من کی باتیں/خالد قریشی

پاکستان دھرنوں کا شکار

پاکستان دھرنوں کا شکار ہے اور اسلام آباد دھرنوں کا ’’شہر‘‘ بن گیا ،اگر ایمانداری سے دیکھیں تو پاکستان اور بین الاقوامی حالات میں زمین اور آسمان کا فرق ہے۔مولانا فصل الرحمن صاحب نے ’’نئے عمرانی‘‘ معاہدے کی بات کی ہے ،اس سے قبل سیاسی جماعتوں نے (سی او ڈی)چارٹرڈ آف ڈیموکریسی پر بھی دستخط کئے تھے جو کہ برطانیہ میں سابقہ وزیرداخلہ رحمن ملک کی رہائش گاہ پر ہوئے تھے ،تمام معاملات طے ہونے پر جب محترم شریف برادران کو معلوم ہوا کہ رحمن ملک کی رہائش گاہ جہاں محترمہ بے نظیر بھٹو ٹھہری ہوئیں تھیں-

وہاں اس تاریخی معاہدے پر دستخط ہوں گے تو پرانی ضد ،انا اور ماضی یاد آ گیا کہ پیپلز پارٹی کے دور میں بطور ڈی جی ایف آئی اے رحمن ملک نے شریف برادران کے والد بزرگوار محترم محمد شریف کی گرفتاری کا نہ صرف حکم دیا تھا بلکہ انتہائی توہین آمیز انداز سے گرفتار بھی کرایا تھا۔حالانکہ بطور ڈی جی ایف آئی اے جو کچھ کیا وہ پیپلز پارٹی کے حکمرانوں کی خواہش پر کیا گیا تھا،بہر حال اسی رحمن ملک کی رہائش گاہ پر دستخط ہوئے-

جہاں یہ عہدوپیمان ہوئے کہ آئندہ کسی اور کے کہنے پر سیاسی پارٹیاں استعمال نہ ہوں گی،ایک دوسرے کے عوامی مینڈیٹریٹ کا احترام کریں گی۔اس کا عملی مظاہرہ نظر بھی آیا ،2008 ؁ء سے2013؁ء اور 2013 ؁ء سے 2018 ؁ء پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے پورے پانچ سال اقتدار کیا،آج ایک بار پھر 2014 ؁ء کی طرح کشمیر ہائی وے پر’’دھرنے‘‘ کی یاد تازہ کی گئی ،ایک نیوز چینل نے کہا کہ صرف کردار تبدیل ہوئے سکرپٹ وہی پرانا ہے،بلکہ گذشتہ رات مولانا فضل الرحمن کے خطاب اور مولانا طاہرالقادری کے خطاب اور پر نم آنکھوں تک وہی تھا۔جب دھرنوں کو اسلام آباد سے پورے پاکستان تک پھیلانے کی بات کی تھی-

جس کا مطلب کہ واپسی کا سفر ہو گا مگر ہر چیز کا مقصد ہوتا ہے،کچھ پس پردہ بھی ہوتا ہے۔اب صرف ’’فیس سیونگ ‘‘ ہو گی،ایک مشہور اینکر نے کیا خوب کہا کہ ’’ ملک میں تمام اپوزیشن نئے انتخابات کا مطالبہ کرتی ہیں،اس احتجاجی سیاست سے کاروبار،روزگار متاثر ہوتے ہیں۔ملک افراتفری کا شکار ہوتا ہے،سڑکیں بند ہوتیں ہیں،ملک غیر یقینی کا شکار ہوتا ہے،اگر واقعی اپوزیشن جماعتیں نئے الیکشن چاہتی ہیں ،حکمران جماعت کی مشکلات میں اضافہ چاہتی ہیں تو آسان جمہوری و پارلیمانی طریقہ کار ہے کہ تمام اپوزیشن جماعتیں جو کہ اس احتجاجی دھرنے میں نو جماعتیں ہیں ،جن کی بہت بڑی تعداد اراکین اسمبلی کی ہے ،وہ وفاقی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ سے اجتماعی استعفیٰ دے دیں-

تقریباََ آدھی سے زائد قومی اسمبلی ،صوبائی اسمبلیاں اور سینٹ خالی ہو جائیں گی،حکومت حقیقی بحران کا شکار ہو جائے گی،عمران خان کا لازمی استعفیٰ دینا پڑے گا۔اگر احتجاج کا راستہ اختیار کیا گیا اور دھرنے کو ریڈ زون میں لے کر گئے تو فساد ہوگا،لڑائی ہو گی اور صورتحال خطرناک ہو گی،جھگڑا ،تصادم ہو گا، ایسی صورتحال میں فوج غیر جانبدار نہیں رہے گی اور فوج کو مداخلت کرنا پڑے گی،پھر جمہوریت رخصت ہو گی ،الزام سیاستدانوں پر آئے گا ،پھر کرپشن کے کیس ختم نہ ہوں گے ،ذیادہ شدت سے چلیں گے ،فیصلے فوراََ ہوں گے،ملٹری کورٹس میں جلد ہو گے۔آج کل پاکستان اور دنیا اس کی اجازت نہیں دیتی کہ پاکستان میں منی لانڈرنگ ہو-

مشکوک انداز سے پیسے آئیں،اب کیش اکانومی نہیں چلے گی۔دنیا نے بہت سخت قوانین بنائے ہیں،اب پاکستان (ایف اے ٹی ایف)فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس میں گرے لسٹ پر ہے،ساری دنیا میں اس پر کام ہو رہا ہے،ذیادہ تر اس منی لانڈرنگ میں حکمران اور سیاستدان ملوث ہیں،ساری قوم اور حکمرانوں ،اپوزیشن کو اس صورتحال سے باہر آنا ہو گا،پاکستان شدید ترین اقتصادی بحران میںہے،اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ پاکستان (ایف اے ٹی ایف)میں بلیک لسٹ میں جائے۔ (ایف اے ٹی ایف)کیا ہے؟،پاکستان پر اس کے اثرات کیا ہیں؟،آج باحیثیت ایک قوم پاکستانیوں کو کیا کرنا چاہئے؟،کیا ’’دھرنے‘‘پاکستان کی اقتصادی صورتحال بہتر کر سکتے ہیں؟

آج مولانا فصل الرحمن نے درست فرمایا ’’کہ نیا عمرانی معاہدہ ہونا چاہئے‘‘ مگر کیا ہو گا؟،کیا پاکستان بین الاقوامی دنیا کے ساتھ قدم ملا کر چل سکتا ہے؟،ملک میں تعلیمی نظام بہتر ہو سکتا ہے؟،صحت ،روزگار ،کاروبار،امن و امان ،اقتصادی صورتحال ،بجلی ،پانی ،گیس اور روٹی جیسے بنیادی مسائل کا حل ہو گا؟،صرف اگر دیکھیں کہ فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس کیا ہے ؟،پاکستان ایشین پیسیفک گروپ میں ہے،ایران اور سائوتھ کوریا بلیک لسٹ میں ہیں،پاکستان کے اطمینان بخش اقدامات سے پاکستان گرے لسٹ میں ہے،انشاء اللہ حکومت کی کوشش ہے کہ پاکستان وائٹ لسٹ میں شمار ہو۔

فائنینشل ایکشن ٹاسک فورس 1989 ؁ء میں قائم ہوئی ،(ایف اے ٹی ایف)انٹی منی لانڈرنگ کے لئے جو کہ بین الاقوامی Standards پر کام کرتی ہے کہ غیر قانونی منی لانڈرنگ نہ ہو جو کہ ٹیررازم کے لئے پیسہ استعمال ہوتا ہے۔تقریباََ 39 ممالک اس کے رکن ہیں، ایسے حالات میں پاکستان کو بہت سمجھداری اور ہوش مندی کی ضرورت ہے۔گذشتہ 71 سالوں سے نظام تعلیم تبدیل نہ ہوا،وہی روایتی نظام تعلیم ہے۔1825 ؁ء جب انگریز راولپنڈی کے سرد مقام ’’کوہ مری‘‘ گیا تو تقریباََ 2 سو سال قبل انگریز جرنیل ’’سر لارینس‘‘ نے مری کے مشہور و معروف درسگاہ لارینس کالج گھوڑا گلی کی بنیاد رکھی ،آج تک پاکستان ’’اشرافیہ‘‘ جاگیردار،نواب ، جرنیلوں کی نسل اسی درسگاہ سے پروان چڑھی ۔لڑکیوں کی درسگاہ ’’جیسنز اینڈ میری‘‘ پنڈی پوائنٹ سے محترم بے نظیر بھٹو پڑھی تھیں۔

آج تک پاکستان کے اعلیٰ خاندان ان تعلیمی اداروں کو رول ماڈل اور سٹیٹس سمبل سمجھتے ہیں۔آج کل دنیا میں نیا ٹرینڈ آ گیا کہ ’’ڈگری نہیں ہنر‘‘ دیں۔اس نعرے نے انسانی تاریخ کو بدل کر رکھ دیا ،چین کی کہاوت ہے کہ اگر کسی کی مدد کرنا چاہتے ہو تو مچھلی دینے کی بجائے مچھلی پکڑنا سیکھا دیں ۔اگر دنیا میں جاپان اور جنوبی کوریا آٹو موبائل انڈسٹری میں سب سے آگے ہے ،سپر پاور کو مات دی ہے،Samsung اور LG کی انڈسٹری جنوبی کوریا کی ہیں 2014 ؁ء میں صرف 350 بلین ڈالر کا ریوینو حاصل کیا،آئی ٹی الیکٹرانکس میں سب سے آگے ہیں۔جائے نماز اور تسبیح تک بدھ مت چین بناتا ہے اور مسلمان ممالک حاصل کرتے ہیں –

،تائیوان اور ویت نام جیسا ملک ہیلی کاپٹر اور جہاز بناتا ہے۔ سنگاپور کا مقابلہ نہیں کر سکتے،نظام تعلیم میں فن لینڈ پہلے، جاپان دوسرے اور جنوبی کوریا تیسرے نمبر پر ہے۔صرف اگر ان ممالک کا مشاہدہ کریں کہ ترقی کا راز کیا ہے؟،خوشحال کیوں ہے؟،دنیا میں تعلیم میں کیوں سر فہرست ہے ،بچوں کو 20 فیصد کلاس اور 80 فیصد وقت ان کو کمپیوٹر پر اپنے جوہر دیکھانے کا موقعہ کیوں دیا جاتا ہے؟،مذکورہ تینوں ممالک نے اپنی نئی نسل کو ڈگری اور گریڈ کی دوڑ سے الگ کیوں کر دیا ؟۔واکیشنل اسکول کیوں ان ممالک میں پروان چڑھتے ہیں ،پاکستان میں سالانہ 2 سو ارب کے لیپ ٹاپ تقسیم ہوتے ہیں مگر اس کی انڈسٹری نہیں بنتی –

اس کی بنیادی وجہ صرف ذاتی کرپشن ہے کہ 200 ارپ کے لیپ ٹاپ میں کروڑوں کی کمیشن ملتی ہے ۔پاکستان میں کبھی ٹیکنالوجی ٹرانسفر نہیں ہوتی،پاکستان میں بی کام ،ایم کام اور انجینئرنگ کے شعبے کے نوجوان ڈگری حاصل کر کے صرف سرکاری نوکری کے لئے در بدر پھرتے ہیں۔فیلپائن میں ہوٹل مینجمنٹ اور نرسز ،ویٹرز کے لئے Diploma کورسز ہوتے ہیں،دنیا میں سیلز مین ،مارکیٹنگ ،ہوٹل اور ہسپتال میں فلپائن کے لوگ ملیں گے۔بھارتی نوجوان آئی ٹی کے شعبے میں دنیا میں بر سر روزگار ہیں۔پوری قوم سی پیک کی منتظر ہے جہاں سے صرف ٹول ٹیکس ،کھوکھے،ڈھابے،ٹائر شاپس،سروس اسٹیشن پر امید لگائی ہے۔

آج دنیا کہاں جا رہی ہے تو ہماری اپوزیشن ’’دھرنوں ‘‘میں مصروف ہے۔کیا پاکستان کی حکومت اور اپوزیشن نے پاکستانی قوم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے کا درس دیا؟،دنیا کا مقابلہ کیسے کریں گے،آج صورتحال یہ ہے کہ اپنے میڈیا پر اپنے اداروں پر تنقید کرتے ہیں اور بھارتی میڈیا ہمارے راہنمائوں کی تشہیر کرتے ہیں،پاکستان کو دنیا کے ساتھ چلنے کے لئے نئے چارٹرڈ کرنے ہوں گے۔نئے عمرانی معاہدے کرنے ہوں،’’کرپشن فری پاکستان ‘‘،’’اقتصادی ترقی کا پاکستان‘‘،’’دہشت گردی سے پاک پاکستان ‘‘ ،’’سب سے پہلے پاکستان اور سب کے لئے پاکستان ‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں