عمران خان کیوں بزدل ہوئے؟

نقطہ نظر : ابرار صغیر

سیاست بڑا منفرد کھیل۔ ہے یہ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کرکٹ ٹیم کی طرح کئی ٹیمیں ہوتی ہیں اور کئی کھلاڑی ہوتے ہیں  ،جیتتاکوئی ایک ہےسیاست میں جیتنے والے کو ہارنے والے سے مبارک باد نہیں ملتی بلکہ جیتنے والے سے نفرت کی جاتی ہے اور جو جیت جائے وہ ہارنے والے سے انتقامی جنگ لڑتا ہے اور پھر ایک ایسا بھی وقت آتا ہے جب ہارنے والا ایک مضبوط قوت بن کر ابھرتا ہے جو کہ  جیتنے والے  کے لیے پریشانی کا سبب بنتی ہے اور جیتنے والا  گھبراتا ہے۔

جب ایک پارٹی حکومت میں ہو اور اس کے خلاف کوئی دوسری پارٹیاں کھڑی ہو جائیں جنہیں سیاسی زبان میں اپوزیشن کہتے ہیں جب اپوزیشن مضبوط ہوتی ہے تب حکومت اس سےخوف کھاتی  ہے، پھر اپوزیشن کی تمام تر سرگرمیوں پر پابندی لگا دی جاتی ہے اس کے کارکنوں کو نظر بند کرنا اور حکومتی وسائل کے ذریعے ان کے ہر اقدام کوروکا جاتا ہے۔

اسی طرح کا مقابلہ ہمیں پچھلے دو الیکشن اور دورِ حکومت میں دیکھنے کو ملا، عمران خان بمقابلہ نوازشریف جس میں نواز شریف کا دورِ حکومت تھا اور خان صاحب اپوزیشن کو لیڈ کر رہے تھے ۔اس راونڈ میں عمران خان کی پوزیشن مضبوط تھی اور نواز شریف خان صاحب سے خوف کھا رہے تھے پھر عمران خان کی  پارٹی کی تمام تر سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگا دی گئی ۔ ٹی وی پر ان کی  سرگرمیاں نشر کرنا بند کر دی گئیں  مگر عمران خان تب تک اپنا پاور شو دکھا چکے تھے ،ان کو روکنا ناممکن سا ہو گیا تھا اس وقت نواز شریف کی حکومت نے اپنا اور اپنی پارٹی کا بھرم رکھنے کے لیے عمران خان پر تمام پابندیاں بھی ختم کیں، پھر ان کو سہولت بھی فراہم کی ۔اب یہ صرف بھرم رکھنا تھا یا عمران خان کا خوف تھا یہ نواز شریف اور ان کی حکومت ہی بہتر بتا سکتی ہے۔

نواز شریف   نے اپوزیشن کو سہولت دے کر اپنے پاؤں پر خود  کلہاڑی ماری اور نواز شریف کو اپنی حکومت سے ہاتھ دھونا پڑا ۔یہ وہ وقت تھا جب عمران خان اپوزیشن میں رہ کر ایک طاقت ور سیاسی لیڈر کے طور پر ابھرے اور نواز شریف کی حکومت کا تختہ پلٹ کر رکھ دیا ،مگر اب کی بار بازی پلٹ گئی ہے۔ اب کی بار حکومت ان کی ہے جو کبھی اپوزیشن میں تھے ۔

عمران حکومت پُر سکون ماحول میں اپنا کام کر رہی تھی سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا، کہ  اس حکومت کے خلاف بھی ایک آپشنائزیشن پارٹی کھڑی ہو گئی  اب اس کو مکافات عمل  کہیں یا پھر سیاسی جنگ۔۔ یہ ایک الگ بحث ہے، مگر اب خان صاحب کو بھی آپشنائزیشن کا سامنا ہے جس کو لیڈ مولانا فضل الرحمان کر رہے ہیں ۔

جب عمران خان اپوزیشن میں تھے ایک طاقت بن کر ابھرے تھے مگر حکومت میں آتے ہی بزدل روح ان میں بھی حلول  کر گئی، اب یہ سب پابندیاں مولانا پہ لگا رہے ہیں جو ان پر کبھی نواز شریف نے  لگائی تھیں ، اب یہاں پر کئی سوال جنم لیتے ہیں۔

آخر کیا  وجہ ہے کہ جو آپشائزیشن  پارٹی میں رہ کر ایک وزیراعظیم کو ہٹا سکتی ہے وہ اپنے خلاف اٹھنے والی آواز کو برداشت کرنے کی ہمت کیوں نہیں رکھتی  ؟ آخر کیا  وجہ ہے کہ اس حکومت میں اپنے خلاف بننے والی آپشنائزیشن کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں حالانکہ کبھی وہ خود اپوزیشن میں ہوا کرتے  تھے ،

سوال یہ ہے کیا مولانا عمران خان کی حکومت گرانے میں کامیاب ہو جائیں گے ؟کیا  یہ دھرنا بھی ایک حاضر سروس وزیراعظیم سے استعفٰی  لے پائے گا؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ  کیا یہ دھرنا ملکی مفاد میں ہو رہا یا پھر اپنے اقتدار کی بھوک میں  کیا جا رہا؟

  سوال یہ ہے کہ آخر پاکستان کی سیاست کا مستقبل کیا نظر آ تا  ہے؟۔۔ کیا آنے والی سب حکومتوں کو اب دھرنوں کا سامنا کرنا پڑے گا آخر کب تک عوام کو حکومت اور اپوزیشن دونوں کو ایک ساتھ برداشت کرنا پڑے گا ؟۔کیا مستقبل میں  کوئی حکومت اس ملک کے لیے کسی پارٹی کو کام کرنے دے گی یا سیاسی مقابلے ہی کیے جائیں گے  پچھلے ستر سال سے جمہوریت سیاسی مقابلے ہی کرتی آ رہی ہے کوئی الیکشن میں ملک کے لیے نہیں کھڑا ہوا ،سب جیت ہار اور کرسی کے لیے کھڑے ہوتے ہیں  ،اگر سڑکوں پر نکلنے سے مسئلے حل ہوتے ہیں تو پھر کس بات کی اسمبلی، کس بات کے الیکشن، کس بات کی حکومتیں، سب کچھ سڑکوں پر حل ہو جاتاہے تو ان سب اداروں کی سب پارٹیوں کی ضرورت نہیں ،اگر اس ملک کا بھلا چاہتے ہیں سب تو پھر  ہلیتی اس ملک کو سب سے زیادہ نقصان سیاسی جنگوں نے پہنچایا  ہے جس  کا  خمیازہ ہم اب تک  بھگت رہے   ہیں ، اور نجانے کب تک  بھگتے  رہیں گےپاکستانی گورنمنٹ اور سیاست کا کوئی مستقبل نظر نہیں آتا  کیوں یہاں سب کرسی کے لیے آتے ہیں، عوام کے لیے کوئی نہیں آتا؟

اپنا تبصرہ بھیجیں