رابی پیرزادہ کی ویڈیوز: قصور کس کا ہے اور اب کیا ہوگا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ منظر عام پر آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) گلوکارہ رابی پیرزادہ کی برہنہ ویڈیو اور تصاویر سوشل میڈیا پر شیئر کیے جانے کے بعد کئی صارفین یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا ان کا ڈیٹا محفوظ ہے یا کوئی بھی اس تک رسائی حاصل کر سکتا ہے؟یہ سوال بھی اہم ہے کہ اگر آپ کا ڈیٹا کسی نامور صحافی طاہر عمران بی بی سی کے لیے اپنی ایک اسپیشل رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔غلط ہاتھ میں چلا جاتا ہے تو کیا ہو سکتا ہے؟ کیا آپ کا فون محفوظ ہے؟ کیا ڈیٹا کے تحفظ کے بارے میں پاکستان میں قوانین موجود ہیں اور اگر ہیں تو وہ کیا ہیں؟اور اس تصور کا کیا ہوا کہ آپ کی تصویر اس وقت تک محفوظ ہے جب تک وہ آپ کے پاس ہے؟

کیا آپ کو ایسی تصاویر کھینچنی ہی نہیں چاہیے؟ اس بارے میں رائے منقسم ہے۔اگر آپ نے اپنی ذاتی تصاویر اور خصوصاً ایسی تصاویر کسی کے ساتھ شیئر کی ہے جس کے بارے میں آپ کو یقین ہے کہ اگر وہ کسی تیسرے شخص کے ہاتھ لگ گئی تو آپ کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں، تو آپ کے لیے بری خبر ہے کیونکہ تیر اب کمان سے نکل چکا ہے۔مگر یہاں ہم اس بات کا جائزہ لیں گے کہ کس طرح انٹرنیٹ کے دور میں آپ اس قسم کے جدید اور پیچیدہ مسائل سے بچ سکتے ہیں اور اپنے آپ کو اور اپنے ڈیٹا کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

ایک بات جو ڈیجیٹل حقوق کے ماہرین، کچھ ڈھکے چھپے الفاظ میں اور بعض کھل کر، بتاتے ہیں وہ ہے کہ آپ اگر نیا فون لیتے ہیں تو پرانا فون توڑ پھوڑ دیں یا سنبھال کر رکھیں۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تمام فونز سے ڈیلیٹ ہوا ڈیٹا بھی کسی نہ کسی سطح پر دوبارہ حاصل کیا جا سکتا ہے اور ٹیکنالوجی اتنی ترقی کر چکی ہے کہ ایسا کرنا اب پہلے کی نسبت زیادہ آسان ہے۔2014 میں ڈیجیٹل سکیورٹی کمپنی اواسٹ نے خرید و فروخت کی ویب سائٹ ای بے سے بیس-

اینڈروئیڈ فون خریدے اور ان سے ڈیلیٹ شدہ ڈیٹا دوبارہ حاصل کیا جس میں ایک صاحب کی بہت سی برہنہ تصاویر بھی موجود تھیں جو شاید اس فون کے سابقہ مالک تھے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کمپنی نے اس کے لیے کچھ زیادہ تردد بھی نہیں کیا۔ یعنی ’ری سٹور فیکٹری سیٹنگز‘ سے ڈیٹا غائب نہیں ہوتا اور اسے خصوصی سافٹ ویئر کی مدد سے واپس لایا جا سکتا ہے۔اگر آپ کو ایسی کوئی تصاویر ملتی ہیں یا آپ کے ساتھ شیئر کی جاتی ہیں تو آپ پر کتنی قانونی ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

سب سے پہلے تو یہ بات ذہن میں رکھیں کہ جب تک یہ مواد آپ کی مرضی کے بغیر آپ کو بھجوایا گیا ہے تو آپ پر کوئی گرفت نہیں ہے۔ مگر جب آپ اس مواد کو آگے کسی کے ساتھ بھی شیئر کرتے تو پھر یہ معاملہ قابلِ گرفت ہوتا ہے۔پاکستان میں 2016 کے سائبر کرائم قانون میں ایسی بہت سی شقیں موجود ہیں جن کی بنیاد پر اس قسم کی باتیں قابلِ گرفت ہو سکتی ہیں۔قانون کہتا ہے کہ کسی فرد کی نامناسب یا فحش تصاویر کو پھیلانے یا شیئر کرنے کا جرم ثابت ہونے پر سزا پانچ سال تک قید اور پچاس لاکھ تک جرمانے یا دونوں کی صورت میں ہو سکتی ہے۔

اگر کوئی بدنیتی سے آپ کے ڈیٹا تک بغیر آپ کی اجازت رسائی حاصل کرتا ہے یا دوسرے لفظوں میں ہیک کرتا ہے یا تو اس کی سزا تین ماہ تک قید،پچاس لاکھ تک جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے۔اگر کوئی ایک غیر جانبدار فرد کی ساکھ کو متاثر کرنے یا بدلہ لینے یا نفرت یا بلیک میل کرنے کے لیے کسی انفارمیشن سسٹم یعنی سافٹ ویئر یا آلہ بناتا ہے تو اسے پانچ سال تک قید پچاس لاکھ تک جرمانہ یا دونوں کی سزا دی جا سکتی ہے۔کسی کا ای میل ہیک کرنا یا فون پر پیچھا کرنا یا ہراس کرنے پر تین سال تک قید اور دس لاکھ روپے تک جرمانہ یا دونوں کی سزا ہو سکتی ہے۔

اگر آپ کسی کی فلیش ڈرائیو، سم کارڈ، موبائل یا کمپیوٹر سے ڈیٹا کاپی کر کے نشر کرتے ہیں تو آپ کو چھ مہینے قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ کیا جا سکتا ہے یا دونوں۔اگر آپ کے ساتھ کچھ شیئر کیا گیا ہے تو آپ کتنے ذمہ دار ہیں؟ یعنی اگر ایسا مواد آپ کے فون یا کمپیوٹر سے ملتا ہے تو کیا آپ ذمہ دار ہیں؟ان قوانین کو ذہن میں رکھتے ہوئے یہ بات تو کہی جا سکتی ہے کہ قانون میں بہت سارے راستے موجود ہیں جن کا استعمال کر کے ایک سائل داد رسی حاصل کر سکتا ہے –

مگر ایک مرتبہ پھر کہوں گا کہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ تیر کمان سے نکل چکا ہے جناب!اس کی وجہ یہ ہے کہ اتنے قوانین کے باوجود سائلین کو عدالتوں میں بہت سی مشکلات کا سامنا ہے۔اور وہ کون سی مشکلات ہیں، اس کے جواب میں ماہر قانون ریما عمر نے بتایا کہ ‘پاکستان کا سائبر کرائم کا قانون ابھی نیا ہے اور اس کی تشریح کی جانی ابھی باقی ہے۔ مگر اس قانون کے تحت اس قسم کے اکثر جرائم کی داد رسی ممکن ہے۔ اس میں خواتین کے وقار پر حملہ کرنے کی شق بھی موجود ہے۔’

خواتین کے خلاف ہراس اور اس قسم کے مقدمات کی پیروی کرنے والے وکلا کا کہنا ہے کہ اس قسم کے کیسز کی درست طریقے سے نہ تو تفتیش ہو رہی ہے نہ ہی اسے درست طریقے سے پیش کیا جا رہا ہے اور اس وجہ سے فیصلہ کرنے کے لیے عدالت کو زیادہ وقت لگتا ہے اور کیس بہت سست روی سے چلتا ہے اور جب تک کوئی فیصلہ آتا ہے تب تک کافی دیر ہو چکی ہوتی ہے۔مگر جہاں ماہرین قانون اور تحقیقات کرنے والے اہلکار اس قانون کی تشریح اور عدلیہ کی ٹریننگ کے عمل کو بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہیں وہیں پولیس اور ایف آئی اے کے تفتیش کرنے کی استعداد اور افرادی قوت کو بھی بہتر بنانے کی بات کی جاتی ہے۔(بشکریہ : بی بی سی)

کیٹاگری میں : پا کستا ن

اپنا تبصرہ بھیجیں