نقطہ نظر/عفت حسین رضوی

تلخ یادیں مٹانی ہیں‌تو ویڈیوز ڈیلیٹ کردینا

میں سوچتی ہوں کہ ہم خواہ مخواہ ہی خود کو وحشت زدہ کیے دیتے ہیں جبکہ بحیثیت قوم ہمارے پاس اتنا اچھا اور آسان حل موجود ہے۔ وہی جسے تم مذاق سمجھتے ہو یعنی ’دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا۔‘

نہ کسی یاد ماضی پر شرمندگی کا خطرہ، نہ کسی یوٹرن پہ خجالت کا سامنا، نہ کسی المناک سانحے کی برسی پر جوابدہی کا خوف اور نہ ہی خون آلود یادوں کے سائے میں اپنا آج آلودہ کرنے کی رسم۔

کشمیر کو یوں تو غلامی کی زنجیروں میں جکڑے پونے سو سال ہوگئے ہیں، لیکن مودی کی سفاکیت سہتے ابھی سو دن ہی گزرے ہیں کہ تم منہ چھپائے جھینپے جھینپے سے پھرتے ہو، کشمیر کی آزادی کے لیے تمھارے دعوے وعدے وہ درد ناک ترانے وہ ڈرامہ سیریلز وہ سرکاری تقریبات میں کشمیر پہ ٹیبلو سب تمھارا منہ چڑا رہے ہیں۔

تم کشمیر کی ماں بہن بیٹیوں کی اپنی چادر پھیلائے دہائی دیتی تمام ہی تصویریں دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا، تم چنار کے درختوں کے نیچے فلمائے گئے کشمیری آزادی کے ترانے بھی دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا، تم کشمیر کاز کی مد میں سرکاری خرچ سے بننے والی ساری پروپیگینڈا فلمیں ڈرامے بھی ڈیلیٹ کر دینا کیونکہ اب انہیں پاس رکھنا بے وجہ زخم کریدنے جیسا ہے۔ مجھے اسی لیے مشرقی پاکستان کی ونٹیج ویڈیوز اچھی نہیں لگتیں۔

کتنی ہی ایسی ویڈیوز ہیں جو ہماری قومی یکجہتی کو پارہ پارہ کیے دیتی ہیں، تم سمجھتے ہو کہ ایسی ویڈیو بھونچال لے آئے گی جو دنیا نے دیکھ لیا کہ کیسے بندوق نے نہتے انسان کی جان پھونک دی، تم غلط سمجھتے ہو۔

برسوں پرانی بات ہے، کراچی کے پارک میں دو زانو جھکے اس زخمی نوجوان کی ویڈیو تو یاد ہوگی، جو ہاتھ جوڑ کر بندوق والے سے جان کی امان مانگ رہا تھا۔ انٹرنیٹ کے کسی کونے میں اس بے وجہ مارے گئے نوجوان کی وہ ویڈیو آج بھی سرخی بکھیر رہی ہوگی، تمھیں کہیں نظر آئے تو دیکھتے ہی ڈیلیٹ کر دینا، کیونکہ ماورائے عدالت قتل کے قانون کی چادر میں لپٹا یہ معزز لفظ اب بھی مستعمل ہے، ویڈیو بنے نہ بنے ایسے واقعات ہونا بند نہیں ہوئے۔

سرخ تو کوئٹہ کے قریب خروٹ آباد میں ریکارڈ کی گئی وہ ویڈیو بھی ہے جس میں بندوقوں کے حصار میں گھری اک چیچن عورت ہاتھ اٹھائے سرنڈر ہونے کی آخری کوشش کر رہی تھی۔ مجھے تفصیل بتانے کی ضرورت نہیں، تم بھی اسے یاد کر کے کیا پا سکو گے، سو جہاں کہیں بھی دیکھنا بہتر ہے اسے دیکھتے ہی ڈیلیٹ کر دینا۔

سیالکوٹ کے بھائیوں کا مشتعل ہجوم کے ہاتھوں بےرحمانہ قتل پورے کا پورا ویڈیوز کی شکل میں آج بھی محفوظ ہے۔ تم نے مشال خان کے قتل کی بھی ویڈیوز دیکھیں، وہ کوئی آخری قتل تو نہیں تھا نہ وہ آخری ویڈیو تھی۔ ایسے ہی سکول اور مدرسوں میں بچوں پر بہیمانہ تشدد اور جنسی تشدد کی ویڈیوز، سچ سچ بتاو اب تک ایسی کتنی ویڈیوز تم دیکھ چکے ہو، کوئی گنتی یاد ہے؟

ویڈیوز اگر کوئی ہنسنے مسکرانے کے لیے بنائے، کوئی پولیس اہلکار کیمرے کے سامنے گیت گنگنائے، کوئی خاتون سرکاری ملازم اپنی دوستوں کے ساتھ گپیں لگائے تو فوراً تادیبی کارروائی کی جھاڑو پھر جاتی ہے لیکن وہی کیمرا جو کسی طاقتور کی سرکاری دفتر میں رنگ رلیاں صاف صاف دکھائے، سر تا پاوں انصاف ہوتا دکھائے تو یہ کہہ کر جان چھڑا لی جاتی ہے کہ ویڈیوز ایک سازش ہے، جھوٹ ہے اور دیکھنے والوں کی نظر کا دھوکہ ہے۔

ان ویڈیوز سے نہ سسٹم کو فائدہ ہے، نہ یہ ظالم کے خلاف کافی شہادت بن پاتیں۔ یہ مظلوم کی آہ تو بنتی ہیں چیخ نہیں بن پاتی، یہ چیخ بن بھی جائے تو کسی سماجی تبدیلی کی بنا نہیں ڈال پاتی۔ پھر کیا فائدہ سوشل میڈیا کی رنگ برنگی دنیا کو پراگندہ کرنے کا؟ کیا یہ اچھا نہیں کہ سانحہ ساہیوال جیسی ویڈیوز کو دیکھ کر ڈیلیٹ کر دیا جائے۔

سولہ دسمبر آ رہا ہے پھر آرمی پبلک سکول کے بچوں کے خون میں لتھڑے کاپی پنسل اور یہاں وہاں بکھرے لہو میں رنگے جوتے، چشمے، لنچ باکس کی تصویریں ویڈیوز کسی ڈراؤنے خواب کی صورت سامنے آ کھڑی ہوں گی۔ میرا مشورہ مانو تم ان معصوم بچوں کی ہنستی مسکراتی پرانی تصویریں دیکھ لینا، سانحہ کی ہر تصویر ہر ویڈیو اب کی بار بغیر دیکھے ہی ڈیلیٹ کر دینا۔ میں تمھارے درد کے احساس کا جھوٹا دعویٰ تو نہیں کرتی ہاں مگر مارے نفرت کے مجھ سے طالبان رہنما احسان اللہ احسان کا انٹرویو کبھی دیکھا ہی نہیں گیا، تم بھی دل ہی دل میں کڑھنے کے بجائے ڈیلیٹ کر دینا کہ اس کے سوا ہم تم کچھ کر بھی نہیں سکتے۔

ان کم بخت ویڈیوز اور تصویروں نے اچھی آفت جوت رکھی ہے، ہم کوئی قومی سانحہ بھولنا چاہیں تو یہ ہر سال اسی تاریخ کو پھر سے سارا منظر سامنے گھما دیتی ہیں۔ ہم نئی ڈگر پر چلنا چاہیں تو یہ پرانے راستے بھولنے نہیں دیتیں۔ ہم کوئی قومی یوٹرن لینا چاہیں تو اگلے موڑ پہ یہ ویڈیوز اور تصویریں ہم پہ ہنسنے کو کھڑی ہوجاتی ہیں۔

پرانے وقتوں میں یادیں مٹانے کا ایک بندوبست یہ بھی ہوتا تھا کہ تصویریں جلا دی جاتی تھیں۔ ہم تم قوم کی اجتماعی بری یادوں کو جلا نہیں سکتے ہاں بھلانے کی کچھ دیگر تجاویز قابل عمل ہیں۔ مجھے تو اس سے بہتر کوئی علاج سمجھ نہیں آیا جیسے کہ تم ماڈل ٹاؤن آپریشن میں ناحق ماری جانے والی خواتین کی کلوز اپ تصاویر جہاں دیکھو وہیں ڈیلیٹ کر دو کیونکہ طاہرالقادری انقلاب کی چٹائی لپیٹ کر سیاست کو گڈ بائے کر چکے۔

ویڈیوز ڈیلیٹ کرنے کی بات چل نکلی ہے تو خاں صاحب کے چاہنے والوں کو مشورہ ہے وزیر اعظم کے ماضی میں فرمائے گئے اقوال زریں، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف تقریریں، آئی ایم ایف کے خلاف بیان، مہنگائی پہ استعفیٰ کے دعوے وغیرہ کی بیشمار ویڈیوز انٹرنیٹ کی زینت بنی رہتی ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ انہیں سرکاری طور پر ڈیلیٹ کرنے کا کوئی انتظام کیا جائے۔

تمہیں اگر مولانا کے دھرنے پہ اعتراض کرنے میں دقت پیش آ رہی ہو تو پہلے خان صاحب 126دن کے دھرنے کی ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر دینا پھر کھل کر مولانا کے لتے لینا۔ تم اگر این آر او کو طعنہ سمجھتے ہو تو پہلے پرویز مشرف کے مارشل لاء دور میں بنائی گئی میاں صاحب کی وہ ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر دینا جن میں وہ اور ان کا سامان جدہ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔ تمہیں بیمار میاں صاحب کا باہر جانا کھل رہا ہے تو پہلے کمر درد میں مبتلا سابق آمر مشرف کی ناچتی بل کھاتی ویڈیوز ڈیلیٹ کر دینا۔ تمہیں آج اگر ریاستی جبر کے خلاف پیپلز پارٹی کا موقف اچھا لگتا ہے تو پہلے نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے تحت کراچی میں ہونے والے فوجی آپریشنز کی بھی ساری ویڈیوز ڈیلیٹ کر دینا۔

اگر ان تصویروں اور ویڈیوز کو مٹا کر بھی تمھاری تسلی نہ ہو پائے تو تم بھٹو کی پھانسی کے پروانے، ہاتھ بندھی عدالت کے حکم نامے کو جو قانون کی پرانی کتابوں میں دیکھو، تو دیکھ لینا بلکہ غور سے پڑھ بھی لینا مگر پڑھ کر ڈیلیٹ کر دینا، کیا پتا کل تمھیں پانامہ کا حکم نامہ بھی ڈیلیٹ کرنے کی ضرورت پڑ جائے۔ تم آئین میں مذہبی آزادی کے خلاف ڈالی گئی شقوں کو مٹانے کی سکت نہیں رکھتے مگر جو ہو سکے تو اپنے دل میں اقلیتوں کے خلاف پیدا ہونے والے ہر دیوار کو ڈیلیٹ کر دینا۔

تم جو یہ سوچنا چاہو کہ سب اچھا ہے تو ن لیگ کی عدلیہ پر چڑھائی، تحریک انصاف کی پارلیمنٹ پر چڑھائی، ثاقب نثار کے چھاپے، مشرف کے مکے، لاہور کے جعلی پولیس مقابلے، دروغ گو مولویوں کے فتوے، وزیروں مشیروں کے اقامے، غیرملکی بینکوں میں اثاثے، ماڈل گرلز کے ویزے، لاپتہ افراد کے گھر کے پتے، متنازعہ فیصلے، پی ٹی وی پر حملے، کشمیر کی عوام کے مظاہرے، طاقتوروں کے آشیرباد ہونے والی زمینی قبضے اور دفاع وطن کے نام پر دیئے گئے دھوکے، تم ان جیسی تمام باتوں تمام وارداتوں کی ہر تصویر ہر ویڈیو ہر دستاویزی ثبوت کو جہاں ملے، ملتے ہی ڈیلیٹ کر دینا۔

تم اپنی تاریخ کے وہ تمام ہی پنے دیکھ کر ڈیلیٹ کر دینا جو تمھارے آج اور آنے والے کل کو سوائے وحشت، خالی پن اور اجاڑ کے کچھ نہیں دینے والے۔ ہاں مگر اتنا جان لو کہ تصویر لانے سے سچ بدل نہیں سکتا ۔ سچ کا سامنا کرنا مشکل ضرور ہے مگر یہ خود فریبی سے بہت بہتر ہے۔

بشکریہ انڈیپنڈنٹ

اپنا تبصرہ بھیجیں