حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنی ٹوپی میں کیا رکھتے تھے؟ اسلامی تاریخ کا وہ راز جس سے کفار ہمیشہ شکست یافتہ ہوجاتے تھے

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اپنی ٹوپی میں کیا رکھتے تھے؟ اسلامی تاریخ کا وہ راز جس سے کفار ہمیشہ شکست یافتہ ہوجاتے تھے۔۔۔ ایمان افروز واقعہ
2019-11-07
امام حاکم نے اپنی “مستدرک روایت نمبر 5299 میں، اور طبرانی نے “الکبیر” میں، ابو یعلی نے اپنی مسند ابو یعلی (7183) میں ہاشیم کی سند سے۔ امام ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ جلد 7 صفحہ 133 میں روایت کیا ہے۔جنگِ یَرمُوک کے بارہویں دن حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ رومی سردار سے مقابلہ کر رہے تھے کہ ان کا گھوڑا بدکا اور زمین پر گرگیا جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی زمین پر گرگئے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مبارک ٹوپی بھی گرگئی ، حیرانی کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ٹوپی گری آپ کو اپنی جان کی نہیں بلکہ اس ٹوپی کی فکر لگ گئی ۔

جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ لشکر میں واپس آئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت جب میدان جنگ میں ہرطرف تلواریں چل رہی تھیں ، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ٹوپی کی فکر لگی ہوئی تھی، اس کی کیا وجہ تھی؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حلق کروایا تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مبارک بالوں میں سے چند بال مبارک اپنے پاس رکھ لیے۔

سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: مَا تَصْنَعُ بِہٰوُلَائِ یَا خَالِدُ یعنی اے خالد ! تم ان بالوں کا کیا کرو گے۔۔۔؟ میں نے عرض کی: اَتَبَرَّکُ بِہَا یَا رَسُوْلَ اللہِ وَاسْتَعِیْنُ بِہَا عَلَی الْقِتَالِ قِتَالَ اَعْدَائِیْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ! میں آپ کے ان مبارک گیسؤوں سے تبرک حاصل کروں گا اور جنگوں میں اپنے دشمنوں کے قتال پر اللہ سے مدد طلب کروں گا۔یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا تَزَالُ مَنْصُوْراً مَا دَامَتْ مَعَکَ یعنی اے خالد! جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے ان کے وسیلے سے ہمیشہ تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔

سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :فَجَعَلْتُہَا فِیْ مُقَدَّمَۃِ قَلَنْسُوَتِیْ فَلَمْ اَلْقِ جَمْعًا قَطُّ اِلَّا اِنْہَزَمُوْا بِبَرَکَۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی پھر میں نے ان مبارک گیسؤوں کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصے میں محفوظ کرلیا اور میں جب بھی اپنے دشمنوں سے مقابلے کے لیے جاتا ہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی برکت سے میرے دشمنوں کو شکست وذلت سے دوچار فرماتا ہے۔

دوستو ! حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آثار کو دنیا و آخرت کیلئے باعث برکت و نفع بنایا ، اور نبی اکرم شافع امت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے آثار سے برکت حاصل کرنے کے عمل کو جائز قرار دیا، چنانچہ یہ کام معاذ اللہ شرکیہ کاموں میں سے نہیں ہے، کیونکہ یہ بھی شرعی اسباب اختیار کرنے میں شامل ہے، اور ویسے بھی جس شخصیت نے اسکی اجازت دی ہے-

اسی نے شرک کا ڈٹ کر مقابلہ کیا،وہ مشہور بخاری شریف کی حدیث تو آپ نے سنی یا پڑھی ہی ہوگی جو صلح حدیبیہ کے وقت پیش آئی’’حضرت مسور بن مخرمہ اور مروان بن حکم سے (صلح حدیبیہ والی طویل روایت میں) مروی ہے کہ (مشرکین کا قاصد) عروہ بن مسعود جب حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ سے واپسی کے لئے اٹھاتو اس نے صحابہ کرام کی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عقیدت کے چشم کشاں واقعات دیکھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو نہیں کرتے مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس وضو کے پانی کی طرف لپکتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لعاب مبارک نہیں پھینکتے-

مگر یہ اس کی طرف بھاگتے ہیں تاکہ وہ زمین پر نہ گرنے پائے۔ اور وہ اس کو اپنے ہاتھوں پر لیکر چہرے پر ملتے ہیں جس کو وہ میسر نہیں آتا وہ اس کے ہاتھ سے لگاتے ہیں جس کے ہاتھ پر لعاب لگا ہوتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو موئے مبارک بھی گرتا ہے اسے اٹھا لیتے ہیں۔ وہ قریش کی طرف واپس گیا اور کہا : اے قومِ قریش! میں کسریٰ کے ملک میں اس کے پاس اور قیصر اور نجاشی کے پاس ان کے ملکوں میں گیا ہوں۔ اللہ کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کو ایسا نہیں پایا جیسے محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے صحابہ کرام میں ہیں اور میں نے (عاشقان کی) ایسی قوم دیکھی ہے کہ وہ انہیں کسی بھی صورت تمہارے حوالے نہیں کریں گے۔‘‘

اس حدیث کو امام احمد نے بھی روایت کیا ہے۔ اور امام بخاری نے بھی روایت کیا ہے۔بخاری شریف کی حدیث کا ترجمہ یہ ہےحدیث کے الفاظ یہ ہیں۔عروہ بن مسعود کہتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم جب بھی وضو فرماتے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان وضو کا پانی حاصل کرنے کے لئے بے حد کوشش کرتے حتی کہ قریب تھا کہ وضو کا پانی نہ ملنے کے سبب لڑ پڑيں۔ انہوں نے دیکھا کہ نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم دہن مبارک یا لعاب مبارک ڈالتے توصحابہ کرام علیہم الرضوان اسے ہاتھوں میں لیتے، اپنے چہر ے اور جسم پرملتے اور آبروپاتے ، آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کا کوئی بال جسد اطہر سے جدا نہیں ہوتا تھا-

مگر اس کے حصول کے لئے جلدی کرتے، جب آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم انھیں کوئی حکم دیتے تو فوراََ تعمیل کرتے اور جب نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم گفتگو فرماتے تو آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کے سامنے خاموش رہتے اور ازراہ تعظیم آپ صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھتے۔صحیح البخاری،کتاب الشروط،الحدیث:۲۷۳۱،۲۷۳۲، ج۲،ص۲۲۵)

اپنا تبصرہ بھیجیں