وزیر اعظم نے عہدے سے مشروط استعفے کی حامی بھر لی

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بات استعفے کی ہے تومذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں، میں کسی صورت استعفا نہیں دوں گا، انہیں کھلے دل سے مارچ،احتجاج اور دھرنے کی اجازت دی جائے، الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں، اگر دھاندلی ثابت ہوگئی تو وہ اپنا منصب چھوڑ دیں گے، اسکے علاوہ اپوزیشن کے پاس کوئی حل نہیں۔تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان سے حکومتی مذاکراتی کمیٹی نے ملاقات کی –

جس میں وزیراعظم کورہبرکمیٹی کے فیصلوں اور آزادی مارچ کے حوالے سے مولانا فضل الرحمان کے مئوقف سے آگاہ کیا گیا۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اگر بات استعفے کی ہے تو پھر مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ لیکن میں استعفا کسی صورت نہیں دوں گا۔انہوں نے کہا کہ انہیں کھلے دل سے مارچ اور دھرنے کی اجازت دی جائے۔ معاملے کو سیاسی طور پر حل کرنا چاہتے ہیں، الیکشن میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کیلئے تیار ہیں۔

دوسری جانب وزیراعظم نے آج پارٹی ترجمانوں کا اجلاس بھی طلب کرلیا ہے۔اجلاس میں ملک کی سیاسی معاشی صورتحال اور آزادی مارچ سے متعلق حکمت عملی پر مشاورت کی جائے گی۔ مزید برآں وزیر اعظم عمران خان کی زیرصدارت مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی سے متعلق اجلاس ہوا۔ اجلاس میں خسروبختیار، مراد سعید ، ڈاکٹر ثانیہ نشتر ودیگرنے شرکت کی۔

اجلاس میں وزیراعظم کواشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کیلئے بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں ریلیف کیلئے 6 ارب روپے یوٹیلیٹی کارپوریشن کو فوری دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سبسڈی سے آٹا ، گھی، چینی، اور چاول کی قیمتیں کم کی جائے گی۔عمران خان نے کہا کہ عوام کو ریلیف فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ کوشش ہے –

کم آمدنی والے خاندانوں کو ریلیف فراہم کیا جائے۔ مشکل فیصلوں کی وجہ سے آج معیشت میں استحکام آیا۔ مشکل فیصلوں سے اقتصادی عشاریے بہتری ظاہر کررہے ہیں۔ یوٹیلیٹی کارپوریشن ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سبسڈی سے 20 کلوآٹے کی قیمت 132 روپے کم کرسکتے ہیں۔اسی طرح چینی 9 روپے، گھی کی قیمت 30، چاول کی قیمت 20 اور دال فی کلو15روپے کمی کی جاسکتی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں