کرتار پورہ راہ داری کھولنے کو بھارت نے پاکستانی سازش قرار دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) انڈیا کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ملک کی شمال مغربی ریاست پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ نے بدھ کو کہا ہے کہ کرتارپور راہداری کے حوالے سے پاکستان کے ‘خفیہ ایجنڈے’ سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔انڈین میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا ‘ایک طرف وہ ہمیں پیار دکھا رہے ہیں اور دوسری طرف گڑبڑ کر رہے ہیں۔ ہمیں بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔
’انھوں نے یہ باتیں پاکستان میں ایک ویڈیو کے سامنے آنے کے بعد کہی ہیں جن میں پنجاب کی علیحدگی پسند تحریک خالصتان کی حمایت کرنے والے رہنماؤں کو دکھایا گیا ہے-

جو ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ ویڈیو پاکستان میں کرتارپور آنے والے سکھ زائرین کے خیر مقدم کے لیے جاری کی ہے۔انڈیا کے اخبار انڈین ایکپسریس کے مطابق اس ویڈیو میں نظر آنے والے پوسٹر میں خالصتانی رہنماؤں جرنل سنگھ بھنڈراں والا، میجر جنرل صاحب سنگھ اور امریک سنگھ خالصہ نظر آ رہے ہیں۔ یہ وڈیو پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے جاری کی گئی ہے۔اس پوسٹر پر جرنل سنگھ بھنڈراں والا کی تصویر دکھائی دے رہی ہے۔

علیحدگی پسند رہنما بھنڈراں والا سنہ 1984 میں امرتسر کے گولڈن ٹمپل میں ’آپریشن بلیو سٹار‘ میں مارے گئے تھے۔ویڈیو میں نظر آنے والے پوسٹر میں ‘ریفرنڈم 2020’ بھی لکھا گیا ہے۔ علیحدہ خالصتان کا مطالبہ کرنے والے استصوابِ رائے کی باتیں کرتے رہے ہیں۔انڈیا میں بھنڈراں والا کو شدت پسند رہنما کہا جاتا ہے جو دمدمی ٹکسال کے رہنما تھے۔ وہ سنہ 1978 میں سکھ نرنکاری تصادم سے منظر عام پر آئے تھے۔ انھیں پنجاب میں سکھوں کے احیا اور شدت پسندی کی علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

مارے جانے سے قبل گرفتاری سے بچ کر انھوں نے اکال تخت پر قبضہ کرلیا تھا۔میجر جنرل صاحب سنگھ انڈیا کی فوج میں تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے خالصتانی تحریک میں شمولیت اختیار کی تھی۔ وہ جرنل سنگھ بھنڈرا والا کے دمدمی ٹکسال میں شامل ہوئےاور ان کے فوجی مشیر بھی بنے۔صاحب سنگھ نے آپریشن بلو سٹار کے دوران سکھ جنگجوؤں کو گولڈن ٹمپل کے حصار کو برقرار رکھنے کے لیے منظم کیا۔ اپنی ملازمت کے دوران انھوں نے پاکستان سے بنگلہ دیش کی علیحدگی کی لڑائی میں بنگلہ دیش کی ملیشیا مکتی باہنی کی تربیت میں اہم کردار ادا کیا تھا-

اس پوسٹر میں علیحدگی پسند رہنما امریک سنگھ بھی دکھائی دے رہے ہیں۔ وہ آل انڈیا سکھ سٹوڈنٹس فیڈریشن کے رہنما تھے۔ وہ گیانی کرتار سنگھ بھنڈراں والا کے بیٹے تھے اور کرتار سنگھ دمدی ٹکسال کے 13 ویں لیڈر تھے۔امریک سنگھ خالصہ قدامت پسندی کے حق میں تھے اور وہ گربانی اور سکھ مذہب کی ادبیات کا ادراک رکھتے تھے۔ سنہ 1979 میں انھوں نے شریمونی گوردوارہ پربندھک کمیٹی یا انتظامیہ کے انتخابات میں بھی شرکت کی-

لیکن وہ جیون سنگھ کے ہاتھوں شکست سے دو چار ہوئے۔عیلحدہ ملک خالصتان کا مطالبہ کرنے والے ان تینوں رہنماؤں کی موت آپریشن بلو سٹار میں چھ جون سنہ 1984 کو ہوئی۔انڈیا میں سوشل میڈیا پر اس حوالے سے گذشتہ کئی گھنٹوں سے ‘خالصتانی’ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ٹوئٹر صارف ریٹائرڈ میجر گورو آریا نے لکھا ’اور امرتسر میں سدھو اور عمران کا پوسٹر نظر آ رہا ہے۔ میں نے ہمیشہ کہا ہے کہ پاکستان کرتارپور راہداری سکھ زائرین کے لیے نہیں بلکہ پنجاب میں خالصتانی دہشت گردی کو پھر سے شروع کرنے کے لیے چاہتا ہے۔

سدھو کی شکل میں اسے صحیح میر جعفر مل گیا ہے۔ اب انڈیا کو ایک دوسرے کے پی ایس گل کی ضرورت ہے۔’ایک صارف یاسر محمود نے لکھا کہ ‘کیا آپ انڈیا کے سکھوں کو روبوٹ سجھتے ہیں جس میں پاکستان بہ آسانی خالصتانی مالويئر داخل کر دیں گے۔ یہ تشویش انڈیا کے اپنے سکھ باشندوں پر اعتماد کی کمی کی وجہ سے ہے۔’دوسری جانب انڈیا کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے سکھ گرو گرونانک کے 550 ویں جشن ولادت پر کہا ہے کہ اس دور میں گرو نانک کی ہم آہنگی والی تعلیمات امن قائم کر سکتی ہیں۔

اس موقعے پر انھوں نے شاعر مشرق علامہ اقبال کی گرو نانک کی شان میں لکھی نظم کا بھی ذکر کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں