پاکستان کے اہم ترین شہر میں اعلیٰ پولیس افسر کو شہید کر دیا گیا

پشاور (ویب ڈیسک) پشاور کے علاقے چمکنی میں پولیس کی فائرنگ سے ڈی ایس پی شہید اور ڈرائیور سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواکے علاقے چمکنی میں نامعلوم ملزمان نے پولیس کی گاڑی پر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی شہید ہوگئے۔پولیس حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں شہید ڈی ایس پی غنی خان کے محافظ اور ڈرائیور سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔

ریسکیو حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو قریبی ہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے جائے وقوع پر پہنچ کرعلاقے کو گھیرے میں لے لیا، علاقے میں سرچ آپریشن جاری ہے۔وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان نے چمکنی میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخوا کو تفتیش جلد مکمل کر کے رپورٹ دینے کی ہدایت کردی۔

محمود خان نے واقعے میں زخمی اہلکاروں کو بہترین طبی سہولتیں دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ شہید ڈی ایس پی کے لواحقین کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں پشاور کے علاقے حیات آباد فیز سیون میں دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر پولیس نے چھاپہ مارا اس دوران دہشت گردوں اور پولیس میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا تھا۔ فائرنگ کے تبادلے میں ایک اہلکار شہید جبکہ جوابی فائرنگ سے ایک دہشت گرد بھی مارا گیا تھا۔

ریسکیو حکام کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں زخمی ہونے والے اہلکاروں کو قریبی اسپتال منتقل کردیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی جا رہی ہے۔ فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھاری نفری نے جائے وقوع پر پہنچ کرعلاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ شہید ڈی ایس پی غنی خان کی نماز جنازہ پولیس لائن میں ادا کر دی گئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ نے شہید ڈی ایس پی کی میت پر سلامی دی-

پھول چڑھائے، چیف سیکرٹری، آئی جی پولیس نے بھی شہید کی میت پر پھول چڑھائے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے شہید کے درجات کی بلندی کے لیے دعا بھی کی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ محمود خان نے چمکنی میں ڈی ایس پی سی ٹی ڈی کے قتل کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی خیبرپختونخواہ کو تفتیش جلد مکمل کر کے رپورٹ دینے کی ہدایت کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں