مکتوب دہلی/افتخار گیلانی
مکتوب دہلی/افتخار گیلانی

شام میں سرگرم روسی مصالحت کار سے ایک ملاقات

کسی حاضرسروس ڈپلومیٹ کے ساتھ آن ریکارڈ گفتگو کرنا اور وہ بھی تب جب وہ کسی نازک اور حساس عمل کا حصہ ہو،کسی بھی صحافی کےلیے چیلنج ہے۔ پچھلے دنوں استانبول میں ایک بین الاقوامی مصالحتی کانفرنس کے دوران جب شام میں روس کی مصالحت کار ڈاکٹر ماریہ خودنسکایہ گولینچی شچیوا سے ملاقات ہوئی، تو میری رگ صحافت بری طرح پھڑکنے لگی۔ شام میں قتل و غارت، مہاجرین کی بے بسی اور زبوں حالی اور بڑی طاقتوں کی ریشہ دوانی سے تو کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے۔

چونکہ امریکی فوج کے انخلاء کے بعد میڈیا مسلسل بتا رہا ہے کہ اس کا براہ راست فائدہ روس کو پہنچا ہے، تو میں نے چھوٹتے ہی ان سے پوچھا کہ اس میں کتنی صداقت ہے، تو روس کی اس جوان اور خوبصورت خاتون سفارت کار، جو جنیوا کے اقوام متحدہ کے دفتر میں اپنے ملک کی نمائندگی کر چکی ہے، نے بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ اور مسکراتے ہوئے سوالات کے جوابات دیے اور شام کے حوالے سے کئی گوشوں سے پردہ اٹھایا۔

ماریہ نے کہا کہ شام کی صورت حال ایسی ہے کہ اس کو کسی کے فائدہ یا نقصان میں تولنا شاید ٹھیک نہیں ہوگا۔جب 2005میں روس نے مداخلت کی، تو اس میں ہمارا قومی مفاد پیش نظر تھا۔ ہمارے ملک سے کئی افراد شام کی افرا تفری اور عدم استحکام کا فائدہ اٹھا کر فوجی تربیت اور دہشت گردانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے لیے اس خطہ میں آئے تھے۔ ہمیں خدشہ تھا کہ وہ واپس جاکر روس میں کوئی بڑی کاروائی انجام دے سکتے ہیں۔

بشار الاسد حکومت کو حمایت دینے کے پیچھے ہمارا مقصد تھا کہ شام کا حال عراق جیسا نہ ہو۔ شاید ہمیں کامیابی نہیں مل سکی، مگر جو غیر ملکی جنگجو یہاں لڑنے یا تربیت پانے کے لیےآئے تھے، ان کوایک پیغام تو دیا کہ شام ان کےلیے محفوظ پناہ گاہ نہیں ہے۔میں نے سوال کیا کہ چند برس قبل تک امریکہ اور روس تو شام کے سلسلے میں ساتھ ساتھ نظر آتے تھے، بالخصوص داعش سے نپٹنے کے نام پر، 20رکنی بین الاقوامی سیرین اسپورٹ گروپ کے چیئرمین تو دونوں ممالک کے وزراء خارجہ تھے-

آخر عالمی طاقتیں ہونے کے باوجو د وہ کسی حل کو مسلط کروانے میں کیوں ناکام رہے؟ ایک لمبی سانس لیکر ماریہ نے کہا؛ ‘ہاں یہ سچ ہے کہ بڑی طاقت کے زعم اور زمین پر فوجی بوٹوں کی بل بوتے پر ہم نے کئی علاقوں میں جنگ بندی مسلط کرنے کی کوشش کی تھی، جو بعد میں شاید کسی حل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتے تھے، مگر ہم ناکام رہے۔’ ماریہ نے اس کے بعد بڑی تفصیل کے ساتھ امریکہ کے ساتھ ہوئی سلسلہ جنبانی اور امریکی انتظامیہ کے پس پردہ مقاصد وغیرہ پر روشنی ڈالی۔

اس پوری گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ فروری 2016میں روس اور امریکہ کے مابین شام کی صورت حال کے حوالے سے کئی معاہدوں پر دستخط ہوئے۔ اسی سال ستمبر میں حلب کی جنگ بند کروانے کے لیے بھی ایک معاہدہ طے ہوا اس کے مطابق اپوزیشن گروپوں کو مشرقی حلب خالی کرنا تھا اور بشارلاسد کی فوج اور اپوزیشن گروپ کی مابین ایک جنگ بندی بھی طے ہوگئی تھی۔ مگر یہ معاہدہ دو ہفتے بھی نہیں چل پایا۔ اس سے قبل بھی امریکی فروری میں ہوئے معاہدوں کی پاسداری نہیں کر پائے تھے۔

‘اس صورت حال میں ہمیں یہی لگا کہ امریکی شاید شام کے سلسلے میں یا تو سیریس نہیں ہیں یا وہ امن کے خواہاں نہیں ہیں۔ ماسکو میں اس پر طویل میٹنگ ہوئیں۔ معلوم ہوا کہ امریکی بھی شام کی صورت حال سے پریشان ہیں، مگر وہ گراؤنڈ کو کنٹرول کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ ہمارے لئے نسبتاً آسان تھا کہ ہم بشارلاسد کی حکومت کے ساتھ ڈیل کرتے تھے۔ امریکی کسی ملک یا ایک فورس یا گروپ کے ساتھ ڈیل نہیں کرتے تھے۔

آخر یہ عقدہ ہم پر کھلا کہ اس پورے پرسیس میں ہم نے امریکہ کو تو شامل کیا ہے، مگر علاقائی طاقتوں کو نہ صرف اس سے باہر رکھا ہے، بلکہ ان سے ساتھ فضول کی شکر رنجی مول لے رکھی ہے۔ ماسکو میں پھر اعلیٰ سطح پر یہ فیصلہ ہوا کہ خطے کے ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کی صورت میں ہی شام میں قیام امن ممکن ہے۔ خطے میں بڑی طاقت تو ترکی ہی تھی۔ ہمیں پہلے اندازہ تھا کہ ناٹو اتحادی ہونے کی وجہ سے انقرہ،امریکہ کے ساتھ راز و نیاز میں شامل ہوگا-

مگر حیرت تھی کہ امریکہ نے اپنے اتحادی کی فوج کو استعمال کرنے یا اس کے ساتھ صلاح و مشورہ کرنے کے بجائے، اس کے حریف گروپوں کوگراؤنڈ پر استعمال کیا۔ ہم نے ترکی کے ساتھ بات چیت کا دروازہ کھولا۔ امریکہ سے مایوسی کے بعد ہم نے حلب کے ایشو پر ترکی کے ساتھ بات چیت کرکے ایک معاہدہ کیا۔ جو کام امریکہ سے مہینوں نہیں ہوسکا، ترکی نے دنوں میں کرکے دکھایا۔ حلب میں نہ صرف جنگ بندی ہوئی، بلکہ اپوزیشن فورسز نے مشرقی حلب کو خالی بھی کیا۔

حلب کے واقعہ نے روسی قیادت کی آنکھیں کھول دی۔ شام کے حالات اور ان سے نپٹنے کے تئیں ہمارا نظریہ تبدیل ہوگیا۔ ہمیں یہ ادراک ہوگیا کہ علاقائی طاقتوں کے ساتھ مل کر کام کرنے سے ہی شام میں قیام امن ممکن ہوسکتا ہے۔ اسی دوران جب قزاخستان کے صدر نورسلطان نذربائیوف نے آستانہ میں شام میں برسرپیکار سبھی گروپوں کو مدعو کیا، تو ترکی اس میں ایک اہم فریق تھا۔
میں نے پوچھا کہ 2011کے عرب لیگ کے فارمولہ سے لےکر کوفی انان کا ایجنڈہ سمیت تقریباً 30کے قریب امن مساعی شام کے سلسلے میں وجود میں آئے اور بیک گراؤنڈمیں چلے گئے-

مگر امن کی فاختہ پھر بھی کہیں نظر نہیں آرہی ہے، تو روسی سفارت کار ماریہ، جو نہایت ہی سشتہ انگریزی میں جوابات دے رہی تھیں، انہوں نے کہا

‘شام میں فریقین کی بھر مار ہے۔ سب سے پہلے اقوام متحدہ نے امن مساعی شروع کی تھی،اور تقریباً نو راؤنڈ کے مذاکرات ہوئے۔ یہ مذاکرات ایک حد تک کامیاب کہے جاسکتے ہیں، کیونکہ مختلف گروپ آمنے سامنے میز پر بیٹھے۔ مگر ناکام اس حثیت میں تھے کہ نمائند گی کے لحاظ سے اپوزیشن گروپ کمزور تھے۔ ان کے ملٹری کمانڈرز ان مذاکرات کے حصہ نہیں تھے۔ مذاکرات ہمیشہ طاقتور فرد کے ساتھ ہی کرنا چاہیے۔ ورنہ ہر معمولی فیصلہ کے لیے بھی بار بار ا ن کو روک دینا پڑتا ہے کیونکہ مذاکرات میں شامل افراد کو اپنے لیڈروں سے صلاح و مشورہ کرنا پڑتا ہے۔’

میں نے پوچھا کہ کیا اب ایک نئے روس کا ظہور ہو رہا ہے،کیونکہ ماضی میں روس عالمی معاملات اور مصالحت کاری میں شامل نہیں رہا ہے، تو ماریہ نے کہا؛

‘ و ہ اس سے اتفاق نہیں رکھتی ہے۔ اسے سے قبل یوکرین، فلسطین میں بھی روس کی سفارت کاری شامل رہی ہے۔ افغانستان میں بھی روس کی مذاکرات کاری کو فوقیت حاصل ہے۔’

افغانستان کا ذکر آگیا، تو میں نے پوچھا کہ آخر شام اور افغانستان میں کیا مماثلت ہے؟ تو روسی مصالحت کار نے کہا؛

‘ شام کے حالات و واقعات ایک سبق ہیں کہ علاقائی طاقتوں اور پڑوسی ممالک کو شامل کیے بغیر بحالی امن نا ممکن ہے۔ پڑوسی ممالک کے اسٹریٹجک مفادات کو نظر انداز کئے بغیر حالات بہتری کی طرف گامزن نہیں ہوسکتے ہیں۔’

ماریہ فی الوقت روسی وزارت خارجہ کے اسٹریٹجک پلاننگ محکمہ میں سینئر صلاح کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ ترکی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دونوں ممالک نے ابھی تک شام میں پانچ ڈی ایس کلیشن یا جنگ بندی زون قائم کئے ہیں۔ ان میں ادلیب اور اس کے نواح میں لاتیکا صوبہ کے چند علاقے، حلب اور شمالی حمص، دمشق اور اس کے بغل میں مشرقی غوطہ، جنوبی ڈیرا اور اردن کی سرحد سے ملحق القنطیرہ کا صوبہ شامل ہے۔

‘اس وقت اصل مقصد صورت حال کو منجمد کرنا ہے۔ ابھی فی الحال شام میں جنگ بند ہوچکی ہے، فریقین کے علاقے بٹے ہوئے ہیں۔ یہ کوئی آسان کام نہیں تھا۔ ہمیں بشارالاسد حکومت کو قائل کروانے میں دانتوں پسینہ آگیا تھا۔ ترکی کےلیے بھی اپوزیشن گروپوں کو قائل کروانا کچھ آسان نہیں رہا ہوگا۔ روس نے اس کے ساتھ ایک متوازی عمل کے بطور دیگر اپوزیشن گروپوں کے ساتھ براہ راست مذاکرات کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے۔ کیونکہ کئی گروپوں کے تار سعودی عرب، مصر، قطر اور متحدہ امارات سے ملے ہوئے ہیں۔’

ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ماریہ نے بتایا کہ؛‘ جب وہ دمشق میں تھی، تو شہر کے نواح میں جوبریہ کے علاقہ سے روز روسی سفارت خانہ پر شلنگ ہوگی تھی۔ہم نے خاطر خواہ انتظام تو کیا تھا، مگر خدشہ تھا کہ کسی بھی وقت کوئی حادثہ ہو سکتا ہے۔ ہم نے گروپ سے رابطہ کرکے ان کو سفارت خانہ کو نشانہ بنانے سے باز رکھنے کی کوشش کی۔ مگر بے سود۔ آخر ہم نے اس گروپ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کی چھان بین شروع کرکے ان کے افکار، نظریات و خیالات کو کھنگال کر یہ اندازہ لگایا کہ اس گروپ کی پشت پر کون سا ملک ہے یا آخر کس ملک کے تئیں وہ نرم گوشہ رکھتے ہیں۔

اس چھان بین کے بعد ہم نے ایک اندازہ لگایا، جو درست نکلا۔ ہم نے اس ملک سے رابطہ کرکے ان کو بتایا کہ روسی سفارت خانہ پر شلنگ بند ہونی چاہئے۔ آپ یقین کریں، نہ صرف شلنگ بند ہوگئی، بلکہ اس گروپ نے وہ علاقہ ہی چھوڑدیا۔ اگلے ہی روز ہم نے اس علاقہ کو زیر تصرف لے کر اس کو بارودی سرنگوں سے صاف کراکر اس کو دوبارہ رہائش کے قابل بنایا۔’

کافی وقت گزر چکا تھا۔ مجھے بھی اب ایئرپورٹ جانے کی جلدی تھی۔ استانبول سے واپس انقر ہ جانے کےلیے فلائٹ کا وقت ہو رہا تھا۔میں نے اس حسین سفارت کار سے پوچھا کہ چونکہ آپ پچھلے کئی سالوں سے مذاکرات کار کا کام انجام دے رہی ہیں، ایک اچھے اور کامیاب مصالحت کار کے لیے کیا لازم ہے؟، تو ماریہ نے کہاکہ’

مصالحت کار چاہے کتنے ہی طاقتور ملک کی نمائند گی کیوں نہ کرتا ہو، کوئی حل مسلط نہیں کرنا چاہئے۔’

اس کا کہنا تھا کہ مسلط شدہ حل دیرپا نہیں ہوتا ہے۔

‘حل بس تجویز کرو، اس پر اتفاق رائے بنانے کی کوشش کرو۔ دنیا کا اسٹریٹجک نظا م ایک رولر کوسٹر کی طرح ہوتا ہے۔ اگر فریقین پر حل مسلط کیا گیا، تو جونہی پہیہ گھومے گا، تو و ہ اس کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیں گے۔’ میں اپنے دماغ میں افغانستان میں امن کے لیے ہوئے معاہدے گن رہا تھا،ایک معاہدہ تو مکہ المکرمہ میں بھی تحریر ہوا تھا۔ میں یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہیں وہ بس اسی وجہ سے ہی ناکام تو نہیں ہوئے کہ ان کو مسلط کیا گیا تھا۔

کشمیر پر بھی ابھی ایک حل ہندوستان نے مسلط کیا ہے۔ میں اپنا بیگ اٹھا کر ٹیکسی کی طرف دوڑ لگا کر سوچ رہا تھا کہ کب تاریخ اس مسلط شدہ حل کو کوڑے دان میں پھینک دے گی اور کب کشمیر کی سیاہ رات کا خاتمہ ہوگا۔ وہ صبح ضرور آئےگی، اس صبح کا انتظار کر۔لیکن فاصلہ کتنا طویل ہے۔ تاریخ کے لیے صدیاں تو بس ایک لمحہ ہوتی ہیں۔ تاریخ کا پہیہ ضرور گھومے گا۔بس انتظار کر۔

اپنا تبصرہ بھیجیں