Reham Khan

عمران خان میں ہمت ہے تو سامنے آئے، ریحام خان نے وزیر اعظم کو نیا مگر حیران کُن چیلنج کر دیا

لندن( مانیٹرنگ ڈیسک) ریحام خان کا کہنا ہے کہ اگر میرے پاس شیخ رشید، پارٹی، کامران شاہد یا فلموں میں کام کرنے والے لوگوں کی بھرمار ہوتی تو پھر شاید مجھے بھی عمران خان کے خلاف بات کرنے کی ضرورت نہ پڑتی، ممیرے پاس لوگوں کا فقدان ہے اس لیے میں خود عمران خان کے خلاف باتیں کرتی ہوں۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے خلاف کیس جیتنے پر میڈیا رپورٹر نے ریحام خان نے سوال کیا کہ آپ ہمیشہ عمران خان پر الزامات لگاتی رہتی ہیں-

آپ ان کی دوسری بیوی رہ چکی ہیں جبکہ عمران خان کو کبھی نہیں دیکھا گیا کہ وہ آپ کے خلاف کوئی بات کرتے ہوں یا پھر کوئی الزام لگاتے ہوں۔ رپورٹر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ ’’ اگر میرے پاس شیخ رشید ہوتے ، یا کامران شاہد ہوتے یا کوئی مزید گانے والے ہوتے ، فلموں میں کام کرنے والے ہوتے ،پوری پارٹی اور وزرا ہوتے تو مجھے بھی کوئی ضرورت نہیں تھی –

میں بھی اُن کو ایک واٹس ایپ میسج کرتی اور کہتی کہ میں خاموش رہتی ہوں آپ اٹیک کریں، کوئی بھی اتنا بے وقوف اور احمق نہیں ہے، میرے پاس کوئی ایسا عہدہ نہیں ہے ، نہ تو میں پارٹی کی لیڈر ہوں، نہ میرے پاس سوشل میڈیا کے پیڈ ونگز ہیں ، نہ میرے پاس کینیڈا میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، نہ میرے پاس سنگا پور میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں، نہ میرے پاس کابینہ میں لوگ بیٹھے ہوئے ہیں،نہ میرے پاس ایسے درباری لوگ بیٹھے ہوئے ہیں جو میرے کہنے پر اٹیک کریں، ہم صرف نام کے خان نہیں ہیں بلکہ ہمارا نسلی خاندان ہے –

ہم خان ہیں، میں پیدائشی خان ہوں، میں سواتی ہوں اور ہم پیٹھ میں خنجر نہیں گھونپتے، ہم سامنے آ کر وار کرتے ہیں، میں نے جو کام کیا اُس کے لیے میں نے قانونی راستہ اختیار کیا ، اگر عمران خان میں اتنا دم ہوتا تو وہ خود بولتے، مجھ میں اتنا دم ہے کہ میں سچ پر کھڑی ہوئی ہوں، اسی لیے میں بولی ہوں۔ میں نے صرف ایک جرأت کی ہے کہ میں ان کے خلاف اُٹھ کھڑی ہوئی ہوں،مجھے خواتین اینکرز کے فون آ رہے ہیں اور وہ کہہ رہی ہیں کہ ہم تو کچھ بول ہی نہیں سکتے۔

ہم نہ تو کوئی ڈیمو کریٹک بات کر سکتے ہیں اور نہ ہی آزادی مارچ پر کوئی بات کر سکتے ہیں،ہمیں فونز آتے ہیں، اگر ہم ٹویٹر کو رپورٹ کرتے ہیں تو ہمیں دھمکیاں موصول ہوتی ہیں ‘‘۔

اپنا تبصرہ بھیجیں