حامد میر

جو شخص بھی پاکستان کے شہر اقتدار میں حکمران بن کر آتا ہے ، رسوائی اس کا مقدر کیوں بن جاتی ہے ؟ حامد میر کی ایک سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان کا شہرِ اقتدار کنٹینروں کا دیار بن چکا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں کی طرف جانے والی شاہراہوں پر کنٹینروں کی بھرمار ہے۔ یہ بڑے بڑے کنٹینر اُس خوف کا اظہار کر رہے ہیں جو شہر کے ایک کونے میں دھرنا دینے والے ہزاروں باریش افراد کے نعروں نے پیدا کیانامور کالم نگار حامد میر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ہے۔مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں ملک کے دور دراز علاقوں سے آنے والے یہ باریش افراد کئی دن سے ’’گو عمران گو‘‘ کا نعرہ لگا رہے ہیں اور وزیراعظم عمران خان وقفے وقفے سے یہ اعلان کرتے پھر رہے ہیں کہ کان کھول کر سُن لو میں کسی کو این آر او نہیں دوں گا۔

این آر او کی اصطلاح پاکستان کی سیاست میں جنرل پرویز مشرف نے متعارف کروائی تھی۔ انہوں نے اپنے اقتدار کے آٹھ سال بعد 2007میں پیپلز پارٹی کے ساتھ قومی مفاہمت کے نام پر ایک معاہدہ کیا جس کے تحت پیپلز پارٹی کی قیادت پر قائم کئی مقدمات ختم ہو گئے۔اس این آر او سے فائدہ اٹھانے والوں میں متحدہ قومی موومنٹ بھی شامل تھی۔کچھ عرصہ کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے 17ججوں نے 16دسمبر 2009کے دن مشرف کے جاری کردہ قومی مفاہمتی آرڈیننس کو منسوخ کر دیا۔

ملک کی اعلیٰ ترین عدالت دس سال قبل این آر او کو منسوخ کر چکی ہے لیکن ہمارے وزیراعظم ہر دوسرے دن بےقرار ہو کر للکارتے ہیں کہ وہ کسی کو این آر او نہیں دیں گے۔اُن کی یہ للکار شہرِ اقتدار کی سرکار کے اندر موجود کسی خوف کو چھپانے کی کوشش لگتی ہے۔ عمران خان بظاہر بڑے پُر اعتماد نظر آتے ہیں لیکن بند کمروں میں اپنے ساتھیوں سے کہتے ہیں کہ کسی طریقے سے مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مفاہمت کا راستہ نکالو۔مولانا وزیراعظم کا استعفیٰ مانگ رہے ہیں۔ وہ جانتے ہیں اُنہیں استعفیٰ نہیں ملے گالیکن وہ حکومت کا اعتماد اور دبدبہ ختم کر چکے ہیں۔

شاید وہ کچھ دنوں میں واپس تو چلے جائیں لیکن اُن کی واپسی کے بعد عمران خان کی مشکلات کم نہیں ہوں گی کیونکہ عمران خان کا اصل مقابلہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ نہیں ہے۔ عمران خان کا اصل مقابلہ عمران خان کے ساتھ ہے۔ہم نے یہ بار بار دیکھا ہے کہ اس شہرِ اقتدار میں جو بھی وزیراعظم بن کر آتا ہے وہ کچھ ہی عرصے میں اجنبی اجنبی سا ہو جاتا ہے۔ اُس کا چہرہ اور آواز تو پرانی ہوتی ہے لیکن اُس کا لب و لہجہ اور اندازِ فکر بدل جاتا ہے۔ وہ اپنا دشمن خود بن جاتا ہے اور جو بھی اُسے سمجھانے کی کوشش کرے وہ اسے بھی اپنا دشمن سمجھنے لگتا ہے۔اُسے پرانے ساتھی بُرے اور نئے نئے لوگ اچھے لگنے لگتے ہیں –

کیونکہ وہ خوشامد کے فن میں بڑی مہارت رکھتے ہیں اور پھر جب یہ وزیراعظم رسوائیوں کا شکار ہو جاتا ہے تو یہ خوشامدی نئے حکمران کے گرد منڈلانا شروع کر دیتے ہیں۔پاکستان کے شہرِ اقتدار میں آنے والے اکثر حکمران رسوائیوں کا شکار ہوئے اور یہ شہرِ اقتدار خود بھی بڑا بدقسمت ہے۔ نام تو اس کا اسلام آباد ہے لیکن اسلام کے ساتھ سب سے زیادہ دھوکے اسی شہر میں ہوتے ہیں۔ اس شہر کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اسلام آباد کی اصل تاریخ کو عوام سے چھپایا گیا۔عوام کو بتایا گیا کہ سابق صدر ایوب خان نے 1960ء میں یہ شہر بسایا تھا۔ یہ درست ہے کہ جب اسلام آباد قائم ہوا تو ایوب خان پاکستان کے حکمران تھےلیکن اصل تاریخ مختلف ہے۔ یہ 26جولائی 1944ء کی بات ہے۔

قائداعظم محمد علی جناحؒ سرینگر سے راولپنڈی آ رہے تھے۔اُن کے ساتھ گاڑی میں محترمہ فاطمہ جناح اور جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے رہنما چوہدری غلام عباس بھی موجود تھے۔ جب گاڑی بارہ کہو کے قریب مل پور پہنچی تو قائداعظمؒ نے چوہدری صاحب سے پوچھا کہ پاکستان کا دارالحکومت کہاں ہوگا؟ چوہدری صاحب نے کہا لاہور، قائداعظم نے اپنے دائیں جانب مارگلہ کی سرسبز پہاڑیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دارالحکومت یہاں ہوگا۔ پھر اُنہوں نے مل پور میں گاڑی روکی اور یہاں کے مقامی لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا دارالحکومت اس سبزہ زار میں ہوگا۔

تحریک پاکستان کے کارکن مولانا محمد اسماعیل ذبیح کی کتاب ’’اسلام آباد… منزلِ مراد‘‘ میں اس شہر کی اصل تاریخ محفوظ ہے جس کے مطابق حکومت برطانیہ کی طرف سے شائع کردہ ٹرانسفر آف پاور کی دسویں جلد میں یہ لکھا ہے کہ مسلم لیگ کی طرف سردار عبدالرب نشتر نے حکومت برطانیہ کو مئی 1947میں یہ بتا دیا تھا کہ پاکستان کا دارالحکومت راولپنڈی میں ہوگا۔کراچی کو پاکستان کا عارضی دارالحکومت بنایا گیا تھا، جب دارالحکومت کو راولپنڈی کے قریب منتقل کیا گیا تو اس کی اصل تاریخ چھپا لی گئی۔

دارالحکومت کا نام رکھنے کے لئے حکومت نے عوام سے تجاویز مانگیں۔مولانا اسماعیل ذبیح نے شہر کا نام جناح آباد تجویز کیا لیکن عارف والا کے ایک اسکول ٹیچر عبدالرحمان امرتسری نے دارالحکومت کا نام اسلام آباد تجویز کیا۔اُن کی تجویز قبول کر لی گئی اور حکومت پاکستان نے بطور انعام اُنہیں اسلام آباد میں ایک پلاٹ دینے کا وعدہ کیا۔ یہ وعدہ پورا نہ ہوا اور وہ 1990ء میں وفات پا گئے۔ایوب خان نے اس شہر کی تاریخ چھپائی اور جب وہ یہاں آئے تو رسوا ہو کر حکومت سے نکلے۔

یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔ جو بھی اس شہر اقتدار میں حکمران بن کر آتا ہے اُس کا مقدر رسوائیاں بنتی ہیں کیونکہ اس شہر میں ہونے والے اکثر فیصلوں سے عوام کے لئے خیر کی بجائے خرابی جنم لیتی ہے۔ اسلام کے نام پر بنائے گئے اس شہر میں ریاستِ مدینہ کا نام تو لیا جاتا ہے لیکن ریاستِ مدینہ والا کام نظر نہیں آتا۔ جالب نے کہا تھا؎اس شہرِ خرابی میں غمِ عشق کے مارے۔۔۔زندہ ہیں یہی بات بڑی بات ہے پیارے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں