ایمبولینس کا راستہ روکنے والے درندے

تحریر:محمدحنیف تبسم کالم نویس/رائٹر

اپریل2005 میں راقم پاکستان کے سب سے بڑے نظریاتی مؤقر اخبار نوائے وقت میں بحیثیت سب ایڈیٹر ذمہ داریاں سرانجام دے رہا تھاحسب معمول کھنہ پل سے ٹیوٹا ہائی ایس پر بیٹھ کرمنزل کیطرف روانہ ہوا وقت غالباًدن 11:30 بجےکا تھا۔ فیض آباد چیک پوسٹ کراس کی تو بے لگام ٹریفک جام تھااسی اثنا میں ایک ایمبولینس سائرن بجاتی ہوئی پاس سے گزری تو زبان سے بےاختیار کسی کے پیارے کے لیے دعا نکلی یا اللہ خیر ہوہماری گاڑی آہستہ آہستہ زیرو پوائنٹ کیطرف گامزن تھی ایمبولینس بھی ساتھ ساتھ چل رہی تھی اور میں ایمبولینس میں موجود مرد و خواتین کے رونے دھونے کی آواز کو سن سکتا تھاکیونکہ ہمارا اور ایمبولینس کا فاصلہ ایک گز سے زیادہ نہیں تھا۔

ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ایمبولینس مکمل طور پر ٹریفک میں پھنس کر رہ گئی ابھی تو نقشہ بدل گیا ہے لیکن 2005 میں یہ شاہراہ دو رویہ ہوتی تھی۔ روات سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کو اس کے پیارے اسکو لے کر پمز جا رہے تھےزیرو پوائنٹ سے پیچھےزیادہ تر لوگ گاڑیوں سے اتر کر پیدل چلنے لگےاس اثنا میں ایمبولینس ہوٹر بجاتی رہ گئی لیکن ٹریفک میں ایمبولینس کو راستہ ملنا تھا نہ ملا۔ چند لمحوں بعد ایمبولینس کا دروازہ کھولااور اس میں موجود دو نوجوان اور خواتین باہر آ گئےخواتین کی چیخ و پکار شروع ہو گئی میں بھی فوراً گاڑی سے اتر کر ایمبولینس کے پاس آیاجب دیکھا تو ایک بے بس و مجبور ماں کی گود میں اس کے بیٹے کے آخری لمحات گزر گئے تھے ایمبولینس کو راستہ نہ ملنے کیوجہ سے اس کا بیٹا،بہنوں سے ان کا بھائی،بچوں سے ان کا باپ اور ایک سہاگن سے اس کا سہاگ ہمیشہ ہمیشہ کےلیے چھین گیا۔عوام کا جم غفیر اس غمناک موت کا تماشہ دیکھنےجمع ہو گیااور ہر کوئی حکمرانوں کو کوسنے لگااور متاثرہ خاندان کی بے بسی پر اپنی فلاسفی جھاڑنے لگا۔

لیکن درد تھا توصرف اس کے اپنوں کو۔میں بھی تماش بینوں کیطرح اس نوجوان کی لاش کو دیکھتا رھاجس کے سینے پر اس کا دایاں ہاتھ موجود تھاوالدہ کے دکھ کو میں تحریر میں نہیں لا سکتاکیونکہ مجھےشفٹ پر پہنچنا تھا میں اپنے آپ کو بھی اس نوجوان کا قاتل سمجھتے ہوئے پیدل ہی زیرو پوائنٹ کیطرف چل پڑا جب زیرو پوائنٹ چوک پر پہنچا تو معلوم ہوا کہ اس وقت کے چیئرمین کے احکامات روڈ کی تزیئن و آرائش اور پھول کیاریوں کا کام ہو رہا ہےاور آبپارہ جانے والی شاہراہ گاڑیوں کی غلط اوورٹیکنگ کی وجہ سےمکمل طور پر بلاک ہو چکی تھی کوئی متبادل راستہ بھی نہیں تھاصرف غلط پارکنگ اور ڈرائیور حضرات کی جلدی نے بیچ سڑک میں ایمبولنس کو راستہ نہیں دیا اور بے بس مامتا کی گود میں سر رکھے وہ نوجوان اپنی جان کی بازی ہار گیا میں آج بھی کبھی اس مقام سے گزرتا ہوں تو وہ تمام مناظر میری آنکھوں کے سامنے دھندلانے لگتے ہیں بہرکیف خود کو اس نوجوان کا قاتل محسوس کرتے ہوئے دکھی دل سے کچھ تاخیر سے دفتر پہنچاتو اس وقت کے سنیئر نیوز ایڈیٹر جو کہ اب جنت البقیع میں مدفون ہیں پوچھنےلگے بیٹا خیر تو ہے آج خلاف معمول اتنی تاخیر کیوں؟

میں نے سارا واقعہ بیان کیااور بعد ازاں اس اجتماعی بے حسی اور اس قتل کا زمہ دار کون کے حوالے سے لکھا۔وہ بھی سیمی سٹوری ہے جو کہ پھر کبھی قاریئن کے گوش گزار کروں گا۔اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے برطانیہ چلا گیا وپاں پر قیام کے دوران مجھے حقیقی معنوں میں پہلی بار معلوم ہوا کہ انسانیت کیا ہے اور انسانیت کی خدمت اور عظمت کس کو کہتے ہیں۔

وہاں میں نے دیکھا کہ اگر کہیں ایمبولینس نے ہوٹر بجایا تو تمام گاڑیاں فوراً رک جاتی ہیں اور یئمبولینس کو راستہ فراہم کرتی ہیںاگر راستہ نہ ملے تہ قانون نے یہ اجازت دی ہوتی ہے کہ آپ اپنی گاڑی کو ہارڈ شولڈر پریا دوسرے ٹریک پر لے جا سکتے ہیں اور اس کا عملی مشاہدہ میں کئی بار اپنی آنکھوں سے کر چکا ہوں نہ جانے دوسروں کے دکھ درد تکلیف کو محسوس کرنے اور سمجھنے کی حس کہاں سے ان لوگوں نے پائی ہے جو بخثیت قوم ہم نہیں پا سکے۔

دوسروں کے دکھ درد تکلیف کا جو احساس بخثیت مسلمان ہمیں ہونا چاہیے وہ میں نے وہاں کے غیر مسلموں میں دیکھا اور دل خون کے آنسو رویا کہ ہم کہاں کھڑے ہیں یقین مانیے جتنا پیار محبت وہ اپنے جانوروں سے کرتے ہیں اتنا اگر ہم اپنے اردگرد موجود انسانوں سے کریں تو تبدیلی چند دنوں میں ممکن ہےبات صرف اپنے رویوں اور سوچ میں مثبت تبدیلی لانے کی ہے۔ بہرکیف تحریر کے اہم ترین پہلو کیطرف آتا ہوں گزشتہ عرصے میں میرے ایک قریبی عزیز کو گر کر لگ گئی جس کے باعث وہ فوراًبے یوش ہو گیا فوری طور پر مقامی ہسپتال لے جایا گیا جہاں ڈاکٹرز نے کہا کہ ہم فرسٹ ایڈ دے رہے ہیں لیکن مریض کی حالت ٹھیک نہیں ہے اسکا فوری طور پر سٹی سکین کروانا ضروری ہےتا کہ یہ معلوم ہو سکے کہ دماغ کی شریانوں میں خون تو نہیں جم گیا ہے ۔

ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتال جو کہ سی۔ایم۔ایچ راولاکوٹ ہے فون کیا تو معلوم ہوا کہ آپریٹر موجود ہے نہ ہی مشین ورکنگ کنڈیشن میں ہے بارش تھی کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی اور رات تقریباً 9 بجے کا وقت اور دوسری طرف ایک ینتائی قریبی عزیز کی رسم حنا کی تقیب بھی شروع ہونے کو تھی جس میں راقم کی شرکت بھی ضروری تھی اور میں تیاری کر کے شادی حال کی طرف ہی جا رہا تھا کہ صورتحال اسقدر جلد بدل گئی کہ فوراً فلاحی تنظیم مداوا کی ایمبولینس کو کال کر کے بلایا اور قریبی عزیز کزن کو ایمبولینس میں ڈال کر اللہ کریم سے دعا کرتے ہوئے راولپنڈی روانہ ہوگیا اللہ شاہد ہے کہ ایمبولینس کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے کسی انسان کی زندگی بچانے کے لیے کیسے کیسے خیالات اور وسوسے ذہن میں آتے ہیں اور درد کیا ہوتا ہے احساس کیا ہوتا ہے تکلیف کیا ہوتی ہے۔

شاید زندگی میں پہلی بار حقیقی معنوں میں محسوس ہو رہا تھا میں روزینہ ہوٹر بجاتی ایمبولینسوں کو دیکھتا تھا کئی بار پاس سے بھی گزری لیکن وہ درد کرب یا تکلیف کا اندازہ بھی نہیں کر پایا جو ان ایمولینسوں میں موجود مریض کے لواحقین کو ہوتے تھے لیکن آج پہلی بار یہ احساس ہو رہا تھا کہ ایمبولینس میں کسی مریض کے ساتھ بیٹھنا کس قدر درد اور زہنی کرب کا باعث ہے بہرکیف سفر جاری رہا شدید بارش کے باعث لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے پتھر بھی اوپر سے روڈ میں گر رہے تھے اور پہلے سے بھی بھاری پتھر بیچ سٹرک میں سری مشکلات اور خوف میں اضافے کا باعث بن رہے تھے کیونکہ مریض کو جلد از جلد منزل پر پہنچانا بھی ضرعری تھا لیکن پتھروں کو ہٹاتے ہٹاتے آزادپتن کا پل کراس کیا تو معلوم ہوا کہ ایک نہایت ہی بھاری پتھر سڑک میں پڑا ہے اور وہاں سے راستہ انتہائی تنگ ہے اور گاڑی کا گزرنا تقریباً ناممکن ہے لیکن داد دیتا ہوں ایمبولینس کے ڈرایئور کو جس نے کمال مہارت سے مریض کی حالت کے پیش نظر وہاں سے گاڑی کو گزار دیا اور سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا مشکلات کو عبور کرتے اور مریض کو دیکھتےہوئے جو کہ ابھی تک بالکل بے حس و حرکت پڑا تھا کہوٹہ چیک پوسٹ کراس کی تو بے لگام ٹریفک کا ایک ہجوم امڈ آیا۔

مریض کی حالت بتدریج خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی تھی کیونکہ اب اس کا سانس بھی اکھڑنا شروع ہو گئی تھی یہاں پر ہمارے پاکستانی اور کشمیری عوام کی بے حسی کو پہلی بار دل سے محسوس کیا کوئی بھی ایمبولینس کو راستہ دینے کو تیار نہیں تھا باوجود اس کے کہ ایمبولینس ہوٹر لگاتار بجا رہی تھی لیکن کسی کو ٹس سے مس تک نہیں ہو رہا تھا ہر ایک کو جلدی تھی ڈرایئور کو چھوڑ کر میں اور میرے دو ساتھی جو کے میرے ساتھ ایمبولینس میں موجود تھے باہر نکل آئے اور تیز بارش میں راستہ بنانے کی کوشش کرنے لگے جو کہ غلط اوورٹیکنگ اور رانگ پارکنگ کیوجہ سے بند ہو چکا تھا۔

اسی دوران میں جب میں ایک لگژری کار کے پاس پہنچا صاحب کار سوشل میڈیا پر مصروف ہونے کیوجہ سے ٹریفک کے رواں ہونے سے لاعلم تھے کو کہا کہ ایمبولینس میں مریض سیریس ہے آپ اپنی گاڑی تھوڑا سایئڈ پر کر لیں تاکہ ایمبولینس کو راستہ مل سکے تو وہ صاحب انتہائی کرخت انداز میں بولے میں کیا کروں۔ میں خود یہاں پر ذلیل و خوار ہو رہا ہوں۔ تو مجھے ایسا محسوس ہوا یہ کوئی انسان نہیں بلکہ انسان کے روپ میں کوئی آدم خور درندہ ہے اس میں احساس نام کی چیز تک نہیں۔

ہمیں دیکھتے ہوئے دو اور لوگ بھی برستی بارش میں باہر نکل آئی اور وہ بھی راستہ کلیئر کرنے کی کوشش کرنے لگےالمختصر سہالہ پھاٹک سے کاک پل کا 10 منٹ کا سفر ہم نے 1 گھنٹہ40 منٹ میں طے کیا سہالہ پھاٹک جس کے بند ہونے کیوجہ سےکئی اموات رونما ہو چکی ہیں اگر حکومت پاکستان کشمیری عوام پر رحم کرتے ہوئے اس جگہ ایک فلائی اوور یا انڈر بائی پاس بنا دے تو کشمیری عوام کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو بھی فائدہ ہو گا اور اس کی وجہ سے سیکڑوں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکتا ہے۔

لیکن یہاں عوام کی سنتا کون ہے تب تک نہیں جب تک خدانخواستہ کبھی کسی صدر ، وزیراعطم، چیف جسٹس یا اعلیٰ شخصیت کا نیٹا یا کوئی قریبی عزیز زندگی اور موت کی کشمکش میں ہو اورپھاٹک بنڈدہونے کی وجہ سے پھنس جائے تب جا کر شائد حکومت کو احساس ہو یہ ایک اور انتہائی سلگتا ہوا موضوع ہے پھر کسی وقت اس پر قلم اٹھاوں گا موضوع پر آتا ہوں کاک پل پہنچے تو مریض انتہائی سریس ہو گیا ایسے محسوس ہواکہ خدانخواستہ مریض نے دم دے دیا ہو فوراً ایمبولینس میں موجود آکسیجن کو لگایا یہ محسوس کرنا مشکل ہو رہا تھا کہ مریض کی سانسیں چل رہی ہیں کہ نہیں ۔ ڈرایئور نے جانوں کو خطرے میں ڈال کر انتہائی برق رفتاری سے ایمبولینس کو دوڑایا اور اسلام آباد ایک بڑے مشہور ہسپتال (نام مینشن نہیں کر رہا) کے ایمرجنسی گیٹ کے سامنے رکا۔جلدی سے مریض کو اندر منتقل کیا تو یہاں بھی آوے کا آوا ہی بگڑا پایایہاں بھی پہلی بار ہی آنے کا اتفاق ہوا بہت سے جاننے والے بھی اس ادارے میں موجود تھے لیکن کسی کو زحمت دینا مناسب نہ سمجھا، مریض کی حالت انتہائی نازک تھی لیکن متعلقہ سٹاف اپنی خوش گپیوں میں مصروف تھا۔ سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال ہو رہا تھا رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا اور ایمرجنسی میں تعینات عملہ اپنی مستیوں میں مگن تھا شائد یہ خوف بھی نہیں تھا کہ ایک ذات ہے جو ہمیں دیکھ رہی ہے اور ہم یہاں کس مقصد کے لیے تعینات کیے گیے ہیں۔

میں یہ سوچ رہا تھا کہ یا خدایا! ہم ایک اسلامی فلاحی ریاست کی قوم ہیں ہم میں انسانیت کی خدمت کا جذبہ کدھر چلاگیا سوچا کہ شاید میرٹ پر کام ہو جائے لیکن نہ ہو سکا اور جب میرے ساتھ موجود مریض کے بھائی نے جب یہ کہا کہ یہاں تو ایسا لگتا ہے کہ مریض کی ڈیڈ باڈی ہی لے جانی پڑے گی تو میں پھٹ پڑااور زور زور سے چلایاکہ تم لوگ اسان ہو ڈاکٹر ہو ہسپتال سٹاف ہو یا ان کے روپ میں چھپے خونخوار درندے ہو کبھی مریض جوکہ سڑیچر پر پڑا ہے کبھی ادھر اور کبھی اُدھر بھیجتے ہو حلال کماؤ اور کچھ خدا کا خوف کرو کسی کا لخت جگر تڑپ رہا ہے اور تم لوگوں کو پرواہ تک نہیں لیکن پحر بھی لیت و لعل سے کام لیا جا رہا تھا اور بات بنتے دیکھ نہیں رہا تھا۔

تب پہلی بار وہ بھی ایک انسانی جان کو بچانے کے لیے اسی ہسپتال میں موجود ایک اعلیٰ شخصیت کو فون کیاجو اس وقت ہسپتال میں ہی موجود تھی اور اس کو مریض کی حالت اور ہسپتال عملے کاے رویئے کے متعلق آگاہ کیا تو کچھ ہی دیر میں وہاں پر صورتحال یکسر ہی تبدیل ہو گئی مجھے کہا گیا کہ اپ بیٹھ جایئں ہم سب کچھ دیکھ لیتے ہیں اور جو بھی کرنا ہے ہم خود ہی دیکھ لیتے ہیں اور پھر آناً فاناً صرف 45 منٹ میں نامعلوم کیسے سی ٹی سکین بشمول 4 ٹیسٹ ہو گئے ۔ میں یہاں بھی سوچوں میں چلا گیا تخیل کی آنکھ دیکھ رہی تھی کہ میرے ایک دوست کو سلاؤ برطانیہ میں دل کی تکلیف ہوئی تو کچھ ہی دیر میں ایمبولینس آ پہنچتی ہے اور جلد از جلد ریسیکیو کر کے ہسپتال منتقل کر دیا جایا ہے۔اور وہاں پر فوراً ہی ڈاکٹرز اور نرسنگ سٹاف انتہائی خوش دلی سے مریض کے علاج کے لیے ٹوٹ پڑے۔

جیسے مریض ان کا اپنا قریبی ہو زندگی موت تو اللہ پاک کے ہاتھ میں ہے لیکن بروقت تدبیر تقدیر بدل دیتی ہے کے مصداق ڈاکٹرز کے بروقت علاج نے اس کی زندگی بچائی اور میرا وہ دوست آج تک بفضلِ خدا حیات ہے اور ٹھیک ہے۔یہاں پر معاملہ ہی الٹا ہے- بہرحال شکر پروردگار کا کہ صبح صادق کے وقت مریض کے جسم میں تھوڑی حرکت محسوس ہوئی اور صبح تک دھیرے دھیرے اسے ہوش آ گیا ورنہ ہسپتال عملے اور ڈاکٹرز کے رویے نے ہمیں شدید مایوس کر دیا تھا۔

قاریئن ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم بحمثیت انسان انسانیت کا درد محسوس کریں اور دوسروں کی مشکلات کو اپنے لیول تک دور کرنے کی کوشش کریں اور ہر کسی کے دکھ درد کا مداوا کریں آپ کسی بھی پوسٹ پر ہوں کسی بھی پوزیشن پر اور کسی بھی جگہ پر ہوں سب عارضی ہے انسانیت سے محبت اور انسانوں کے لیے آسانیاں پیدا کرنے اور انسانوں نہ صرف انسانوں بلکہ ہر زی روح کی وجہء خوشی بننے اور خوشیاں بانٹتے رہنے سے ہی ہم رہتی دنیا میں امر ہو سکتے ہیں۔

قاریئن میں آپ سب کو بلعموم اور اپنے دوست احباب کو بلخصوص یہ گوش گزار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ جہاں بھی ایمبولینس کو دیکھے خالی یا مریض کے ساتھ فوراً راستہ دے دیں اور اگر کہیں ٹریفک میں پھنسی ہو تو اس کے لیے راستہ بنایئں شاید آپ کے اس عمل سے کسی کی زندگی بچ جائے اور آپ کو اجرِ عظیم کے ساتھ کسی کی دعا بھی مل جائے اور آپ کی بگڑی بھی بن جائے ڈاکٹرز اور ان سے متعلقہ دوسرے عملے کو بھی یہ پیغام دینا چاہوں گا کہ آپ کے پیس آنے والا آپ کو مسیحا سمجھ کر آتا ہے ان کے ساتھ اچھا رویہ اپنایئں اور انسانیت کی خدمت فرض سمجھ کر خوش احلاقی اور خوش دلی سے کریں ۔

زندگی بہت مختصر سی ہے کوشش کریں کچھ اچھا کر کے جایئں اور نہ صرف انسانوں کی بلکہ اصل انسانیت تو یہ ہے کہ ہر زی روح کی فلاح و بہبود کے لیے اپنی زندگی کو صرف کیا جائے۔میرا یقین ہے کہ اس عمل سے آپ کا یہ جہاں اور وہ جہاں دونوں آباد رہیں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں