بیاد سردار خالد ابراہیم خان۔۔ کیا واقعی بچھڑ گیا ہے وہ۔۔؟

تحریر: عمیر پرویز خان

ُُُُ ُُ”جنرل (مشرف) آپ کو کس نے اختیار دیا کہ آپ کشمیر کے حل کے لئے فارمولے دیتے پھریں؟“ یہ تا ریخی الفاظ وقت کے طاقتور ترین آدمی کے سامنے سردار خالد ابراہیم خان کے علاوہ بھلا اور کون کہنے کی جرات رکھتا تھا۔؟آہ کہ یہ آواز اب سننے کو نہیں ملتی!

سردار خالد ابراہیم خان گزشتہ برس۴ نومبر کو داعی اجل کو لبیک کہہ گے۔ قوم نے ان کے آخری سفر میں اُن کو شایان شان الوداع کیا لیکن شائد ہم مردہ پرست قوم ہیں۔ جیتے جی اُن کی قدر نہ کی۔ آج (۲ نومبر) جب میں یہ سطور تحریر کر رہو ہوں تو مجھے گزرے برس کی آج ہی کی تاریخ کی شام میں سردار خالد ابرہیم خان سے کی گئی آخری ملاقات رہ رہ کر یاد آ رہی ہے کہ قوم کا یہ عظیم سپوت قوم کے لئے کس قدر فکر مند تھا۔
تقریباََ دو گھنٹے کی طویل ملاقات میں ان کے اور عدلیہ آزاد کشمیر کے مابین تنازعہ پر تفصیلاََ گفتگو ہوئی جس پر ان کا موقف توانا او ر وہ پر عزم تھے کہ موجودہ عدلیہ کرپٹ ججوں کے نرغے میں ہے اور اس کو ان سے آزاد کرانے کے لئے کسی بھی قربا نی سے دریغ نہیں کروں گا۔ انہوں نے بارہا اس امر پر زور دیا کہ ۸ نومبر سے پہلے اگر ریاستی مشینری مجھے گرفتار کرتی ہے تو ریاست کے نوجوانوں کو کسی بھی غلط اقدام اور کسی بڑے نقصان سے بچانے کی ذمہ داری آپ کی (کار کنوں)کی ہو گی۔

انہوں نے کہا کہ تصدیق طلب ہے لیکن کسی نے بتایا ہے کہ ڈی سی مظفرآباد اور ایس پی مظفرآباد نے ڈی آئی جی مظفرآباد کے سامنے کہا ہے کہ وہ خالد ابراہیم خان کو گرفتار نہیں کریں گے جس پر خالد ابراہیم خان صاحب نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اگر اُنہوں نے ایسا کہا ہے تو اُن افسران کو ایسا نہیں کہنا چاہئئے بلکہ اُن کو اپنی ڈیوٹی سرانجام دینی چاہئے کیونکہ ہم ہمیشہ اداروں کے احترام کی بات کرتے ہیں اور میں کسی بھی پولیس سپاہی کو گرفتار ی دینے میں کوئی عار محسوس نہیں کروں گا کیونکہ یہ ادارے ہم نے بنائے ہیں اور ان کو مظبوط کرنے کے لئے ہمیشہ کردار ادا کرتے رہیں گے البتہ کرپٹ چیف جسٹس اور اس کے ماتحت کرپٹ ججوں کے سامنے کسی صورت پیش نہیں ہوں گا۔

اس بات کی تصدیق راقم نے اس وقت کے ڈی سی مظفرآباد مسعور الرحمان سے گزشتہ دنوں چاہی جس پر انہوں نے بتایا کہ وہ خالد ابراہیم خان کو ایک عظیم لیڈر مانتے ہیں اور ان کا بے حد احترام کرتے تھے اوریہ کہ خالد ابراہیم خان صاحب کو گرفتار کرنے کے حوالے سے کوئی بھی ارادہ نہ تھا اور نہ ہمارے محکمے کو اس قسم کا کوئی حکم ملا تھا اور یہ انہوں نے خالد ابراہیم خان صاحب کو گرفتار نہ کرنے کے حوالے سے کوئی بات کی تھی۔ اس پر راقم کو خوشی ہوئی کہ خالد ابراہیم خان کا جو ریاستی اداروں پر اعتماد تھا وہ مسعود الرحمان جیسے آفیسر نے برقرار رکھااور کسی ایک فرد کے لئے سردار خالد ابراہیم خان کے نظریات کی نفی نہیں کی۔یہ وہ کردار تھا جو خالد ابراہیم خان ہی ادا کر سکتے تھے کہ اپنے خلاف بھی کسی قسم کی رعایت کے حامی نہیں تھے اور سچ بات کہنے کے لئے کسی نتیجہ کی پرواہ کئے بغیرکسی کرپٹ منصف کو ملخوظ خاطر نہ لاتے تھے۔

حیف صد حیف!قوم نے اس عظیم سپوت کو بارہا قربانیوں کی طویل داستان میں تنہاء چھوڑا جس میں ۱۰۰۲ کے الیکشن کی ہار سمیت نوجوانوں کے حق کے لئے دئیے گے استعفیٰ کی اپنے لوگوں کی مخالفت سمیت موجودہ کرپٹ گروہ عدلیہ کے خلاف اور کئی مواقع شامل ہیں۔ عدلیہ کے اس کرپٹ گروہ کے خلاف تحریک میں بھی ان کے اپنے ادارے یعنی اسمبلی سمیت ان کی سیاسی برادری کے لوگوں نے ما سوائے سردار عتیق احمد خان کے کسی نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ وقت کے برائے نام منصف کی طرف سے سردار خالد ابراہیم خان کو غیر آئینی طور پر توہین عدالت کے نوٹس جاری ہونے کے باوجود اُن کے ادارے نے مصلحتاََ ان کا ساتھ نہ دیا۔ ممبران اسمبلی طارق فارو ق، صغیر چغتائی سمیت دیگر ارکان کی بعدازاں اسمبلی میں کی گئی تقاریر اس کا بین ثبوت ہیں۔

سردار خالد ابراہیم خان صاحب کو اپنے ساتھ چلنے والے لوگوں سے بھی شکایتیں تھیں اور بلا شبہ بجا تھیں کہ وہ ان کے افکار اور نظریات کو درست انداز میں سمجھ نہیں پا رہے۔یہی وجہ ہے کہ جب خالد ابراہیم خان مرحوم ہم میں نہیں ہیں تو اُ ن کی عدلیہ میں موجود کرپٹ عناصر کے خلاف تحریک سست روی کا شکار ہے۔ راقم کے نزدیک سردار خالد ابراہیم خان کی روح کے آگے اُن کے چاہنے والے تب ہی سُرخرو ہوں گے جب عدلیہ میں بیٹھے اس کرپٹ ٹولہ کو گھر بھیجیں گے۔ سردار خالد ابراہیم خان کے چاہنے والوں پر ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس تحریک کو سردار خالد ابراہیم خان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی و مذاحمتی انداز سے منطقی انجام تک پہنچائیں۔

حالات کی ستم ظریفی دیکھیئے کہ اسمبلی میں بیٹھے ہوئے اس وقت کے لوگ جو خالد ابراہیم خان کی تحریک سے اختلاف رکھتے تھے یا غیر جانبداراانہ رویہ رکھتے تھے جب خود اس کا شکار ہوئے ہیں تو آج ٹھیک ایک سال بعد وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان یہ کہہ رہے ہیں کہ خالد ابراہیم خان صاحب کا عدلیہ بارے موقف درست تھااور ریاست کا موجودہ اعلیٰ ترین منصف اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔

راقم کے ذہن میں یہ بھی خیال آتا ہے کہ کیا فاروق حیدر خان کا اسمبلی سے باہر پبلک فورم پر ججز کے کنڈیکٹ کو تنقید کا نشانہ بنانا توہین عدالت نہیں تو اچانک کان میں خالد ابراہیم خان کے وہ تاریخی الفاظ گونجتے ہیں جو میرے خیال میں موجودہ چیف جسٹس اور وزیر اعظم کو سمجھ آ گے ہیں کہ” توہین اس عدالت کی ہوتی ہے جو میرٹ پر ہو “۔ اسی لئے شائد وہ اب اسے اپنی توہین نہیں سمجھتے اور یقینامیرے الفاظ بھی اسی صول کے مطابق کسی توہین کے مرتکب نہیں ہوں گے۔ تاریخ ان تمام کرداروں کو یاد رکھے گی اور مورخ جہاں سردار خالد ابراہیم خان کا نام ہمیشہ اصولوں کے بلند ہمالیہ کے طور پر رقم کرے گا وہیں کم ظرف لوگوں کے کردار کو بھی ہمیشہ تاریخ کے اوراق کی زینت بنائے گا۔

بہر کیف جہاں سردار خالد ابراہیم خان سیاسی زندگی میں منفرد حیثیت کے حا مل تھے وہیں ذاتی زند گی میں بھی سادہ، پر وقار اور انتہائی ملنسار تھے۔ ان کے حوالے سے ان کی زندگی میں تاثر پایا جاتا تھا کہ شائد وہ مغرور ہیں اور اس بات کے ادراک کے باوجود انہوں نے اس تاثر کی کبھی اپنے الفاظ سے نفی نہیں کی بلکہ ہمیشہ اپنے عمل سے اس کو غلط ثابت کیا۔ ان کو بارہا قریبی اقرباء سمیت کارکنوں نے ذاتی آسا ئشوں کے لئے سامان مہیا ء کرنے کی کوشش کی جس میں سب سے زیادہ کوشش ان کو لگثری گاڑی دینے کی کی گئی لیکن انہوں نے کئی دفعہ نئی گاڑیوں کی آفر کو اپنے چاہنے والوں کو محبت سے لوٹا دیا۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ میری اس پرانی جیپ (جس کے بارے میں مرحوم جنرل حمید گل ازراہ مذاح کہا کرتے تھے کہ یہ وہ جیپ ہے جو ۷۴۹۱ کے جہاد میں استعمال کی گئی تھی) کا کارکنوں کے ساتھ ایک منفرد تعلق ہے جو کسی صورت نہیں توڑ سکتا۔ ان کی یہ بات ان کے انتقال کے بعد ان کے چاہنے والے عملاََ محسوس کرتے ہیں جس کی جھلک راقم نے خود دیکھی ہے۔

ایک واقعہ 2018 کے وسط کا یاد آگیا جب سردار خالد ابراہیم خان کے ساتھ اسلام آباد سے راولاکوٹ تک کے سفر کا موقع ملا۔ جب ہم آزاد پتن کے مقام پر پہنچے تو پُل پر سے راستہ بند تھا۔ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ اسلامک یونیورسٹی کے طلباء کے سیر کے غرض سے آئے ہوئے قافلہ کو ایک لوکل ہائی ایس ڈرایؤر نے کسی معمولی بات پر پولیس چوکی کے سامنے تقریباََ آدھے گھنٹے سے روک رکھا ہے اور ان کو آگے نہ جانے دے رہا ہے۔

کچھ دیر بعد راستہ کھل گیا اور جب ہم پولیس چوکی پر پہنچے تو خالد ابراہیم صاحب نے وہاں کھڑے سپاہی سے وجہ جاننے کی کوشش کی اور کوئی معقول جواب نہ ملنے پر گاڑی سے اتر کر اندر چوکی پر چلے گے۔ وہاں پر موجود چوکی افسر سے معلومات لیں اور پھر ہم اسلامی یونیورسٹی کے قافلے کے ساتھ ہو گے۔ کچھ سفر کے بعد خالد ابراہیم خان صاحب نے راقم کو جیپ روکنے کو کہا اور خود قافلے میں موجود ایک بس پر سوار ہو گے۔ تقریباََ دس منٹ کی مسافت بس پر طے کی اور کچھ آگے جا کر دوبارہ جیپ میں سوار ہوگے۔

دریافت کرنے پر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے طلباء سے کہا کہ جہاں آپ سیر کرنے جا رہے ہیں (بنجوسہ) میں اس حلقہ کا منتخب نمائندہ ہوں اور ہمارے ہی ہاں کے ایک شہری کی طرف سے آپ لوگوں کو تکلیف پہنچی ہے جس کا میں کوئی ازالہ تو نہیں کر سکتا لیکن میں چاہوں گا کہ آپ تمام لوگ واپسی پر میرے ساتھ چائے پی کر جائیں۔ اس پر طلباء نے ان سے کہا کہ ہم نے اس تمام واقعہ کی فلمسازی کر رکھی ہے اور ہم تو آزاد کشمیر کے لوگوں کی جانب سے پاکستان سے آئے ہوئے طلباء کی ”مہمان نوازی“ سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر نے کا ارادہ رکھتے ہیں لہذیٰ اب آپ نے جو یہ بات ہم سے کی ہے یہ دوبارہ کہیں تاکہ ہم اس کو بھی فلما کر اس کی بھی تشہیر کر سکیں۔

جس پر خالد ابراہیم خان صاحب نے یکسر منع کرتے ہوئے کہا کہ میں ہر کام ضمیر کی عدالت کو سامنے رکھتے ہوئے کرتا ہوں نہ کہ کسی تشہیر کے لئے۔ البتہ آپ لوگ ہمارے مہمان ہیں اور آپ ہمارے لئے انتہائی قابل احترام ہیں۔ اس رات دس بجے تک خالد ابراہیم خان صاحب نے ان طلباء کا انتظار کیا باوجود اس کے کہ انہوں نے شہر (راولاکوٹ)سے باہر ایک کارکن کے ہاں رات کے کھانے کا وقت دے رکھا تھا۔ رات دس بجے شہر کے ایک مقامی ہوٹل میں تقریباََ 500 طلباء اور ان کے اساتذہ کو ریفرشمنٹ دی اور بعدازاں تمام 500 طلباء کے ساتھ ہوٹل کے گیٹ پر آکر مصافحہ کر کے ان کو رخصت کیا۔

راقم چونکہ اسلامی یونیورسٹی میں وزیٹنگ معلم کے طور پر پڑھا رہا تھا اسی لئے اس واقعہ کی بازگزشت لمبے عرصہ تک سنتا اور فخر محسوس کرتا رہا۔اس کے علاوہ دیگر کئی منفرد واقعات راقم کے خافظے میں مخفوظ ہیں جن سے اُن کی انسان دوستی اور عاجزی کی جھلک نظر آتی ہے۔

سردار خالد ابراہیم خان کی کمی بلاشبہ اُن کے کارکن ہی محسوس نہیں کررہے بلکہ اس قومی رہنماء کی کمی آج تمام سیاسی برادری محسوس کر رہی ہے اور آج جب تحریک کشمیر انتہائی نازک مرحلہ سے گزر رہی ہے تو پاکستانی حکمرانوں سمیت دنیا بھر میں قوم کی ترجمانی کرنے والی موثر آواز کہیں بھی سنائی نہیں دے رہی۔ قوم کشمکش کا شکار ہے اور راہنمائی کرنے والا کوئی نظر نہیں آ رہا۔

سردار امحمد ابراہیم خان اور سردار خالد ابراہیم خان کے ماننے والوں پر یہ فرض ہے کہ وہ ان کے اصولوں اور نظریات کو قوم تک پہنچائیں اور قوم کے جذبات قومی و بین الاقوامی فورمز پر پہنچا کر اپنی نمائیندگی کی میراث کو برقرار رکھیں! آخر میں سردار خالد ابراہیم خان کی برسی کے موقع پر انکی یاد میں راقم نے الفاظ کو شاعری کی صورت میں ڈھال کر ا پنے جذبات کی ترجمانی کی کوشش کی ہے جو رقمطراز ہیں:

نومبر کی یخ بستہ شامیں لوٹ آئی ہیں۔۔
کسی بچھڑے ہوئے کی یاد دلانے
کیا واقعی بچھڑ گیا ہے وہ۔۔؟؟؟
ابھی تو اُس کے لفظ سنائی دیتے ہیں۔۔
ابھی تو چہرہ بھی شناسا ہے اُس کا۔۔
اُس کے سائے کی شفقت آج بھی محسوس ہوتی ہے۔۔
غصہ کے وہ تیور بھی یاد ہیں مجھے!
ہاں۔۔ابھی تو چہرے کی جُھریاں نہیں بھولی ہیں۔۔۔
سُنو!
یہاں ہی کہیں تو للکارا ہے اُس نے
بے ضمیر عدالتوں کے جاہل منصفوں کو!!
حاکم وقت سے بھی الجھا تھا۔۔۔
وہ سر پھرا قوم کی خاطر لڑا تھا۔۔!
تو گویا زندہ ہے آج بھی۔۔۔
وہ بے تاج دلوں کا بادشاہ۔۔۔
اپنے ضمیر کی عدالت کا شہنشہاہ۔۔۔
خود تو دلوں میں مقعید ہو گیا۔۔۔
خودداری کو مگر پر دے گیا۔۔!
اُس کی راہبری کے ضامنو۔۔۔
اُس کے کردار کے مخافظو۔۔
تم سے چار نومبر پوچھتا ہے۔۔۔
کیا واقعی مر گیا ہے وہ۔۔؟
کہو۔۔۔
کیا واقعی بچھڑ گیا ہے وہ۔۔؟؟

اپنا تبصرہ بھیجیں