نقطہ نظر/راجہ عابد علی عابد

دھرنے کا اختتام

مولانا فضل الرحمان صاحب نے اپنے دھرنے کو پر امن طریقے سے ختم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اب پلان بی کے تحت اپنی سرگرمیوں کو آگے بڑھائیں.
دھرنے کو پلان بی کی شکل میں تبدیل کرنے کے اعلان کے بعد دھرنہ مخالفین کی جان میں جان آئی ہےاور خوشی کے شادیانے بجا رہے ہیں.یقیننا ان کا حق بھی ہے.ان کے نزدیک دھرنہ ناکام ہو گیا ہے اور مولانا فضل الرحمان کی سیاست کا خاتمہ ہو رہا ہے. دھرنہ ختم ہونے پر خوشی کے شادیانے بجانے والوں کو شاید یہ علم نہیں کہ جو احتجاج صرف کشمیر ہائے وئے پر جاری تھا وہ اب ملک گیر شروع ہونے جا رہا ہے اور اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے.

میں ذاتی طور پر مولانا فضل الرحمان صاحب کے دھرنے کو پر امن پلان بی کی طرف منتقل کرنے کے فیصلے کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں.اسلام آباد کی سڑکوں پر وہ سب کچھ ہو سکتا تھا جو مولانا چاہتے لیکن مولانا فضل کی سب پہلی کامیابی تو یہ ہے کہ ان نے نہ صرف اپنے لوگوں کو پر امن رکھا بلکہ انتہائی منظم بھی رکھا. پاکستان کے طول وعرض کے دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے (بقول سقراطیوں کے شعور سے عاری.نیم خواندہ ) لوگوں نے اپنے بارے میں قائم تاثر کو ختم کر کے اپنے آپ کو مہذب، شائستہ، سلیقہ شعار اور محب وطن ثابت کیا ہے دنیا نے ان کے انداز کی تعریف کی ہے.

مولانا کی دوسری کامیابی یہ ہے ان نے اپنی عوامی طاقت کاکھل کراظہار بھی کیا اور اپنی طاقت کو کسی آزمائش کا شکار کرنے کے بجائے اس کو بچا ئے بھی رکھا. نہ ان نے پارلیمنٹ پر حملہ کروایا.نہ عدلیہ کی دیواروں پر کپڑے سوکھائے نہ ٹی وی سٹیشن کے سوئچ آف کیے. بلکہ اس سب کے بغیر ہی وہ سب مقاصد حاصل کیے جو ضروری تھے. مولانا کی ایک بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ ان نے اپنے آپ کو پاکستان کی سیاست کا مرکز ومحور بنا دیا. پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ نے سول سپر میسی کی اس جنگ کے دوران اس اہم موقع پر عوام میں کوئی ا چھا تاثر نہیں چھوڑا. جبکہ مولانا کی سیاست نے لوگوں کو ان کے قریب لایا ہے.وہ ایک مولوی کے بجائے ایک سیاسی رہنماء کے طور پر سامنے آئے ہیں. عوام نے ان سے اپنی امیدیں وابستہ کی ہیں.

مولانا کی یہ بھی یقیننا ایک بڑی کامیابی ہے کہ وہ ملک کے بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو بھی اپنی باہوں میں سمیٹنے میں کامیاب ہوئے ہیں جن کے ساتھ نظریاتی اعتبار سے دور کا بھی واسطہ نہیں. ایسے لوگ کہ جن کا مذہبی سیاست سے دور کا بھی واسطہ نہیں لبرل ازم کا پرچار کرنے والے وہ لوگ جو ہمیشہ ناقد رہے بائیں بازو کی سیاست کرنے والی جماعت پیپلز پارٹی کے بجائے مولانا کی پشت پر آ کر کھڑے ہو گیے ہیں. مولانا نے کمال حکمت عملی سے ان لوگوں کو کہ جو سوال پو چھتے تھے ان کو جواب دینے پر مجبور کیا اور انھیں اپنی وہ چھتری بند کرنی پڑی جس کا سایہ اس حکومت کے اوپر تھا اور اس ستون کو بھی کو بھی کمزور کر دیا ہے-

جس کے اوپر اس حکومت کا سہارا تھا. یہی وجہ ہے کہ عمران خان سے لیکر شیخ رشید تک حکومت کے لب و لہجے میں انتہائی نرمی آئی ہے. مولانا کی بڑی کامیابی یہ بھی ہے کہ ان نے حکومت کی فراغت کے لیے سیاسی اور تحریکی طریقہ اختیار کیا. اگر وہ چاہتے تو کارکنوں کو ڈی چوک پر لے جا کر ارباب اختیار کے لیے مسئلہ پیدا کرسکتے تھے اور حکومت کا کام تمام کر سکتے تھے لیکن یہ عمل ان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ منفی عمل کے طور پر شمار کیا جاتا. وہ ہمیشہ آئین اور قانون کی بات کرتے رہے.ایسے عمل سے ان کے اس بیانیہ پر حرف آتا. لیکن ان نے ایسے کسی عمل سے اپنے دامن کو ہمیشہ کے لیے داغدار ہونے سے بچا کر سیاستدانوں کے لیے راہ کا تعین کر دیا ہے.

مولانا کی ایک کامیابی یہ بھی ہے کہ ان نے ان قوتوں کو جو ماضی میں دھر نوں کے سکرپٹ لکھتی تھیں پیغام دیا ہے کہ آیندہ منتخب عوامی حکومتوں کو پلانٹڈ جتھوں کے دھرنوں سے کمزور کرنے کی کوشش کی گئی تو ان طاقتوں کے مہروں کوبھی عوامی طاقت سے اٹھا کر باہر پھینکا جا سکتا ہے. مولانا نے خوبصورت کھیل کھیلا ہے . عمران خان کے عشق میں پاگل بعض جنونیوں اور کچھ اور قابل رحم لوگوں کو چھوڑ کر پاکستان کا سنجیدہ طبقہ مولانا کے فیصلے کو خوش آئند قرار دیتا ہے اور اس کی مکمل حمایت کرتا ہے. اس دھرنے کے نتائج جلد عوام کے سامنے آنا شروع ہو جائیں گے کہ جب بغلیں بجانے والے منہ چھپا تے پھریں گے.

اپنا تبصرہ بھیجیں