انعقاد،کشمیر میں‌بھارتی مظالم کی پر زور مذمت

دبئی(سٹیٹ ویوز)کشمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر ضرور رنگ لائے گی پاکستان سفارتی واخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ہندوستان نے 5 اگست کے بعد جو صورتحال مقبوضہ کشمیر میں پیدا کی ہے اس کی کشمیر کی حثییت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے آج 83ویں روز گزر گےہیں کشمیرمیں کرفیو نافذہے ہندووستانی فوج نے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے لیکن عالمی برادری کی خاموشی لحمہ فکریہ ہے کشمیریوں پرہونے والے ظلم کے خلاف پوری دنیا مین احتجاج ہو رہا ہے 27 اکتوبر 1947 کو انڈین فوج نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کیا 72 سال گزر گئے عالمی برادری نے نوٹس نہیں لیا مسلہ کا پرامن حل نہ نکالا گیا تو جنوبی ایشاء تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے.

تفصیلات کے مطابق 27 اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان قونصلیٹ دبئی میں پروگرام کا انقعاد کیا گیا جسمیں کشمیری،پاکستانی کمیونٹی سمیت سیاسی، سماجی،صحافی تنظیموں کے نمائندگان سمیت لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے کیا گیا پروگرام کےمہمان خصوصی قونصل جنرل آف پاکستان دبئی قونصلیٹ احمد امجد علی تھے وزیر اعظم پاکستان کا پیغام مصور عباس جبکہ صدر پاکستان کا پیغام خرم خان قونصلیٹ کے ذمہ داران نے پڑھ کر سنایا جبکہ دیگر مقررین میں سابق جنرل سیکرٹری پاکستان تحریک انصاف گلف راجہ راشد علی خان سابق مشیر حکومت سردار جاوید یعقوب، صدر مسلم لیگ ن راجہ عبدالجبار، صدر مسلم کانفرنس چوہدری سکندر،رہنما جماعت اسلامی عتیق منہاس،رہنما پاکستان تحریک انصاف چوہدری اخلاق،رہنما پیپلز یوتھ آرگنائزیشن فاروق بانیاں، جموں کشمیر جرنلسٹس فورم متحدہ عرب امارات کے ممبر معروف کالم نگار و صحافی مدثر ارشاد، رہنما چنار ونگ نئیر حنیف،رہنما پاکستان تحریک انصاف سردار عمران،رہنما جماعت اسلامی ایاز کیانی نے خطاب کیا –

اس موقع پراحمد امجد علی قونصل جنرل آف پاکستان دبئی قونصلیٹ کا کہنا تھا کہ شمیریوں کی تحریک آزادی کشمیر ضرور رنگ لائے گی پاکستان سفارتی واخلاقی حمایت جاری رکھے گا۔ہندوستان نے 5 اگست کے بعد جو صورتحال مقبوضہ کشمیر میں پیدا کی ہے اس کی کشمیر کی حثییت کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے آج 83ویں روز گزر گےہیں کشمیرمیں کرفیو نافذہے ہندووستانی فوج نے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ دئیے لیکن عالمی برادری کی خاموشی لحمہ فکریہ ہے کشمیریوں پرہونے والے ظلم کے خلاف پوری دنیا مین احتجاج ہو رہا ہے 27 اکتوبر 1947 کو انڈین فوج نے کشمیر پر جابرانہ قبضہ کیا 72 سال گزر گئے عالمی برادری نے نوٹس نہیں لیا مسلہ کا پرامن حل نہ نکالا گیا تو جنوبی ایشاء تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے.
تفصیلات کے مطابق 27 اکتوبر یوم سیاہ کے حوالے سے پاکستان قونصلیٹ دبئی میں پروگرام کا انقعاد کیا گیا –

دیگر مقررین کا کہنا تھا گزشتہ 72 سال سے کشمیری آزادی کی جنگ لڑ ریے ہیں ەندوستان نے 5 اگست کے بعد کشمیر کی خصوصی حثیت بھی ختم کر دی اس کے خلاف پوری دنیا مین کشمیری احتجاج کر ریے ہئں آج 82 روز سے لاک ڈاون اور کرفیو ہے لیکن عالمی برادری کی خاموشی لحمہ فکریہ ہے مقررین نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ آزادی کے بیس کیمپ کی حکومت کو پوری کشمیر کی تسلیم کرے اور بین الاقوامی فورم پر کشمیریوں کو اپنا موقف بیان کرنے کا موقع فراہم کرے 5 اگست 2019 کے بعد ەندوستان اقدام نے مقبوضہ وادی میں جو صورتحال پیدا کی ہے وە قابض ملک کی ہے اس کے خلاف عالمی فورم پر کشمیریوں کو اپنا موقف دینے کی اجازت دی جائے سابق جنرل سیکرٹری گلف پاکستان تحریک انصاف راج راشد علی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سلامتی کونسل میں تقریر نے دنیا کو سوچنے پر مجبور کیا ہے کہ ەندوستانی اقدام مقبوضہ وادی مین ظلم وجبر کشمیریوں کی نسل کشی جیسے اقدام ناقابل قبول ہیں-

اگر دنیا نے ہندوستان کو نہ روکا تو انسانی جانوں کو ضائع کا خطرہ ہے انھوں نے مزید کہا کہ اس وقت ضرورت اس امر کی پے کہ کشمیر مین انٹرنیشنل ادارے کشمیریوں کو ریسکیو کریں وہاں 82 ویں روز کرفیو اور لاک ڈان ہے ادویات کھانے پینے کا سامان ختم ہو چکا ہے ەندوستان کی نو لاکھ فوج نے کشمیریوں کو محصور کیا ہوا ہے عالمی برادری انسانی بنیادوں پر آپریشن کرے تاکہ نسل انسانی کو بچایا جا سکے-سابو مشیر حکومت سردار جاوید یعقوب نے کہا اس وقت پاکستان کو اپنے سفارت کاری کو مزید بہتر کرنا چائیے پوری دنیا ەندوستان کے ساتھ کھڑی ہے آپ کا موقف کی کوی کیوں دنیا حمایت نہین کر رہی آپ کو سوچنا ہو گا پمارے پالیسی ساز اداروں کو غور کرنے کی ضرورت ہے کہ 72 سال گزرنے کے باوجود کشمیر پر عالمی دنیا کی خاموشی کیا پیغام دے رہی پے ان کا کہنا تمام کشمیری مسئلہ کشمیر پر ایک ہے اور سب کی رائے کہ رائے شماری کرائی جائے ان کا مزید کہنا تھا کشمیر کے مسلے کو مذہب کی بنیاد پر نہ دیکھا جائے ریاست کی سب اکائیوں مین غیر مسلم بھی آباد ہیں-

جتنے کشمیر میں بسنے والے مسلمان کشمیری ہیں اتنے ہی جموں میں بسنے والے غیر مسلم پنڈت ،سکھ، کشمیری ہیں ہمیں سب کو ساتھ لیکر چلنا ہے- معروف کالم نگار مدثر ارشاد نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس وقت مسئلہ کشمیر کی صورتحال بہت نازک ہے- پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کو سوچنا ہو گا کہ کرتار پورراہداری میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات کو فروغ دیا جا رپا ہے وہاں ہندوستان اچھا ہے جبکہ لائن آف کنٹرول پر آئے روز حملے ہو رہے ہیں وہاں ہندوستان غلط ہے-

اس فرق کو سمجھ کر پالیسی بنائی جائے کشمیری صرف لاشیں اٹھانے کے لئے رہ گئے ہیں ؟ہماری قربانیوں اور شہدا کے خون کی کوئی قیمت نہیں؟ہم کشمیری پاکستان کی بقا کی جنگ لڑ رپے پیں– ہمیں مقتدر حلقوں سے گلہ ہے کہ آپ کی پالیسی پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی بارڈر پر پالسی مختلف ہے جبکہ کشمیر کی کنٹرول لائن پر پالیسی مختلف کیوں ہے؟ ہم کشمیری پرامن لوگ ہیں ہم نے امن کے ساتھ جینا چاہتے پیں اور مسئلہ کشمیر کا پرامن حل چاہتے پیں- ہمارے بیس کیمپ پر حکومت کو فری ہینڈ دیا جائے تاکہ وە بین الاقوامی برادری کے سامنے کشمیریوں کا موقف دے سکے یہ پمارا سب کشمیریوں کا مطالبہ بھی ہے اور موجودہ وقت کی ضرورت بھئ ہے-
پروگرام کے دوران صفا شفقت نے کشمیری ترانہ پڑھ کر شرکا محفل کے جیت لئے پروگرام کے آخر مین شہدائے کشمیر کے لئے دعا کی گئ دعا کے فرائض راجہ محمد عاشق بے ادا کئے جبکہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض عاصم احمد برق نے ادا کئے پروگرام کے اختتام پر انسانی ہاتھوں کی زنجیر بھی بنائی گئی-

اپنا تبصرہ بھیجیں