نقطہ نظر/حفصہ مسعودی

کشمیریوں کے چند خیالات

مجھ سے اگر کوئی شناخت کی بات کرے گا تو میں پاگل ہو جاوں گی ، شناخت آج ختم نہیں ہوئی ، میری شناخت تو شروع سے متنازعہ ہے کیونکہ میں متنازعہ علاقے میں پیدا ہوئی ہوں اور حقیقت یہ ہےکہ میرے والدین بھی میری شناخت کے معاملے میں اتنے ہی کنفیوزڈ تھے اور ہیں جتنی میں ہوں اور شاید رہوں بھی ۔ اس میں قصور کس کا ہے ، مجھے علم نہیں۔

میں نے آزاد کشمیر کے ایک دور افتادہ گاوں میں آنکھ کھولی جو میرے بچپن سے ہی انڈیا کی جانب سے فائرنگ کی زد میں تھا۔ ابتدائی معلومات اور والدین کی تعلیم کے مطابق انڈیا ہمارا دشمن تھا جو روزانہ ٹن کے حساب سے بارود برساتا تھا ، معصوم شہریوں کو ہراساں کرنے کے لئے۔ یقنین جانیے ہراساں کرنے کا بھی کوئی فائدہ نہ تھا کیونکہ اس سے تو اذاد کشمیر کی حکومت کو بھی کوئی فرق نہیں پڑتا تھا ، کجا کہ پاکستان اور عالمی برادری تو بالکل ہی بعید از قیاس بات ہے ۔ صرف وہاں کے معصوم شہری اپنا قصور ڈھونڈتے تھے کہ ان سے چندمیٹر کے فاصلے پر ایک محفوظ بنکر میں بیٹھا ان جیسا انسان ان پر بارود برسا کر زندگی کی امید ، خوشیاں اور سکون کیوں چھین رہا ہے ؟

خیر مائیں اور استاد ہمیں سکھاتے تھے کہ ہم پاکستانی ہیں ، مسلمان ہیں ، انڈیا ہندو ہے دشمن ہے ، اس لئے مارتا ہے ۔ میرے لئے ساری دنیا ہندو اور مسلمان میں تقسیم ہو گئی جس میں ہندو صرف مذہب کے اختلاف کی وجہ سے میرے جیسے انسانوں کی جان لیتا ہے ، مجھے نہیں معلوم تھا کہ وادی نیلم سے باہر دنیا ایسی بھی ہے جس میں فائرنگ نہیں ہوتی اور بچے سکون سے رہتے ہیں۔خوف میں نہیں سوتے لیکن ماں جب نماز کے بعد دعا کرنا سکھاتی تھی تو وہ دعا ہوتی تھی پاکستان کی سلامتی کی ، پھر کشمیر اور فلسطین کی آزادی کی ، پھر والدین کی سلامتی اور اپنے ایمان پر خاتمے کی ۔ چودہ اگست پر جشن منانا اس طرح فرض تھا جس طرح یکم شوال کو عید منانا۔

پاکستان کے لئے پرجوش تقریریں کرنا ، کشمیری بھائیوں کی شہادتوں پر ماتم کرنا اور میرے وطن تیری جنت میں آئیں گے اک دن گانا ، زندگی بس اتنی ہی تھی۔ پھر ایک بار کالج کی ایک ٹیم کے ساتھ پاکستان جانا ہوا ۔ وہاں پاکستان کے چاروں صوبوں سمیت آزادکشمیر سے لوگ آئے ہوئے تھے ، پاکستان سے آئی ہوئی کچھ لڑکیوں نے ہمیں کشمیری پھیکے شلجم کہہ کر پکارنا شروع کیا تو پہلا شاک لگا کیونکہ میں تو اب تک پاکستانی تھی ، کوئی پاکستانی ترانہ ایسا نہ تھا جو لہک لہک کر گایا نہ ہو ، کوئی نماز ایسی نہ تھی جس میں پاکستان کے لئے دعا نہ کی ہو ، دس کے دس نشان حیدر کی تصویریں اپنے فوٹو البم میں لگا کر فخر محسوس کیا تھا ، کارگل وار کے دوران سرحد پر جانے والے فوجیوں کو مظفرآباد کی سڑکوں پر کھڑے ہو کر خراج تحسین پیش کیا تھا۔شاید پاکستانی شناخت سے الگ ہونے کا احساس اتنا جان لیوا نہ ہوتا اگر طعنے دینے والی نے کشمیری ہونے کے ساتھ ساتھ کشمیری عورتوں کی عصمتیں لٹنے کا طعنہ بھی نہ دیا ہوتا ۔ بہت سے سمجھداروں سے استفسار کیا اپنی قومیت اور شناخت کے بارے میں ۔ سب نے کہا ، ہاں ہم کشمیری ہیں ‘ تو آج تک ہم پاکستانی کیوں تھے ؟ کیونکہ کشمیر بنے گا پاکستان ۔ ابھی بنا نہیں ہے تو میں پاکستانی کیسے ہوگئی۔

وفا کا تقاضا یہی ہے کہ کشمیر کے پاکستان بننے سے پہلے ہم پاکستانی ہیں ، ہمیں پاکستان بننے کے لئے کوشش کرنی ہے۔اب کشمیر بنے گا پاکسستان زندگی کا واحد مقصد رہ گیا۔ رفتہ رفتہ احساس ہوا کہ بنیادی شناخت کشمیری ہے ۔ اب جب بھی اس شناخت کے بارے میں بات کی ، پاکستانی چڑ گئے اور لگے احسان چڑھانے کہ کشمیری پاکستان کا کھاتے ہیں اور پھر بھی خود کو الگ سمجھتے ہیں ۔ حیرانی اس بات پر ہوئی کہ مجھے تو احساس ہی پاکستانی نے دلایا کہ میں کشمیری ہوں ۔ پھر جب میں نے کہا کہ میں کشمیری ہوں تو پاکستانی چڑتے کیوں ہیں ؟

کالج سے یونیورسٹی اور پھر پریکٹیکل لائف میں جب خود کو پاکستانی کہا ، احساس دلایا گیا کہ میں پاکستانی نہیں ہوں اور جب خود کو کشمیری کہا تو احساس دلایا گیا کہ میں غدار ہوں ، احسان فراموش ہوں ۔ پاکستان کا کھا کر خود کو پاکستان سے الگ تصور کرتی ہوں ۔ پھر رفتہ رفتہ معلومات بڑھیں ، میل جول بڑھا تو یہ بھی خبر ہوئی کہ میں اصل کشمیری بھی نہیں ہوں میں پہاڑی ہوں ۔ پھر کتابیں پڑھیں تو احساس ہوا کہ کشمیر بنے گا پاکستان کا نعرہ تو ۱۹۷۰ کی دہائی کی پیداوار ہے اور کشمیری پاکستان کا کھاتے ہیں کا جملہ مجاہد اول محسن کشمیر۔مٹی کے عظیم سپوت جناب سردار عبدالقیوم صاحب کا احسان ہے ۔ ایک احسان پہلی گولی ، دوسرا احسان کشمیری پاکستان کا کھاتے ہیں ۔ پھر دیکھا کہ میرے لیڈر بھی کنفیوزڈ ہیں ۔ کشمیر بنے گا پاکستانی ، لیکن ریاستی تشخص برقرار رہے۔کشمیر بنے گا خودمختار لیکن پاکستان کے فنڈز پر۔

کشمیر ی کھاتے پاکستان کا ہیں اور احسان فراموش ہیں ۔ اصل کشمیری ۔کشمیری بولنے والے ہیں ۔
کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ،نہیں پاکستان کی شہ رگ اور بالآخر مودی نے کشمیر کو بھارت میں ضم کرکے ٹنٹنا ہی ختم کردیا ۔ شغل ختم ،لیکن میرے محاذوں پر بمباری تو ابھی بھی جاری ہے۔

میں پاکستانی نہیں ہوں مجھے کیوں مارا جا رہا ہے ؟ نہیں لیکن میں پاکستانی ہوتی تو محفوظ ہوتی ، کیونکہ واہگہ ناروال بارڈر پر تو کوئی بھی نہیں مر رہا ۔ میں کشمیری نہیں ہوں مجھے کیوں مارا جا رہا ؟ کشمیری نہیں ہوں تو کیا ہوں؟ میرے خطے کا مستقبل کیا ہے ؟ میری کتنی نسلیں نا کردہ گناہوں کی سزا جھیلیں گی ؟ فائدہ کس کا ہے ؟ اگر میرے لوگ مر رہے ہیں یا خوف کے سائے میں زندگی گذارتے ہیں ؟
صرف ایک جواب ہے ۔ کشمیر ایک کاروبار ہے ۔ بڑی طاقتوں کا اسلحہ بکتا ہے ، درمیانی طاقتوں کا بیانیہ ، چھوٹی طاقتوں کے نعرے اور عوام کیڑے مکوڑے کی طرح مر رہے ہیں ، مرتے رہیں گے۔

جب تک بیرونی نعروں اور بیرونی بیانیوں پر تقسیم ہونا نہیں چھوڑیں گے۔ویسے تھینکس ٹو مودی جی
۵ اگست اور اکتیس اکتوبر کے اقدامات سے نہ صرف اپنے مکروہ عزائم پر کھل کر کھیلا ہے بلکہ پاکستانی حکومت کے چہرے سے نقاب اتارا ہے ۔ کشمیری اب کسی سے امید نہیں لگائیں گے۔ اب سیکھ لیا ہیکہ آزادی کی تحریکیں کامیاب ہوتی ہیں ، الحاق کی نہیں۔اب سیکھ لیا ہیکہ آزادی اپنےزور بازو پر ملتی ہے ، منگے پڑمنگے کی طاقت پر نہیں۔

اب سیکھ لیا ہیکہ مسئلہ کشمیر ختم ہونے والی چیز نہیں جب تک کشمیری زندہ ہیں۔میری تحریک زندہ ہے ، جب تک میرا دشمن زندہ ہے اور میرا دشمن طاقت کا وہ نشہ ہے جس کے آگے معصوموں کی زندگی کی اہمیت نہیں ہوتی ۔ چاہے وہ طاقت کا نشہ کسی کا بھی ہو ۔ مجھے مرنا ہے لیکن ہارنا نہیں ہے ،اپنی کھوئی شناخت اور اپنے ہم وطنوں کا کھویا وقار حاصل کرنے تک۔

نوٹ:حفصہ مسعودی کا تعلق وادی نیلم سے ہے اور وہ ریسرچ سکالر ہیں۔انہوں نے پیس اینڈ کنفلیکٹ سٹڈیز میں ایم فل کررکھا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں