بیرسٹر اسرار ملک کا کوٹلی کو پسماندگی سے نکال کر ترقی کی راہ پر ڈالنے کا عزم

لوٹن (مانیٹرنگ ڈیسک ) کوٹلی آزادکشمیر کی پسماندگی دور کرنے کے لئے ایک جامع پلان کے تحت کام کرنے کا عزم ہے۔ اس مقصد کے لئے برطانیہ کے مختلف علاقوں میں مقیم کوٹلی سے متعلق پروفیشنل تارکین وطن اور کوٹلی کی مقامی کمیوںٹی کی مشاورت سے ضلعی اور تحصیل مقام کی حالت بہتر بنانے کے لئے اجتماعی کاوشیں بروئے کار لائی جائیں گی۔ ان خیالات کا اظہار بیرسٹر اسرار ملک نے نمائندہ جنگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔ بری پارک لوٹن کے کیفے میں بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ برطانیہ سے قانون کی اعلیٰ تعلیم کے علاوہ یہاں پر قانون کے پیشہ کا عملی تجربہ لے کر اگلے مہینے کوٹلی واپس جارہے ہیں اور میرٹ کی بنیاد پر پی ٹی آئی کی جانب سے آزادکشمیر دستور ساز اسمبلی کی نشست کے ٹکٹ کے امیدوار ہوں گے-

وہ کوٹلی شہر کے دونوں حلقہ ہائے انتخابات میں مہم چلائیں گے اگر پی ٹی آئی کی حکومت بنی تو آزادکشمیر بار میں تبدیلیاں لانے کے لئے جدوجہد کریں گے-بار کونسل میں ریفارم لانا ازحد ضروری ہے، معیاری وکلاء ہی مستقبل میں بہتر جیو ڈِشری کا حصہ بن سکتے ہیں۔ وہ وکلاء کی ایک ایسی ٹیم تشکیل دے رہے ہیں جو بلامعاوضہ ضرورت مند افراد کو عدالتی معاملات میں رہنمائی فراہم کرے گی وہ سمجھتے ہیں کہ برادری ازم اور میرٹ کی پاسداری نہ کرنے کی وجہ سے مسائل بڑھےہیں -کوٹلی شہر آزادکشمیر کا پسماندہ شہر ہے جہاں پر شفاف پینے کے پانی اور گلیوں کی نکاسی بڑے مسائل ہیں شہر کو غلاظت اور کچڑے سے پاک کیسے کیا جائے-

گندگی کے جو انبار ہوں ان کو ڈس پوز کیسے کیا جائے اور پھر اس کو کسی بہتر مقصد میں استعمال میں کیسے لایا جائے یہ سارے امور بہتر وژن اور پلاننگ کا تقاضا کرتے ہیں، ان کی کوشش ہوگی کہ شہر کے امور کے تجربہ کار سیاسی سماجی افراد کی مشاورت سے ان مسائل سے اہالیان کوٹلی کو نجات دلائی جائے اس کے لئے ورلڈ بنک کے ذریعے پانی کی فراہمی کا منصوبہ تشکیل دیا جاسکتا ہے۔انہوں نے مختلف سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوٹلی کی ایک قابل ذکر کمیونٹی برطانیہ میں آباد ہے-

مگر بدقسمتی سے کوٹلی کا آزاکشمیر کے دیگر شہروں سے تقابلی جائزہ لیا جائے تو بہت پیچھے ہے جو صرف کوٹلی کی سیاسی قیادت کی ناکامی کا ہی معاملہ نہیں بلکہ آزاد کشمیر کی مرکزی حکومتوں کے ارباب اختیار بھی اس پسماندگی کے ذمہ دار ہیں، کوٹلی کی محرومیوں کا اندازہ کرکے ہی انہوں نےتہیہ کیا کہ وہ وہاں پرایک وژن کے مطابق تبدیلی لائیں گے۔ وہ آزادکشمیر کی طلبہ سیاست میں متحرک رہے پھر یہاں برطانیہ کی مقامی حکومتوں کو سمجھنے کی کوشش کی ہے-

یہاں بھی وہ سمجھتے ہیں کہ کمیونٹی کے پڑھے لکھے باشعور افراد کو زیادہ سے زیادہ آگے لانا ہوگا ورنہ یہاں کی کونسلوں اور پارلمینٹ میں ہم اپنی کمیونٹی کو آگے بڑھنے کے عمل میں مدد گار ثابت نہیں ہوں گے۔ اور برطانیہ میں آزادکشمیر کے پرچم تلے کشمیری مقبوضہ کشمیر کی آزادی کے لئے مل کر تگ و دو کریں اور کشمیر میں حقوق انسانی کی پامالی کے واقعات کو دنیا کے سامنے لایا جائے، انہوں نے مزید کہا کہ ہماری نوجوان نسل کو پروگراموں میں وسیع طور پر شامل کیا جائے-

برٹش بورن کو سٹیج پر بلایا جائے تب ہی مسئلہ کشمیر بہتر طور پر اٹھایا جاسکے گا اور کمیونٹی صحیح معنوں میں برطانیہ میں انٹی گریٹ ہو۔ آزاد کشمیر کے آئندہ انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کے امکانات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اگر سیاسی استحکام رہا تو آزادکشمیر میں اس جماعت کی کامیابی یقینی ہوگی

اپنا تبصرہ بھیجیں