سگریٹ فیکٹری کے مالک نے کمشنر انکم ٹیکس پر رشوت کی ڈیمانڈ کرنے کے الزامات لگا دئیے

مظفرآباد(سٹیٹ ویوز)حکومت آزادکشمیر کی پرائیویٹ انوسٹمنٹ پالیسی کو محکمہ انکم ٹیکس ان لینڈ ریونیو رشوت کی نظر کر کے تباہ کرنے لگا۔وزیراعظم کے نام پر سرعام بھاری رشوت طلب کی جا رہی ہے۔ “وے ورڈ ٹوبیکو کمپنی” جو خالصتاً آزادکشمیر کی اپنی کمپنی ہے اور مظفرآباد میں ڈیڑھ ارب روپے کی سرمایہ کاری کرنا چاہتی ہے۔

میری کمپنی کو سیلز ٹیکس نمبر دینے کیلئے کمشنر عاصم شوکت نے30لاکھ روپے مانگے اور کہا کہ میرے رابطے وزیراعظم کے ساتھ ہیں رقم نہ ملنے پر کمپنی سیل کرنے کیلئے50افراد پہ مشتمل ٹیکس ملازمین کو روانہ کیاتاہم عدالت العالیہ نے حکم امتناعی جاری کیااور کمپنی سر بمہر ہونے سے بچ گئی۔ان خیالات کااظہار چیف ایگزیکٹیو وے ورڈ ٹوبیکو کمپنی بابر تاج راجہ نے سینٹرل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔

بابر تاج نے بتایا کہ روانی مظفرآباد کے مقام پر سگریٹ فیکٹری کیلئے زمین حاصل کی۔تمام ماحولیاتی اور دیگر لوازمات کے مطابق اقدامات کیے تعمیراتی کام سے قبل کمپنی محکمہ صنعت و حرفت آزادکشمیر سے منظور کی جبکہ پاکستان انٹلیکچول پراپرٹی آرگنائزیشن جس کا صدر دفتر کراچی میں ہے سے دس اکتوبر کو “ڈیلکس سگریٹ” کا ٹریڈ مارک رجسٹرکروایا۔ضلعی انتظامیہ سمیت تمام اداروں سے رجسٹریشن اور اجازت ناموں کے بعد ہیوی مشینری لائی گئی.

اب سیلز ٹیکس نمبر کیلئے درخواست دینے محکمہ ان لینڈ ریونیو (انکم ٹیکس)گیا تو کمشنر سردار ظفر نے نہایت گرم جوشی سے استقبال کیا اور مظفرآباد میں پہلی انڈسٹری کے قیام پر مبارک باد دی اور مکمل تعاون کا یقین دلایا تاہم وہ عمرے پر روانہ ہو رہے تھے۔ کمشنر عاصم شوکت سے ملا جس کا رویہ انتہائی توہین اور دھمکی آمیز تھا میں نے مظفرآباد میں پہلی انڈسٹری کے قیام کیلئے بریف کیا تو وہ مزید غصہ ہوئے اور کہا کہ مظفرآباد میں کسی کو میرے جیتے جی فیکٹری لگانے کی اجازت نہ ہو گی۔آپ نے فیکٹری لگانی ہے تو میرپور لگاو. اور آپ کو کس نے فیکٹری کیلئے مظفرآباد میں اجازت دی۔میں آپ کی فیکٹری سیل کروں گا اور میری بات سننے سے ہی انکار کر دیا۔

کمشنر ٹیکس نے بعد ازاں ایک ماتحت اہلکار کے ذریعے ڈیلنگ کی پیش کش کی اور کہا کہ 30لاکھ دو اور سیلز ٹیکس نمبر مل جائے گا اور کام کرنے کی اجازت بھی ملے گی۔آپ سادہ لوح لوگ ہواس طرح فیکٹریاں نہیں لگتی۔آپ ہمارے ساتھ معاملات طے کرو۔ہم نے محکمہ کی سرمایہ کاری کے خلاف مکروہ پالیسی دیکھ کر عدالت العالیہ رجوع کیا اور عدالت نے ہمارے حق میں حکم امتناعی جاری کر دیا۔

اس دوران راشی افسر نے محکمہ انکم ٹیکس کے باوردی تین درجن سے زائد اہل کار اور3گاڑیاں پولیس ہمراہ فیکٹری پر دھاوا بولنا چاہا جو ناکام ہو گیا۔عاصم شوکت کو میں نے کہا کہ آپ کی شکایت وزیر اعظم سے کروں گا تو اس نے اپنا موبائل اُٹھا کر کہا کہ آپ شوق سے کرو۔وزیراعظم
صاحب میرے ساتھ رابطے میں ہیں آپ میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے بلکہ اپنا ہی نقصان کرواؤ گے۔

بابر تاج نے بتایا کہ عاصم شوکت کے پیچھے مردان کے دو بڑے مافیاز ہیں۔جنہوں نے میرپور میں ٹوبیکو فیکٹریاں لگا رکھی ہیں اور ماہانہ ڈیڑھ لاکھ کارٹن سگریٹ بنا کر پانچ سے سات ہزارکارٹن پروڈکشن ظاہر کرتے ہیں اور وہ کسی نئے آدمی کو اس فیلڈ میں آنے کی اجازت نہیں دیتے۔اُن کی طاقت کا یہ عالم ہے کہ خام مال برار کوٹ ایکسائز چوکی پر پکڑوا کر ڈرائیور کو حراساں کیا گیا کہ آپ بولو یہ مال بابر تاج کا ہے حالانکہ میری ابھی پروڈکشن ہی شروع نہیں ہوئی بجلی کا میٹر تک نہیں لگا۔پروڈکشن کس بات کی کرتے۔

مجھے کہا گیا کہ30لاکھ دو ورنہ ایف آئی آر میں تمہارا نام آئے گا بابر تاج نے کہا کہ میں وزیراعظم کی سرمایہ کاری پالیسی کے تحت اپنے شہر میں فیکٹری لگانا چاہتا ہوں اور اس سے 2سو سے زائد پڑھے لکھے بے روزگار نوجوانوں کو روزگار ملے گا۔جبکہ محکمہ انکم ٹیکس کو سالانہ اچھی خاصی آمدنی ہو گی مجھے غیر ریاستی مافیا کے ہاتھوں رسوا کیا جا رہا ہے وزیراعظم،چیف سیکرٹری اس کا نوٹس لیں، کمشنر عاصم شوکت کو مبینہ طور پر ساڑھے 4ارب کے غیر قانونی اثاثوں اور دیگر کرپشن کے ثبوت میرے پاس ہیں اس پر تحقیقات کی جائیں جلد اگلی پریس کانفرنس میں اسے بے نقاب کروں گا۔

اس حوالے سے جب کمشنر ٹیکس عاصم شوکت سے مؤقف جاننے کی کوشش کی گئی تاحال ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں