صدائے وقت/رانا اعجاز حسین چوہان

مسئلہ کشمیر کو دبایا نہیں جاسکتا

مودی حکومت کی طرف سے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے دوسرے مرحلے کے تحت ، بھارت کے زیر تسلط مقبوضہ جموں و کشمیر کو تقسیم کرنے کے منصوبے پر31 اکتوبر2019ء سے عمل درآمد کر دیا گیاہے ،جس کے تحت دیگر ریاستوں کے ہندو شہریوں کو مقبوضہ کشمیر میں جائیداد خریدنے اور مستقل رہائش کا حق حاصل ہوگیا ہے ۔ اس بھارتی اقدام کے بعد کشمیری مسلمانوں اور لداخ کے بودھ باشندوں میں تشویش شدت اختیار کرگئی ہے –

جبکہ اس مذموم عمل کو کامیاب بنانے پر بھارتی جنتا پارٹی نے جشن منایا ہے ۔ جبکہ مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو 2 حصوں میں تبدیل کرنا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور شملہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے ۔ حالیہ بھارتی اقدام کشمیریوں کے بھروسے کیساتھ دھوکا ہے، کشمیریوں کے حق پر ڈاکہ ہے، مقبوصہ کشمیر میں غیر مسلموں اور غیر کشمیریوں کو بساکر یہاں کشمیری مسلمانوں کی تعداد کم کرنے کی سازش ہے۔ مودی سرکار کا یہ فیصلہ 1947 ء میںمقبوضہ کشمیر کی لیڈر شپ کی جانب سے بھارت سے الحاق نہ کرنے کے فیصلے سے متصاد م ہے –

یکطرفہ بھارتی فیصلہ سراسر غیر قانونی ، غیر آئینی ہے جس کے خطرناک نتائج ہوں گے، اس سے مسئلہ کشمیر مزید پیچیدہ ہوگا اور خطے کا امن تباہ ہوکر رہ جائے گا۔یہی وجہ ہے کہ کنٹرول لائن کے دونوں جانب بسنے والے کشمیری مسلمانوں اور پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی خود مختار حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور35 اے ختم کرنے کا بھارتی فیصلہ مسترد کردیا ہے۔ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی بجائے مقبوضہ وادی کشمیر میں بھارتی مظالم انتہا ء پرہیں جہاں90 روزہ کرفیو سے کاروبار زندگی مفلوج ہوکررہ گیاہے-

جو کہ آبادی کو بلا خوراک کے جیل میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ جبکہ ایک لاکھ کشمیریوںکی شہادت کے بعدبھی بھارتی فوج انتہائی ڈھٹائی سے بربریت کی نئی داستانیں رقم کر رہی ہے اور مظالم روکنے کی بجائے مقبوضہ وادی کشمیر میں مذید تازہ دم فوجی دستے بھیج دیئے ہیں۔اس وقت کرفیو کے باوجود پوری وادی سراپا احتجاج ہے اور ’’آزادی آزادی‘‘ کی صدائوں سے گونج رہی ہے۔

جبکہ تحریک آزادی کے دوران بھارتی بربریت سے شہید ہونے والے نوجوانوں کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر بڑے بڑے جلوسوں کی صورت میں آخری منزل تک پہنچایا جارہا ہے اس سے بھارتی حکمرانوں کے دہشت گردی کے پروپیگنڈے کی دھجیاں بکھر گئی ہیں۔ د نیا بھر میں انسانیت کی اعلیٰ اقدار سے محبت کرنے والے لوگ بھارتی مقبوضہ کشمیر کے ان بچوں، جوانوں اور بوڑھوں کو سلام پیش کررہے ہیں-

جنہوں نے ہر قسم کے مظالم کا سامنا کرنے اور ہر روز اپنے پیاروں کی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے کے باوجود آزادی و حریت کا پرچم نہ صرف سر بلند رکھا بلکہ ان کی جدوجہد ہر گزرتے دن کے ساتھ زیادہ ولولہ انگیز نظرآرہی ہے۔ مظلوم کشمیری عوام نے بھارتی سکیورٹی فورسز کے ہر ظلم کے باوجود آزادی آزادی کے نعرے لگا کر اور جابجا پاکستانی پرچم لہرا کر اقوام عالم کے سامنے یہ واضح کردیا ہے کہ وہ اپنی قسمت کا فیصلہ اپنی مرضی سے کرنے کے حق سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

آرٹیکل35 اے کے تحت مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے سوا بھارت کا کوئی بھی شہری یا ادارہ جائیداد نہیں خرید سکتا جبکہ سرکاری نوکریوں، ریاستی اسمبلی کے لیے ووٹ ڈالنے اور دوسری مراعات کا قانونی حق بھی صرف کشمیری باشندوں کو حاصل تھا۔ بھارتی انتہاپسند چاہتے ہیں کہ آرٹیکل 35 اے کوختم کرکے مقبوضہ کشمیر میں مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کیا جائے اور پھر اسے ختم کرکے مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا غاصبانہ قبضہ مستحکم بنایا جائے ۔

بھارتی انتہا پسندوں کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 35 اے کے خاتمے کے لیے پہلے بھی کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔حکومت پاکستان کی جانب سے کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ میں کئی بار پہنچایا گیا اور ہر بار اقوام متحدہ کی قرار دادوں میں کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دے کر اس کے حل کے لئے بھارت پر زور دیا گیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیریوں پر مظالم کے بہتر سال کے بعد تک اس مسئلے کے حل کے سلسلے کی کوششیں جاری ہیں-

جس کے لئے کئی فارمولے اور معاہدے ہو چکے ہیں لیکن بھارت کبھی اس معاملے کے حل میں مخلص نہیں رہا ، لیکن کیا وجوہات ہیں کہ اقوام متحدہ بھی اپنی قرار دادوں پر عملدر آمد کرنے میں بے بس ہے ؟ جہاں تک بڑی طاقتوں کا تعلق ہے ان کا اپنا طویل المدت مفاد اسی میں ہے کہ پاکستان اور بھارت میں کبھی امن و امان قائم نہ ہو کیونکہ یہ تاریخی خطہ لا محدود وسائل و معادنیات کا مالک ہے ،اور کہیں یہ خود آپس میں کوئی سمجھوتہ نہ کر لیں،اور یہ اپنی مرضی سے عالمی سیاست میں اپنا کوئی کردارادا کرنے کے قابل نہ ہوجائیں اور بعید از قیاس نہیں کہ طاقتیں بھارت کے ساتھ اس پر بھی متفق ہوں کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست پاکستان کو کہیں اقوام عالم اور ترقی یافتہ ممالک میں برتری حاصل نہ ہو جائے ۔

کشمیر برصغیر کی تقسیم کا نامکمل ایجنڈا توبلا شبہ ہے ہی لیکن یہ عصرحاضر کے چند اہم ترین سیاسی اورا نسانی مسائل میںسے ایک نہایت تکلیف دہ مسئلہ بھی ہے ۔ کشمیر کی بے پناہ مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے ہمیںاس وقت اپنے سامنے یہ سوال رکھنا چاہئے کہ بطورریاست اور من حیث القوم ہم ایسے کیااقدامات اٹھاسکتے ہیںجن کے ذریعے ہم اپنے کشمیر ی بھائیوںکی بھرپور حمایت کر سکیں۔ پاکستان کو شدید ضرورت ہے کہ وہ میڈیا کے ذریعے اصل صورتحال اور سنگینی کے بارے میں دنیا کو آگاہ کرے تاکہ بھارتی میڈیا کا مقابلہ کر کے کشمیری عوام سے موقف کی صحیح ترجمانی ہوسکے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں