بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے مبینہ ایجنٹ میاں بیوی گرفتار، یہ جوڑا کن سرگرمیوں میں ملوث تھا؟ جرمن میڈیا کا انکشاف

برلن (ویب ڈیسک) جرمنی میں بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے مبینہ ایجنٹس کا ٹرائل شروع ہوگیا۔ جرمنی میں‌ شہریوں کی جاسوسی کرنا سنگین جرم ہے جس کے بھارتی خفیہ ایجنسی را کے اہلکار اور اس کی بیوی مرتکب ہوئے ہیں، اس ٹرائیل میں را کے میاں بیوی ایجنٹ کے خلاف شواہد پیش کیے جارہے ہیں ۔ذرائع کے مطابق بھارتی خفیہ ایجنسی را 50 سالہ منموہن اور 51 سالہ کنول جيت پر جرمنی ميں سکھ اپوزيشن اور کشمیری علیحدگی پسندوں کی جاسوسی کا شبہ ہے۔

فرینکفرٹ کے ہائر ریجکورٹ میں ’را‘ کے مبینہ ایجنٹوں کیخلاف ٹرائل آج سے شروع کیا گیا ہے۔الزامات ثابت ہونے پر بھارتی جوڑے کو 10 سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ بھارتی شہری منموہن جرمنی میں بھارتی قونصلیٹ میں تعینات تھا جس نے 2015 ميں ’را‘ کے ليے جاسوسی شروع کی جبکہ اس کی اہلیہ کنول جيت نے جولائی 2017 سے یہ کام شروع کیا۔سکھ اپوزيشن اور کشمیری علیحدگی پسندوں کی معلومات کے بدلے میں انہیں ’را‘ سے تقریباً 8 ہزار امریکی ڈالر ملے۔

خیال رہے کہ جرمنی ميں شہریوں کی جاسوسی جاسوسی سنگين جرم ہے۔ جرمن میڈیا کا دعویٰ ہے کہ اگر اس جوڑے پر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو اس پر بھارتی جوڑے کو دس سال قيد کی سزا ہوسکتی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جاسوسی کے عوض یہ جوڑا رقم وصول کرتا تھا۔ را کے ان مبینہ ایجنٹوں پر رواں سال مارچ میں فرد جرم عائد کی گئی تھی۔ تاہم ان کے مکمل نام صیغہ راز میں رکھے جارہے ہیں اورمیڈیا کو صرف ان کے پہلے نام بتائے گئے ہیں۔

امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ بارہ دسمبر تک مقدمے کی سماعت مکمل کرلی جائیگی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں