پلان بی پر عمل درآمد شروع، انڈس ہائی وے بند

بنوں(نیوزڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی ف) جے یو آئی کے کارکنوں نے انڈس ہائی وے کو ٹریفک کے لئے بند کردیا۔ذرائع کے مطابق رہبر کمیٹی کے سربراہ اکرم خان درانی احتجاج اور دھرنے کی قیادت کریں گے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کے کارکنوں کا قافلہ انڈس ہائی وے کی طرف جا رہا ہے، ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے استعفی تک احتجاج اور دھرنا جاری رہے گا۔

دوسری جانب جے یو آئی ف کے ضلعی جنرل سیکرٹری مفتی حاکم علی حقانی نے اعلان کیا ہے کہ نوشہرہ کے علاقے حکیم آباد میں جی ٹی روڈ کو بند کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق اس وقت جی ٹی روڈ پر معمول کے مطابق ٹریفک کی آمد ورفت جاری ہے۔

جے یو آئی ضلعی جنرل سیکرٹری کے مطابق نوشہرہ کے مقام پر دس بجے جی ٹی روڈ کو بند کر دیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ نوشہرہ کے مختلف مقامات پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں آزادی مارچ ختم کرنے کا اعلان کر دیا
واضح رہے گزشتہ روز جمیعت علمائے اسلام ف کے صوبائی امیروں نے ملک بھر میں شاہراہوں کو بند کرنے سے متعلق لائحہ عمل کا اعلان کیا تھا۔گھوٹکی سے پنجاب داخل ہونے والی شاہراہ بھی بند کردی جائے گی۔ آج دوپہر 2 بجے کراچی کے 6 اضلاع سمیت حب ریور روڈ کو بند کریں گے ۔

اگلے مرحلے میں تافتان سے لکپاس تک، جیکب آباد تا سبی کوِئئٹہ تک بھی شاہراہیں بند کردی جائیں گی ۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی خان سے لورآلائی تک، ژوب سے زیارت کوئٹہ تک تمام قومی شاہراہوں کوبھی مرحلہ وار بند کردیا جائے گا ۔یاد رہے گزشتہ روز جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں جاری آزادی مارچ کا دھرنا ختم کرنے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے آزادی مارچ سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج ہی ہم یہاں سے روانہ ہوں گے پلان اے نے حکومت کی جڑیں کاٹ دی ہیں اور اب ہم گرتی ہوئی دیوار کو ایک دھکا اور دیں گے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جو کارکنان آزادی مارچ میں شریک نہیں ہو سکے وہ اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں اور پلان بی پر عملدرآمد شروع کر دیں۔ ہم اس محاذ سے اگلے محاذ پر جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار نہیں ہے۔ اس حکومت کو نہ کوئی ٹیکس دیتا ہے اور نہ ہی عالمی برادری اعتماد کر رہی ہے۔

سربراہ جے یو آئی نے کہا کہ کچھ صوبوں میں ہمارے ساتھی سڑکوں پر نکل آئے ہیں۔ اب حکومت گھر جائے، وزیر اعظم کے استعفیٰ اور عام انتخابات سے کم کچھ قبول نہیں ہے۔ ہم شہروں میں نہیں بلکہ شاہراہوں پر بیٹھیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ریاست ہمارے جوانوں کو نہ روکے، احتجاج ہمارا حق ہے اور اگر ہمیں ایک جگہ سے روکا گیا تو ہم دوسری جگہ پر احتجاج کریں گے اب کوئی مائی کا لال ہمیں نہیں روک سکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں