کرتارپور راہداری کی تقریب ختم ہو تے ہی پاکستان کیلئے 45 کروڑ ڈالر کا اعلان

اسلام آباد (ویب ڈیسک) بین الاقوامی مالیاتی ادارے ( آئی ایم ایف ) نے پاکستان کو 45 کروڑ ڈالر کی دوسری قسط جاری کرنے کا اعلان کردیا ہے۔پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان سہ ماہی جائزہ مذاکرات ہوئے، جس کے اختتام پر مشن نے وزیراعظم عمران خان کے مشیر خزانہ عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات کی۔آئی ایم ایف مشن نے 28 اکتوبر سے 8 نومبر تک پاکستان کا دورہ کیا، اس دوران انہوں نے وزیراعظم عمران خان، ان کی اقتصادی ٹیم اور صوبائی حکومتوں سے بھی ملاقاتیں کیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق مشن کے سربراہ نے مشکل حالات میں اہداف پورے کرنے کے لیے پاکستان کی کوششوں کی تعریف کی، آئی ایم ایف پاکستان کی معیشت کا اگلا جائزہ آئندہ برس سے شروع کرے گا۔عبدالحفیظ شیخ سے ملاقات میں آئی ایم ایف کے وفد کی قیادت ارنسٹو امریزریگو نے کی، مشیر خزانہ نے مالیاتی ادارے کی تکنیکی، مشاورتی اور مالی مدد کی تعریف کی۔آئی ایم ایف نے دورے کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ مشکل حالات کے باوجود پاکستان نے پروگرام پر بہتر عمل درآمد کیا-

اندرونی اور بیرونی خسارے کم ہورہے ہیں۔اعلامیے کے مطابق پاکستان نے دہشت گردوں کی مالی معاونت اور منی لانڈرنگ روکنے کے لیے مثبت اقدامات کیے ہیں، آنے والے دنوں میں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے۔اعلامیے کے مطابق ایف اے ٹی ایف سفارشات پر عمل درآمد کے لیے مارچ 2020ءتک عمل درآمد کیا جارہا ہے۔جبکہ دوسری جانب ایک خبر کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے کرتارپورراہداری مکمل ہونے پر عملے کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی ایفیشنٹ ہے-

اس کا مطلب ہے کہ ہم اور کام بھی کرسکتے ہیں،وہ راہداری کی افتتاحی تقریب سے خطاب کررہے تھے ۔وزیراعظم عمران خان کاکہناتھاکہ سب سے پہلے سکھ برادری کو گرونانک کے 550 سال کی سالگرہ کی مبارک دیتاہوں ، آپ کو خوش آمدیدکہتاہوں ، خاص طور پر آپ کو مبارک دینے کے بعد جو ہماری حکومت جس میں ایف ڈبلیو او سب سے آگے تھی ،ساری وزارتیں جنہوں نے دس مہینے میں یہ سارا کمپلیکس بنایا سڑک اور پل بنایا ، میں خراج تحسین پیش کرتاہوں ، مجھے تو اندازہ نہیں تھا کہ میری حکومت اتنی ایفی شینٹ (قابل )ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں