اسد الدین اویسی بھارتی سپریم کورٹ کی طرف سے بابری مسجد کے فیصلے پر آگ بگولہ

نئی دہلی (ویب ڈیسک )آل انڈیا مجلسِ اتحاد المسلمین کے سربراہ اور بھارتی لوک سبھا کے رکن اسدالدین اویسی نے کہا ہے سپریم کورٹ کے فیصلے سے مطمئن نہیں ہیں فیصلے سے ہمیں تکلیف ہے سپریم کورٹ سپریم ضرور ہے غلطیوں سے مبرا نہیں ۔ مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑ زمین کی خیرات کی ضرورت نہیں ہے۔بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے حیدرآباد دکن سے رکن پارلیمنٹ اسدالدین اویسی کہا ہے کہ آئین کا مکمل احترام کرتے ہیں-

سپریم کورٹ مقدم ہے لیکن خطا سے مبرا نہیں ہے۔ اسدالدین اویسی نے کہا کہ اپنے حق کے لیے لڑ رہے تھے، ہمیں مسجد کے لیے 5 ایکڑ زمین کی خیرات کی ضرورت نہیں ہے، بھارت کا مسلمان اتنا گیا گزرا نہیں کہ وہ مسجد کی تعمیر کے لیے 5 ایکڑز نہ خرید سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں کسی سے بھیک کی ضرورت نہیں ہے، مسلمان مسجد کی تعمیر کے لیے خود زمین خرید سکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ انصاف انصاف ہو تا ہے –

عدالتی فیصلے بھائی چارگی کیلئے نہیں ہو تے۔ بھارتی عدالت کے فیصلے سے حقائق پر عقیدے کی جیت ہوئی۔ انہوں نے کہا ہم نے آئینی و قانونی لڑائی لڑی5ایکڑ زمین کیلئے نہیں لڑی پرسنل لاء مسلم بورڈ کو چایئے کو وہ زمین نہ لے ہمیں خیرات کی زمین کی کوئی ضرورت نہیں۔خیال رہے کہ بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے مسجد کی جگہ مندر تعمیر کرنے کا حکم دیا ہے۔بھارتی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بابری مسجد مندر کی جگہ پر تعمیر کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں