نقطہ نظر/راجہ عابد علی عابد

ایک لمحہ گریبان میں جھانکیں

عمران خان کے عشق میں مبتلا پی ٹی آئی سے وابستہ بعض احباب مولانا کے دھرنےکی وجہ سے آج کل شدید ڈپریشن کا شکار ہیں. جس طرح صابر شاکر رات 3 بجے دھرنے میں گندگی تلاش کر رہا ہوتاہے یہ بھی دھرنے میں جا کر لوگوں سے ملتے ہیں اور پھر ان کے انٹرویو کے بعد اپنی فلاسفی اور دانںشوری سے قوم کو مستفید کرتے ہیں.افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ ایسے دانشوروں کی ضد ہے کہ مجمع کی تعداد ،مقاصد اور انجام کو انہی کی نظر سے دیکھا جائے.

انھیں دوسروں کی جدو جہد،مقاصد وقتی تکلیف اور شرافت میں اپنی طرح کا مصنوعی پن اور بہروپیہ پن نظر آتا ہے.وہ جب مجمع کو دیکھتے ہیں تو کسی صورت پانچ ہزار سے زیادہ نظر نہیں آتے. جب وہ لوگوں سے بات کرتے ہیں تو ان کو مجمع کے لوگ شعور سے عاری اور مذہب کے نام ہر استعمال ہوتے نظر آتے ہیں. پھر اس صورتحال کے اوپر ان کے بھاشن شروع ہو جاتے ہیں.ایسے پھبتی دانشورایک لمحہ کے لیے بھی اپنے گریبان میں جھانکنا گوارہ نہیں کرتے.

یہ تو چلو سادہ لوح لوگ مولوی ہیں.کم تعلیم یافتہ ہیں. عامیانہ سوچ کے مالک ہیں. شاید یہ(بقول ان سقراطیوں کے) باشعور نہیں ہیں .لیکن ان بقراطیوں اور سقراطیوں کے ملجا و معاوہ نے جو کھلواڑ اس قوم سے کیا اس کا ذمہ دار کون ہے؟انھیں سول سپرمیسی کی جنگ لڑنے والے ان لوگوں کے کردار پر شک ہے.ان کے شعور پر شک ہے ان کی تعلیم ہر اعتراض ہے. لیکن سقراتی اپنی اعلی تعلیم اور شعور کا حاصل رزلٹ بتانے سے گریزاں ہیں.

ان کو عمران خان کا دھرنہ حلال اور مولانا کا دھرنہ حرام نظر آتا ہے.ان سے جب یہ پوچھا جائے کہ ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ کس نے کیا تھآ؟پچاس لاکھ گھر بنانے کا وعدہ کس نے کیا تھا؟کرپشن ختم کرنے کا وعدہ کس نے کیا تھا اور پھر وہ حالیہ سروے کے مطابق اور کیوں بڑھ گئی؟ مہنگائی کے خاتمے کا وعدہ کس نے کیا تھا؟ تو آگے سے گالیوں،دشنام طرازیوں،اور انتہائی رقیق حملوں اور ذاتیات پر اتر آتے ہیں.

یہ اگر ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے گریبان میں جھانکیں تو چلوبھر پانی میں ڈوب مرنے کے لیے دوڑ لگائیں.لیکن میں ان کی غیرت وہمت کو داد دیتا ہوں کہ ایسے لوگ ایک لمحہ کے لیے بھی اپنے گریبان میں جھانکنے کے بجائے اور اپنی غلطیوں پر تائب ہونے کے بجائے دوسروں کی غلطیاں نکال رہے ہیں. ان پھبتی دانشوروں کو علم ہونا چاہیے کہ آپ اور آپ کا لیڈر 126 دن دیے گیے جس دھرنے پر اتھرا رہے ہو اس کی وجہ سے اس ملک کی سیاسی جمہوری عوامی اقدار مجروع ہوئیں.ووٹ کی عزت نیلام ہوئی.

آپ کے لیڈر نے قوم کے ساتھ جھوٹ بول کر آپ جیسے سقراطیوں کو گمراہ کیا.آپ کا لیڈراور آپ 126 دن اپنے آقاوں سے اقتدار کی بھیک مانگتے رہے ہو جو آپ کو بھیک ہی کی شکل مین ملا.بھیک جتنی بھی ملے اس کی عزت نہیں ہوتی لیکن کشمیر ہائی وئے پر دیے جانے والے دھرنے کی صورت میں لڑی جںے والی یہ جنگ اقتدار کی نہیں اس ملک میں سیاسی اور جمہوری اقدار کی جنگ ہے.یہ سول سپر میسی کی جنگ ہے یہ ووٹ کو عزت دو کی جنگ ہے.

یہ غریب،کم تعلیم یافتہ، شعور سے عاری سادہ لوح دھرنہ شرکاء آپ جیسے تعلیم یافتہ باشعور امیر لوگوں کی سیاسی ،ذہنی اور جسمانی غلامی سے آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں. ان کا لیڈر جسے آپ مولوی فضل الرحمان کہتے ہو آپ کے لیجڈر کی طرح نہ تو گالیاں دیے رہا ہے اور نہ اقتدار کی بھیک مانگ رہا ہے. بلکہ آپ کے وزیر اعظم اس کے آقاء اور پھر ان کے آقاوں کو للکار کر اس ملک میں سول سپر میسی اور آئین کی عملداری کی بات کر رہا ہے.

وہ آپ کے لیڈر عمران خان کی طرح نہ کروڑوں نوکریوں کا وعدہ کر رہا ہے نہ ہی پچاس لاکھ گھر بنانے کے نام پر لوگوں کو گمراہ کر رہا ہے. وہ مولوی ہو کرپاکستان کے ہر مکتب فکر کو اپنے کنٹینر پر اپنے دائیں بائیں کھڑا کر چکا ہے. وہ ایمپائیر جس کی انگلی کے کھڑا ہونے کی انتظار میں آپ اور اپ کا لیڈر 126 دن دھرنہ دیے بیٹھے رہے. اس ایمپائیر کی ساری پیشکشیں یہ سادہ سا مولوی مولانا فضل الرحمان ٹھکرا کر شاہراہ کشمیر پر آ کر بیٹھ گیا ہے.

جس کی تفصیلات آپ کے پسندیدہ صحافی راوف کلاسراء نے اپنے وڈیوپروگرام میں بتائی ہیں.یہ اس کی سیاسی بصیرت ہے کہ الیکشن میں ناکامی کے باوجود پاکستان کی قومی سیاست کا بے تاج بادشاہ بن چکا ہے اور آپ کا لیڈر بادشاہی کا تاج پہن کر نہ صرف تنہا ہو چکا ہے بلکہ چوروں کی طرح چھپا ہوا ہے. مولانا فضل الرحمان کا دھرنہ اگر استعفی نہ بھی لے سکا تو کم از کم استعفی کے قریب ضرور پہنچ جائے گا. مولانا اس ستون کو ضرور کمزور کر دیں گے جس کے سہارے عمران حکومت قائم ہے.

آپ لوگوں کو بھاشن دینے کے بجایے اپنے گریبان میں صرف ایک لمحہ کے لیے جھانک لیں.صرف ایک لمحہ کے لیے.!!!

اپنا تبصرہ بھیجیں