مولانا کی ڈنڈا برادر فوس کے متعلق حکومت کا دبنگ اعلان

پشاور (ویب ڈیسک) خیبر پختونخوا حکومت نے اعلان کیا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام(ف) کی ڈنڈا بردار فورس کو صو بے سے نہ نکلنے نہیں دیا جائیگا البتہ پرامن احتجاج پر کوئی پابندی نہیں تاہم جو کوئی قانون شکنی کرے گا اس سے سختی کیساتھ نمٹا جائیگا، وزیراعظم استعفیٰ دیں گے نہ قبل از وقت انتخابات ہو ں گے ، ڈی چوک میں دھرنے یا احتجاج کی اجازت نہیں ،پر امن احتجاج پر کوئی پابندی نہیں، وزیر اعظم استعفیٰ دیں گے نہ وقت سے پہلے کوئی انتخابات ہوں گے –

اسلام آباد کے ڈی چوک میں کسی احتجاج یا دھرنے کی اجازت نہیں۔ ان خیالات کا اظہار خیبر پختونخوا حکومت کے ترجمان اور صوبائی وزیر اطلاعات شوکت یوسفزئی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہاکہ پاکستان بڑے مشکل دور سے گزرا ہے ۔ خیبر پختون خوا حکومت نے انصار الاسلام کی سرگرمیوں پر فوری طور پر پابندی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے جمعیت علماء اسلام (ف) کے رضا کاروں پر مشتمل تنظیم ”انصار الاسلام“ پر عسکریت ونگ کے نام پابندی عائد کیے جانے کے باوجود خیبرپختونخوا حکومت نے فوری طور پر انصار الاسلام پر پابندی عائد نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس سلسلے میں مذکورہ تنظیم کی سرگرمیوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی فیصلہ کیا جائے گا۔ وفاقی وزارت داخلہ نے انصار الاسلام کی جانب سے پشاور میں ڈنڈا بردار جلوس نکالنے اور قائد جے یو آئی مولانا فضل الرحمٰن کو سلامی پیش کرنے کی ویڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد تنظیم کی سرگرمیوں کو امن وامان کے لیےخطرناک قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی عائد کی ہے تاہم مذکورہ پابندی صرف اسلام آباد کی حدود تک نافذ کی گئی ہے اور اس ضمن میں صوبوں کو اختیار تفویض کیا گیا ہے کہ وہ اپنے حالات کے مطابق اس حوالے سے فیصلہ کریں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں