اینکر پرسن عمران خان نے انقلاب کے لیے مولانا فضل الرحمان، نواز شریف اور آصف زرداری کا کندھا استعمال کر نے والوں کو بے نقاب کر دیا گیا

اسلام آباد( مانیٹرنگ ڈیسک) سینئر اینکر پرسن عمران خان کا کہنا ہے کہ میں یہ سوچتا ہوں جب اللہ تعالیٰ امیدیں توڑتا ہے تو پھر کیا ہوتا ہے، ہمارے ہاں بہت سارے دوستوں کو یہ امید تھی کہ نواز شریف کے اندر سے انقلا ب نکلے گا، یہ ایک انقلابی رہنماء ہے اوریہ لڑنا سیکھ چکا ہے، کبھی ہار نہیں مانے گا، یہ کبھی باہر نہیں جائے گا۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اگست میں ہی خبر دے چکا ہوں-

جب نواز شریف بالکل ٹھیک تھے، میں نے کہہ دیا تھا کہ پہلے نواز شریف کی ضمانت ہوگی پھر مریم نواز کی بھی ضمانت ہوجائے گی، اس وقت میں نے یہ کہا تھا کہ پہلے نواز شریف بیرون ملک روانہ ہونگے پھر مریم نواز بھی باہر چلی جائیں گی، ابھی بھی ایس اہی ہوگا، یہ ایک خواہش تھی شریف فیملی کی کہ ہماری کسی طرح جان چھوٹے اور ہم باہہر روانہ ہوجائیں، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ کوئی ڈیل ہوئی ہے، میں یہ نہیں کہہ رہا کہ نواز شریف کی بیماری جھوٹ ہے-

انکی جان کو واقعی خطرہ ہے، میں وہ باتیں نہیں کر رہا جو افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، میں تو سادی سادی بات کررہا ہوں، میں وہ بات کر رہا ہوں جو سب کو معلوم ہے، سب جانتے تھے کہ کن تلوں سے تیل نکلے گا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ جس کو اس ملک میں انقلاب لانے کا شوق ہے، جس کو اس ملک کے ادروں سے لڑنے کا شوق ہے، جو اس ملک میں حقیقی جمہوریت لانا چاہتا ہے، اس کو چاہیئے کہ وہ خود لڑے اور دوسروں کے کاندھے استعمال نہ کرے-

وہ کبھی مولانا کے کنٹینر پر چڑھ جاتا ہے جا کر، کبھی نواز شریف کے پیچھے چھپپ کر انقلاب ڈھونڈتاہے، کبھی آصف زرداری اس کو بہت بلند قد کے لیڈر نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں، ایسا کچھ نہیں ہونے والا ، ایسا تب ہی ہوگا جسکی خواہش ہے قربانی بھی وہ دے، ممکن ہی نہیں ہے کہ آپ کے لیے قربانی کوئی اور دے، وہ ڈیل کر کے باہر روانہ ہوجائیں گے، جس جس کو موقع ملے گا، جب جب موقع ملے گا وہ باہر روانہ ہوجائے گا-

نواز شریف بہت بیمار ہیں اس چیز میں کوئی شک نہیں ہے، جب آ کسی چیز کو بہت زیادہ چاہتے ہیں تو پھر قدرت بھی آپ کو اس چیز سے ملا دیتی ہے، سلیم صافی اگر یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ ملک کوئی اور چلا رہا ہے تو پھر یہ بھی جانتے ہونگے کہ پہلے کیا ہوا تھا؟ ستمبر، اکتوبر، نومبر میں کیا ہوا تھا؟ کیا طے ہوا تھا؟ سلیم صافی اتنے باخبر نہیں ہوسکتے، میں اس پروگرام میں ثابت کر سکتا ہوں کہ نواز شریف کو کوئی این آر او نہیں دیا گیا-

عمران خان کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے، نواز شریف کو ریلیف انسانی بنیادوں پر ہی دیا گیا ہے، این آر او کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ سے کوئی منی ٹریل نہیں مانگی جائے گی، آپ کے کیسز ختم ہیوجائیں گے، آپ کو عدالتوں کو سامنا نہیں کرنا پڑے گا، آپ کی فیملی سیاست میں حصہ لے سکے گی، اس میں سے کوئی بھی چھوٹ نواز شریف کو نہیں دی گئی، اس لیے ڈیل اور این آر او کی باتیں بے بنیاد ہیں، یہ محض پراپیگنڈا ہے جو حکومت اور شریف فیملی کے خلاف کیا جارہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں