سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والی خاتون زندہ ہو گئی مگر کیسے۔۔۔۔؟

سانگھڑ(ویب ڈیسک) سندھ کے شہر سانگھڑ کی رہائشی سانحہ تیز گام میں جاں بحق ہونے والی خاتون زندہ ہو گئی‘سانگھڑ کے علاقے ابدال پورہ میں اہل خانہ نے تیز گام ایکسپریس میں جاں بحق خاتون عصمت بی بی کی میت لینے سے انکار کر دیا ہے. عصمت بی بی کے بچوں کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ پنجاب کے شہر شور کوٹ میں موجود ہیں ان سے رابطہ ہوگیا ہے‘اس صورتِ حال کے بعد انتظامیہ کی ہدایت پر عصمت بی بی کی قرار دی گئی میت سرکاری ہسپتال میں رکھ دی گئی ہے-

بد نصیب جاں بحق خاتون کی میت کو ورثاءکا انتظار ہے. دوسری جانب میر پور خاص کے علاقے حمید پورہ کالونی گراﺅنڈ میں سانحہ تیزگام میں جاں بحق ہونے والے 5 افراد کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس کے بعد ان کی تدفین مقامی قبرستان میں کر دی گئی. اس سے قبل تیز گام ایکسپریس میں آگ لگنے سے جاں بحق ہونے والے 70 سے زائد افراد میں سے 30 افراد کی میتیں میر پور خاص جبکہ ماں بیٹے سمیت 3 افراد کی میتیں سہراب گوٹھ کراچی کے سرد خانے پہنچا دی گئیں.

لیاقت پور ٹرین حادثے میں شہید ہونے والے شہر قائد کے رہائشی مزید 3 افراد کی میتیں کراچی منتقل کیے جانے کے بعد اب تک اس حادثے کی کراچی منتقل کی جانے والی لاشوں کی تعداد 4 ہو گئی ہے‘افسوس ناک حادثے میں زندگی کی بازی ہارنے والوں میں گلستانِ جوہر کراچی کے رہائشی ماں بیٹا بھی شامل ہیں. ورثاءکا کہنا ہے کہ اتنے بڑے سانحے کے باوجود حکومت نے کسی قسم کا کوئی تعاون نہیں کیا‘سانحے میں جاں بحق ہونے والا ممتاز حسین مہران ٹاﺅن کا رہائشی تھا-

غم سے نڈھال بھائی نے وزیر ریلوے کی جانب سے سلنڈر پھٹنے کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے شیخ رشید سے عہدہ چھوڑنے کا مطالبہ کر دیا. ادھر سانحہ تیز گام میں جاں بحق 30 افراد کی میتیں آج صبح میر پور خاص کے گاما اسٹیڈیم پہنچائی گئیں، ان لاشوں کی شناخت بھی ڈی این اے ٹیسٹ سے کی گئی‘جاں بحق ہونے والے 26 افراد کا تعلق میر پور خاص سے، 3 کا عمر کوٹ سے اور 1 کا تعلق ٹنڈو الہٰ یار سے ہے.

ڈی این اے ٹیسٹ سے شناخت کے بعد رات گئے ایک میت شیخ زید ہسپتال رحیم یار خان سے سانگھڑ کے علاقے شہداد پور بھی لائی گئی‘یہ میت 35 سالہ حیدرعلی کی ہے جس کی نمازِ جنازہ صبح 10 بجے مدرسہ حسینی شہداد پور میں ادا کی جائے گی. رحیم یار خان کے قریب پیش آنے والے سانحہ تیز گام میں شہید ہونے والے 44 افراد کی میتیں گزشتہ روز ڈی این اے کی مدد سے شناخت کے بعد ان کے لواحقین کو سپرد کرنے کے لیے روانہ کی گئی تھیں.

سانحہ تیزگام کی نظر ہوجانے والوں کے ورثاءکا کہنا ہے کہ وزیر ریلوے کو ہر وقت سیاست کی بجائے اپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینی چاہیے دوسری جانب شیخ زید میڈیکل کالج ہسپتال کی انتظامیہ نے تیزگام ایکسپریس آتشزدگی واقعےمیں جاں بحق ہونے والے 40 افراد کی میتیں ان کے اہل خانہ کو فراہم کردیں‘ لاشیں پنجاب فرانزیک سائنس ایجنسی کی جانب سے ڈی این اے رپورٹ موصول ہونے کے بعد ورثا کے حوالے کی گئیں.

ہسپتال کے فوکل پرسن رانا الیاس نے بتایا کہ 3 نومبر کو پی ایف ایس اے ٹیم نے ہسپتال میں کیمپ قائم کیا تھا جو ہلاک ہونے والے 57 مسافروں کے ورثا سے ڈی این اے کے نمونے لے کر واپس لاہور چلی گئی تھی. انہوں نے کہا کہ ڈی این اے کی 40 رپورٹس موصول ہونے کے بعد تابوتوں کو ورثا کے حوالے کردیا‘ 40 مسافروں میں سے 26 کا تعلق میر پورخاص، 4 کا کراچی، عمر کوٹ اور شکار پور سے 3، 3 سانگھڑ سے 2 اور ایک ایک کا تعلق ٹنڈو اللہ یار اور لودھران سے تھا.

فوکل پرسن نے بتایا کہ ریلوے پولیس حکام اور رحیم یار خان کے اسسٹنٹ کمشنر کی ہدایات کے تحت اس سلسلے میں ضلعی انتظامیہ نے میتوں کی آبائی علاقوں میں منتقلی کے لیے بلا معاوضہ ایمبولینس سروس فراہم کی. دوسری جانب ورثا کی اکثریت وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کی جانب سے اعلان کردہ معاوضے کی ادائیگی کے طریقہ کار کے بارے میں پوچھتے رہے لیکن حکام کے پاس ان کی بات کا کوئی واضح جواب نہیں تھا.

واضح رہے کہ جمعرات 31 اکتوبر کو پنجاب کے ضلع رحیم یار خان کے علاقے لیاقت پور میں مسافر ٹرین تیز گام ایکسپریس میں آگ لگنے سے 75 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے تھے.

اپنا تبصرہ بھیجیں