نقطہ نظر/عفت حسین رضوی

دھرنے والو! گانٹھ لگا جوتا بارش میں گَلا نہ دینا

میرے معصوم ہم وطنو! اے میرے پاکستان کے جوانو اور بزرگوارو! اے اسلام آباد دھرنے میں شریک نفیس انسانوں! اے وفاداری میں ڈھلے مٹی کے پیکرو! اے پھٹے جوتے گانٹھ کر پاکستان کی سڑکوں پر نعرے لگانے والو! سنو اور بہت ہی غور سے سنو! پہلے ان بیچاروں کا ذکر سنو جو تمہاری طرح یہاں لائے گئے تھے۔

تم سے پہلے بھی یہاں، اسی بادشاہ کے شہر میں کچھ سر پھروں کا گزر ہوا تھا۔ انہیں ایک کینیڈین مولوی اور ایک کھلاڑی بہت سے خواب دکھا کر لائے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب 2014 میں پاکستان عوامی تحریک اور تحریک انصاف نے ڈی چوک کی جانب لشکر کشی کی۔ اسے لشکر کشی کہنا یوں بھی درست ہے کہ مقصد جمہوری نظام مگر انداز چڑھائی کرنے والا تھا، مطالبات ان کے بھی لگ بھگ وہی تھے جو آج تمہارے ہیں۔

اے انصاران اسلام! اے ناصران پاکستان تمہیں خبر تو ہوگی کہ وہ ہزاروں معصوم کارکن راستے میں آنے والی ہر رکاوٹ کو سونامی کی طرح بہاتے ہوئے سیدھے پارلیمنٹ کے سامنے خیمہ زن ہوئے تھے۔ ان معصوموں سے کہا گیا کہ تم عظیم انقلاب کے ہراول دستے کے سپاہی ہو، وہ جوش میں اور چوڑے ہوگئے۔ عمران خان کنٹینر پر کھڑے ہو کر جب سیاسی امیروں اور اشرافیہ کو للکارتے تو دھرنے کے معصوم شرکا اپنی غربت پہ ناز کرتے تھے۔ طاہر القادری خونیں انقلاب کے اس راستے میں سب سے پہلے اپنا لہو بہانے پر اللہ رسول کی قسمیں کھاتے تو ولولے سے ان بیچارے عقیدت مندوں کے سینے پھول جاتے، فلک شگاف نعرے لگتے کہ ’قائد تیرا اک اشارہ، حاضر حاضر لہو ہمارا۔‘

آج جب تم کشمیر ہائی وے اسلام آباد کے پشاور موڑ پر زندگی کی راہوں کو یہاں وہاں بےترتیب مڑتے دیکھتے ہو، تم کھلے آسمان کی جانب برستے بادلوں کو حسرت سے دیکھتے ہو تو اک لمحے کو دل تو کرتا ہوگا کہ دست غیب ان وزیروں مشیروں کے محلات کے دروازے توڑ ڈالے جو ہم ایک رات خشک گرم کمروں میں گزار لیں۔

اسلام آباد کی بارش بڑی سنگدل ہے۔ یہ اس وقت بھی نہیں رکی تھی جب 2014 میں قادری انقلاب کے مارے پارلیمان کے باہر اپنے ٹپکتے خیموں میں برسات تھمنے کی دعائیں کر رہے تھے، تم تو ماشا اللہ جوان ہو اور اکیلے ہو، وہ تو اپنی عورتوں بچوں کے ہمراہ تھے۔ وہ بھیگتی سرد رات میں اپنے بچوں کو پاکستان کے تمام بچوں کی خاطر ٹھٹھرتا دیکھ کر مطمئن تھے کہ بس اب انقلاب آیا چاہتا ہے۔ بادشاہ تب بھی ٹس سے مس نہ ہوا تھا۔

تم پلاسٹک کی چادر اوڑہے، گھٹتی سانس کے ساتھ خود کو یقین دلا رہے ہو کہ آج باران رحمت ہم پہ قہر بن کر گر رہی ہے تو کیا، بادشاہ کے قدم بھی تو لرزاں ہیں، تم یہ سوچتے ہو کہ ہم بے وقعتوں نے نظام شاہی ہلا کر رکھ دیا، بس اس مستانہ خیالی میں یہ نہ بھولنا کہ بادشاہ کی مسند جن کندھوں پر ہے انہیں موسم کی سختی تنگ نہیں کرتی۔

تم جب دھرنے کی چیختی رات کی بچی روٹی کو اگلے دن توڑتے ہو اور نمک ہلدی مرچ کے شوربے میں ڈبو کر اسے وی آئی پی لنچ کہتے ہو تو سچ بتاؤ کیا اپنے گھر والی کے ہاتھ کے نرم کلچے یاد نہیں آتے؟ کیا مدرسے کے باورچی کی مشہور چنا بریانی یاد نہیں آتی؟ مگر تمہیں کہا گیا ہے کہ انقلاب کے راستے میں سخت زمین، سخت موسم اور سخت روٹی سے گھبرانا نہیں۔ میرا مشورہ ہے کہ اس خشک روٹی کو نصیب کا ایک اور دھکا سمجھ کر کھا جاؤ، برف سی ٹھنڈی رات کو سہہ جاؤ، انقلاب جب آئے گا جب تمہارا رہنما بھی پتھریلے گیلے فرش پر بیٹھ کر رات کی سوکھی روٹی کھائے گا۔

ان بابو لوگوں کی بستی میں تم سائلین کیا ڈھونڈنے آ نکلے؟ یہ اسلام آباد ہے۔ اسے اسلام نہیں ایک جرنیل نے آباد کیا تھا۔ یہاں ریاست کی بولی بولی جاتی ہے، یہاں آئین کی مار ماری جاتی ہے، یہاں نظام کی بھول بھلیوں میں انسانی جانیں کسی سرکاری فائل کی طرح اٹھا پٹخ کے کلوز کر دی جاتی ہیں۔ یہاں ریاست کی اونچی ناک کی خاطر آدمی لاپتہ ہو جاتے ہیں، یہاں دل نہیں پگھلتے مگر زندگیاں پگھل جاتی ہیں، یہاں انقلاب کو مصلحت نگل جاتی ہے۔

اے دھرنے کے معصوم سے سیاسی کارکنوں! تم جھولے جھول کر، شاپنگ مالز کی راہداریوں میں پھٹی پھٹی آنکھوں سے روشنی دیکھ کر نہال ہو۔ تم لنگڑی پالا کھیل کر دل پشوری کرتے ہو کتنے معصوم ہو، تم سیاست کو بھی ایک دونی دو، دو دونی چار کی طرح بالکل سیدھا سچا اور کھرا سمجھ رہے ہو۔ بس اتنا سمجھ لو کہ سیاست میں ’دو دونی چار‘ جیسا پکا حساب نہیں ہوتا۔

اے سرفروشو! تم چاہو تو مجھے جھٹلا سکتے ہو، تم چاہو تو میری تحریر کا ایک ایک لفظ میرے منہ پہ مار کر یہ کہہ سکتے ہو ’ہم اپنے قائد پر اندھا اعتماد کرتے ہیں‘ مگر میں پھر بھی تمہیں یہ بتانے سے باز نہیں آؤں گی کہ تم جھوٹے انقلابات کا ایندھن ہو، تم سیاست کے سائنس دانوں کے لیے ان آزمائشی چوہوں کی سی حیثیت رکھتے ہو جنہیں برسوں جہالت، غربت اور مجبوری کے پنجروں میں قید رکھا جاتا ہے، تاکہ وقت پڑنے پر استعمال کیا جاسکے۔

تم جسے صحیفہ سمجھ کر بند آنکھوں سے یقین کر لیتے ہو، وہ فیصلہ کب اتحادی جماعتوں کے مشاورتی اجلاس کے بعد واپس لے لیا جائے۔ تم جسے حرف آخر سمجھ کر ہر حد سے گزر جانے کو تیار ہو اسے کچھ ملاقاتوں کے بعد حرف آغاز کہہ دیا جائے۔ یہ کھیلتمہارے ہاتھ میں نہیں۔ اور ہوگا بھی تو کیسے کہ سوچنے سمجھنے اور فیصلہ سازی کی تمام صلاحیتیں عقیدت کے سامنے ہیچ ہو جایا کرتی ہیں۔

میری دعا ہے کہ جس سراب کے پیچھے تم بھاگ رہے ہو اس کا کوئی سراتمہارے ہاتھ لگ جائے، میری دعا ہے کہ تم اگلی بار جب اسلام آباد اپنے گھر والوں کو ساتھ لے کر آو تو یہاں کی بارش کے خوب مزے لو بلکہ دعا تو یہ بھی ہے کہ مولا تمھاری معصومیت کے صدقے تمہیں اتنا دے کہ تم بھی اس شہر اقتدار میں اپنے فارم ہاؤس میں بیٹھ کر مارگلہ کے سرمئی بادلوں کو خوش آمدید کہو۔ میری دعا ہے کہ تم نہ سہی تمھاری اس قربانی کے صدقے تمھاری اگلی نسل حکمرانی میں شراکت دار بن سکے۔

اے خاک نشینو! میں اس ٹھنڈے گیلے موسم میں گرم انگیٹھی کے سامنے بیٹھی یہ سطریں لکھ رہی ہوں۔ مجھے اپنی انگلیوں میں تمہاری کانپتی سرد انگلیوں کا سا بےجان پن محسوس ہو رہا ہے۔ مجھے تم سے ہمدردی ہے، جس انقلاب کا سودا تمہارے سر پہ سوار ہے یا یوں کہوں کہ جس انقلاب کا خواب تمہیں دکھایا گیا ہے مجھے ڈر ہے کہ کہیں ٹوٹ نہ جائے۔

واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے
کر دیا کعبہ کو گم اور کلیسا نہ ملا

اک آخری گزارش، اپنا گانٹھ لگا جوتا اسلام آباد کی بارش میں کہیں گَلا نہ دینا، تمہیں واپسی پہ کوئی شاہی کھسے تحفتاً نہیں دینے والا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں