جنبش قلم/ خواجہ تنزیل

“ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا”

کل وزیر اعظم جناب “عمران خان” صاحب کا ٹویٹ پڑھا…. ایک دھچکا سا لگا… چکرا کر رہ گیا… دماغ میں گھنٹیاں بجنے لگیں….. سائیں سائیں کا شور سنائی دینے لگا… تخیل نے ریورس گئیر لگایا اور ماضی میں نظروں سے گزرے ایک رسالے کی طرف دھیان جست بھرنے لگا… رسالے کا نام تو یاد نہیں البتہ مضمون نگار “آغا شورش کاشمیری پہلے ایک نظر ان کی عبارت کے مفہوم .. آغا صاحب نے 1960 میں ایک کتابچہ شائع کیا جس میں لکھتے ہیں کہ……..

“انگریز نے کشمیر کے بارے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ مستقبل میں اس کو اور اس کے ساتھ گلگلت بلتستان کو ملا کر ایک ریاست قائم کی جائے گی جس کی باگ ڈور سکھوں اور قادیانیوں کے ہاتھ میں دی جائے گی، اس ریاست پر دونوں مذاہب کا مشترکہ حق ہو گا یعنی اگر وزیر اعظم قادیانی ہے تو صدر سکھ ہو گا اور صدر سکھ ہے تو وزیر اعظم قادیانی ہوگا”

اب ایک نظر ڈالتے ہیں قادیانیوں اور سکھوں کے گٹھ جوڑ پر… پاکستان میں کئی ایسی کانفرنسیں ہو چکی ہیں جو اس بات کا اعلانیہ ثبوت ہیں کہ یہ دونوں مذہب ایک دوسرے کے کتنے قریب ہو چکے ہیں…. “نوجوت سنگھ سدھو” جو کہ اس وقت سکھ سوسائٹی اور تحریک خالصتان کے سرکردہ رہنما ہیں نے “مرزا قادیانی ملعون” کے مناقب میں قادیانی سربراہوں کی محفل میں جا کر بیان کیے اور “مرزا قادیانی” کو سچا نبی کہا….اب پاکستان میں اس مقصد کو کامیاب بنانے کی تیاری کسی سے ڈھکی چھپی نہیں… بہت سے ایسے کام ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ موجودہ حکومت کس کی خوشنودی اور کیا کرنے کےلیے لائی گئی ہے مثلاً

1) قادیانی سربارہ “مرزا مسرور” کا یہ کہنا کہ “عمران نے ہمیں کہا کہ ہمیں ووٹ دیں ہم آپ کو آپ کا حق دلائیں گے” کون سا حق؟؟؟
2) “مہدی فاؤنڈیشن” کے رہنما “یونس الگوھر” کا کہنا کہ عمران خان پاکستان میں ہمارے لیے کک سٹارٹ کے طور پر ہیں…. “یونس الگوھر وہی ہے جس نے کہا کہ ہم بیت اللہ کو نہیں مانتے اور بہت سی خرافات بکیں جو قلم درج کرنے سے قاصر ہے”
3) پی ٹی آئی کے جلسوں میں “یونس الگوھر” کے پلے کارڈز اور بینر لہرانا…. پینا فلیکس اور پوسٹر لگانا….
4) آسیہ ملعونہ کو رہا کرنا، اور عالمی میڈیا پر عمران خان کا کریڈٹ لینا….
5) عبدالشکور قادیانی کی رہائی اور ٹرمپ سے شکایت، اگر اس نے غلط کیا تو حکومت کا نوٹس نہ لینا….
6) سکولوں سے قرآنی تعلیم کو ختم کرنے کےلیے نوٹس جاری کرنا….
7) وفاقی وزیر فواد چودھری کا سینما گھر بنانے کا عندیہ دینا اور کہنا کہ ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا جائے…
😎 کشمیر کی انتہائی نازک صورتحال، ایل او سی پر کشیدہ حالات کو پس پشت ڈال کر کرتار پور بارڈر کا افتتاح کرنا، اور ستم یہ کہ بجائے سکھوں کے تمام مذاہب کو آنے کی اجازت دینا اور شناخت کی شرط بھی اٹھا لینا…
اور کبھی نقشہ دیکھنے کا اتفاق ہوا تو دیکھیے گا کہ کرتار پور بارڈر کا لنک قادیان سے جڑتا ہے یا نہیں…..

ان تمام باتوں سے کیا ثابت ہوتا ہے؟؟ موجودہ حکومت پاکستان کی خیر خواہ ہے؟؟ کبھی نہیں میرے دوستو کبھی نہیں…. یہ لوگ ہمیں دوبارہ غلامی میں دھکیلنا چاہتے ہیں…میں پی ٹی آئی کے دوستوں کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے ہوش کے ناخن لیں….. ایسا نہ ہو کہ بہت دیر ہو جائے…. خدانخواستہ اگر برا وقت آیا تو صرف مذہبی طبقے اور مولویوں پر نہیں آئے گا بلکہ ہر کلمہ گو مسلمان مرد و عورت حتی کے بچوں پر بھی آئے گا….

کیا آپ نے عراق، فلسطین، لیبیا، شام کے ممالک نہیں دیکھے ؟؟ وہاں اگر بم بلاسٹ ہوتا ہے تو کٹنے والی ٹانگ پر شلوار نہیں جینز ہوتی ہے، دھڑ سے الگ ہونے والے سر پر اسلامی نہیں انگریزی طرز کے بال ہوتے ہیں، جسم پر قمیض نہیں شرٹ اور گلے میں ٹائی ہوتی ہے…. میڈیا پر رونے والے نوجوان مکمل مغربی لباس میں ملبوس نظر آتے ہیں، عزت و آبرو لٹنے پر چیخیں مارنے والی ہماری مائیں بہنیوں کا لباس بھی مکمل مغربی ہوتا ہے… جب سب لوگون نے ان کی طرزیں اپنائی ہوئی ہیں تو پھر اتنا ظلم کیوں ان پر؟؟یہود و نصاری کو اس بات سے قطعا مطلب نہیں کہ کون اسلام پسند ہے کون لبرل اور روشن خیال ہے ان کا مقصد کلمے کو مٹانا ہے اور کلمہ ہم سب نے ایک ہی پڑھا ہے “لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ ”

نوٹ: اگر آپ کو کسی بات سے اختلاف ہے تو اخلاق کا دائرہ کار استعمال کر کے ضرور کریں…
اور پی ٹی آئی کے دوستوں کو مینشن کرنا نہ بھولیں یہ ایک اختلافی تحریر ہرگز نہیں محض “دعوت فکر ہے”

اپنا تبصرہ بھیجیں