نقطہ نظر/آفتاب اقبال

جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو ہوا ؟انتہائی اہم اور معلوماتی تحریر پڑھیں

سوشل میڈیا پر جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے کا سب سے بڑا فائدہ کنٹینر فراہم کرنے والے ایک تجارتی ادارے Cube Depot کو ہوا ہے۔منسلک تصویر میں دیکھیں۔

برآمدی مال اور صنعتی و تجارتی سامان کی نقل و حمل کے لیے کنٹینرز فراہم کرنے والی اس کمپنی کا لوگو، جمعیت علمائے اسلام کے ترجمان فیس بُک پیج کی کور فوٹو پر موجود ہے۔ Cube Depot کا سلوگن ہے Find the Right Container at the Right Price یعنی موزوںترین کنٹینر پائیں، مناسب ترین قیمت پر۔اگرچہ تصویر میں چھ کنٹینر موجود ہیں، مگر ان میں سے پانچ پر کوئی لوگو نہیں ہے اور صرف ایک کنٹینر پر واضح انداز میں کیوب ڈپو کا نام نظر آرہا ہے۔

اگرچہ اس تصویر کو فوٹوشاپ سے ٹریٹ کیا گیا ہے اور دائیں جانب تین کنٹینرز پر سے نام مٹا کر، نچلے ایک کنٹینر پر آزادی مارچ کو برانڈڈ فونٹ کے ساتھ درج کیا گیا ہے۔جے یو آئی کے فیس بُک پیج کو تادمِ تحریر 467,353 افراد نے لائک کیا ہے اور 549,497 افراد اس پیج کو فالو کررہے ہیں۔ اسی پیج پر دھرنے کی لائیو کوریج بھی جاری ہے اور جے یو آئی سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین، کارکنان، میڈیا نمائندے اور پاکستانی سیاست پر نظر رکھنے والےاس پیج کے ذریعے صورتحال سے باخبر ہورہے ہیں۔

یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ اب تک برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی مد میں، کیوب ڈپو نامی کمپنی، کروڑوں روپے کی پبلسٹی حاصل کرچکی ہے۔درحقیقت، برانڈنگ اور کمیونی کیشن کے اعتبار سے یہ چھوٹی سی بات، جے یو آئی کی سوشل میڈیا ٹیم کی استعداد اور ابلاغیات کی تفہیم کو ظاہر کرتی ہے۔سب جانتے ہیں کہ کاروباری اداروں کے لوگو، سیاسی جماعتوں کے لٹریچر اور ذرائع نشرواشاعت پر رکھنا، ہر دو فریقوں کے لیے خودکشی کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔

دنیا کی تمام سیاسی جماعتیں اور لیڈرز خود کو کاروباری مفادات سے ماوراء گردانتے ہیں اور ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ ان پر کسی کاروباری گروہ، تجارتی ادارے یا فریق کی خفیہ و اعلانیہ سرپرستی، حمایت یا وابستگی کا الزام نہ آئے۔اسی طرح کاروباری اداروں کی بھی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی ایک سیاسی جماعت، گروہ یا فریق کی پیروی کے الزام یا تاثر سے دُور رہیں۔ ان پر کسی ایک سیاسی موقف کی حمایت کی چھاپ نہ لگے تاکہ وہ صارفین میں اپنی غیر جانبدارانہ ساکھ برقرار رکھ سکیں۔

کاروباری مفادات سے پرے رہنے کی عمدہ مثالیں ہمیں امریکی اور پاکستانی انتخابات سے مل سکتی ہیں۔آپ کو علم ہے کہ انتخابات کے دوران، امریکی کارپوریشنز اور بزنس لابنگ گروپس، بالواسطہ طور پر، پس پردہ رہتے ہوئے، ری پبلیکنز اور ڈیموکریٹس، دونوں بڑی سیاسی جماعتوں اور آزاد امیدواروں کی بھرپور فنڈنگ ضرور کرتے ہیں۔ لیکن یہ کام اتنی باریکی سے، خفیہ طور پر کیا جاتا ہے کہ کسی میڈیا ادارے یا انتخابات کے نگران محکموں کو سیاسی رشوت، دبائو یا دھونس کا کوئی ثبوت نہ مل سکے۔

اگرچہ کارپوریشنز کی جانب سے کئی کئی ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے لیکن مجال ہے کہ آپ انتخابی مہم کے دوران، کسی ایک ادارے کا لوگو، عملہ یا انتظامی وسائل شناخت بھی کرسکیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ خود کاروباری ہیں۔ ان کے پیچھے کئی ارب ڈالر کی کاروباری مشین کام کررہی ہے لیکن آج بھی کسی ایک مقام پر بھی، کوئی ایک بھی ادارہ، سرعام شناخت نہیں کیا جاسکتا۔اب پاکستان کی طرف آئیں۔

پاکستان میں ان دنوں، پاکستان پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نواز اور تحریک انصاف کی قیادت اور پارٹیاں ۔۔۔ کاروباری مفادات سے گٹھ جوڑ اور تحفظ جیسے الزامات کی زد میں ہیں اور نیب میں مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ ان جماعتوں پر الزام ہے کہ انہوں نے غیر شفاف ذرائع سے، کاروبار مفادات رکھنے والے افراد اور اداروں سے، انتخابات لڑنے کے لیے پیسے حاصل کیے ہیں اور فنڈنگ جمع کی ہے۔ اس بات کا فیصلہ تو بہرحال تاریخ ہی کرے گی-

تاہم کاروباری اداروں اورمفادات سے تعلق کی ان سب کو بھاری قیمت ادا کرنی پڑرہی ہے۔کاروباری اداروں کی طرف سے اپنے لوگو اور سلوگن کا استعمال، بہت اہم فیصلہ ہوتا ہے جس کے لیے ادارے کے ایڈورٹائزنگ اور مارکیٹنگ مفادات کو گہرائی سے جانچا جاتا ہے۔ کافی غوروخوض کے بعد، ادارے کے سلوگن اور لوگو کو، باقاعدہ معاہدے کے بعد، مخصوص شرائط کے تحت، استعمال کی اجازت دی جاتی ہے۔

اس تناظر میں یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا جمعیت علمائے اسلام نے کیوب ڈپو سے کسی معاہدے کے تحت، لوگو اور سلوگن کو فیس بُک پیج پر، کور فوٹو کے اندر استعمال کرنے کا باضابطہ معاہدہ کیا تھا؟۔ایک کنٹینر بنانے والے کاروباری ادارے کے لوگو اور سلوگن کا پاکستان کی سب سے بڑی مزاحمتی سیاسی تحریک کے فیس بُک پیج پر موجود ہونا، معنی خیز ہے۔یہ لوگو اور سلوگن، گزشتہ آٹھ دن سے ایک ایسے نمایاں مقام پر موجود ہے، جہاں لاگ ان کرنے والے قاری کی سب سے پہلے نظر پڑتی ہے۔

غورطلب بات یہ ہے کہ اس لوگو اور سلوگن کے بارے میں، جماعت کے اندر، کسی کو بھی تشویش نہ ہو، یہ امر مزید تعجب خیز ہے۔لوگو اور سلوگن کے اس تسلسل کے تین ہی معنی لیے جاسکتے ہیں۔اولاً ۔۔۔ یہ نادانستہ سہو ہے جسے ہیومن ایرر تصور کرکے نظرانداز کردیا جانا چاہیے۔ثانیاً ۔۔۔ یہ نااہلی ہے اور ذمے دار افراد کے علاوہ، پیج کے قاری بھی، اس بارے میں پیشہ ورانہ قواعد و ضوابط سے واقف نہیں ہیں۔

ثالثاً ۔۔۔ یہ دانستہ ہے اور اسے ادارے کے جانب سے اسپانسرشپ، کسی مفادی معاہدے یا ذومعنی ابلاغ کے لیے ڈیزائن کا حصہ بنا کر رکھا گیا ہے۔
معاملہ چاہے جو بھی ہو، مورخ نے دھرنے کا یہ پہلو بھی ضرور نوٹ کرلیا ہوگا اور ابلاغ کے طالب علم، اس نکتے کو اپنے مطالعے کے لیے یاد رکھیں گے-

اپنا تبصرہ بھیجیں