وزیراعظم آزادکشمیرکےخلاف توہین عدالت کی درخواست دیدی گئی

مظفرآباد(سٹاف رپورٹر)وزیر اعظم آزادکشمیر فاروق حیدرخان کے خلاف توہین عدالت کی درخواست دائر کردی گئی۔25اکتوبر 2019کو وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان نے مظفرآباد بار میں خطاب کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ کو کہا کہ حدود میں رہ کر کام کرے بصورت دیگر سابق چیف جسٹس ریاض اختر چوہدری کی طرح گھر بھیجنے کی دھمکی دی تھی جس پر سابق ایڈمنسٹریٹر بلدیہ راولاکوٹ سردار ارشد نیازی نے گزشتہ روز سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔

سردار ارشد نیازی سابق ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن راولاکوٹ نے مظفرآباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 26اکتوبر کے اخبارات میں جو خبر شائع ہوئی اس کے مطابق جناب وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ ججز اپنی حدود میں رہ کر کام کریں کسی ممبر اسمبلی کو نااہل کرنے کا اختیار انہیں حاصل نہیں ہے۔ سابق دور میں ریاض اختر چوہدری کو بھی اسی لئے گھر بھیجا تھا۔

سردار ارشد نیازی نے کہا کہ اس طرح وزیر اعظم نے عدلیہ کے معزز جج صاحبان کو دھمکایا اورعدالت کی توہین کی جس پر 27اکتوبر 2019کو غازی ملت پریس کلب راولاکوٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میں نے چیف جسٹس کو استدعا کی تھی کہ وہ وزیر اعظم کے بیان پر ازخود نوٹس لیں،گذشتہ روز سردار ارشد نیازی نے بذریعہ کونسل سردار سلیمان خان ایڈووکیٹ وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان کے خلاف سپریم کورٹ میں رٹ دائر کی۔

اپنی رٹ میں انہوں نے سابق وزیر حکومت چوہدری محمد سعید کے خلاف سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے استدعا کی ہے کہ سپریم کورٹ نے چوہدری سعید کیس میں توہین عدالت کی جو تشریح کی ہے وزیر اعظم آزادکشمیر نے اس کی روشنی میں بھی توہین عدالت کی ہے لہذا انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی طاقتور عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش نہ کرے انہوں نے کہا اس رٹ سے جہاں قانون کا بول بالا ہو گا وہاں عدلیہ کے وقار میں بھی اضافہ ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں