تیمور قتل کیس میں نامزد پولیس اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور قتل کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے۔ شہزاد خورشید راٹھور

اسلام آباد(سٹیٹ ویوز)جموں کشمیر پبلک رائٹس پارٹی کے چئیرمین شہزاد خورشید راٹھور نے حویلی پولیس کے ہاتھوں مبینہ طور پر قتل کیے جانے والے نوجوان تیمور کی المناک موت کہا ہے کہ درندہ صفت پولیس اہلکاروں اور سرکاری ملازمین کو حویلی تعینات کیا جاتا ہے ۔تیمور کے قاتل پولیس اہلکاروں کو حکومت کی آشیر باد سے ابھی تک کھلا چھوڑا گیا ہے۔ قتل کی جوڈیشل انکوائری کرائے جائے۔

شہزاد راٹھور نے کہا کہ اس سے قبل فلموں اور ڈراموں میں دیکھتے آئے تھے کہ پولیس غریب و محنت کشوں کو جھوٹے کیسوں میں الجھاکر مال بناتی اور پیسہ بٹورتی تھی۔کبھی کبھار پولیس کے بےرحمانہ تشدد کی تاب نہ لا کر اگرکوئی مظلوم و بےبس قیدی ہلاک ہوجاتا تو اسے خودکشی قرار دیکر فائل داخل دفتر کر دی جاتی تھی۔ فلموں اور ناولوں میں جہاں ہماری معاشرتی برائیوں کی عکاسی ہوتی ہے وہیں ہمارے اداروں کے اندر موجود کالی بھیڑوں اور لوپ ہولز کی نشاندہی بھی ہوتی ہے۔

تھانہ حویلی کہوٹہ گزشتہ ایک عشرے سے اس قسم کی مجرمانہ سرگرمیوں کی آماجگاہ بنا ہوا تھا جہاں مال بنانے کیلئے پولیس کے چند کارندے شبانہ روز سرگرم رہتے تھے اور اس مقصد کیلئے وہ مختلف علاقوں میں چوری،ڈکیتی ،اغواء اور لڑائی جھگڑوں کی وارداتیں پلانٹ کرتے اور بعد ازاں اندھا دھند گرفتاریاں کر کے ان پر تھرڈ ڈگری کا بے تحاشا استعمال کرتے ہوئے ورثا سے پیسے بٹورتے اور نئے سے نئے شکار کی تلاش میں لگ جاتے تھے۔

پولیس کی اس کھلی دہشتگردی پر ہرشخص کا خون کھولتا لیکن سب کی زبان بند تھی یہ سلسلہ بعض راشی و کرپٹ آفیسرز و اہلکاروں کی ملی بھگت سے کامیابی کے ساتھ جاری تھا کہ اسی دوران تیمورحنیف ساکنہ نکر کو ایک چوری کے شبہ میں مبینہ طور پر گرفتار کرکے کہوٹہ تھانے لایا گیا جہاں اس پر تشدد کے تمام حربے آزمائے گئے اور پولیس اہلکار منشا راٹھور اور آفتاب راٹھور کے ذریعے تیمور کے گھر والوں کو ہراساں کرکے ان سےمختلف اوقات میں ہزاروں روپے ہتھیائے گئے۔

ورثا نے مال مویشی بیچ کر تیس ہزار کی رقم کانسٹیبل منشا کے حوالے کی لیکن اس کی مزید رقم کی ڈیمانڈ بڑھتی ہی چلی گئی جس میں شدت لانے کیلئے تیمور پر تشدد میں اضافہ ہوتا گیا۔۔۔ بالآخر بےقصورتیمور پولیس کے بہیمانہ تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے مورخہ 20-11-2019 کو داعئ اجل کو لبیک کہہ گیا۔

اگرچہ تیمور اپنی جان کی بازی ہار گیا لیکن تیمور کی موت سے تھانہ پولیس کہوٹہ کی عرصہ سے جاری گھناؤنی سرگرمیوں کا پردہ بری طرح سے فاش ہوگیا۔جس کے مطابق ہر نوتعینات شدہ ایس۔پی، ڈی۔ایس۔پی اور ایس۔ایچ۔او اپنے ساتھ چند بے ضمیر ،بدکردار اور لالچی اہلکاران کو ملا کر انہیں مال بنانے کیلئے فری ہینڈ دے دیتا رہا ہے۔جو غریب اور مجبور لوگوں کا جونک کی طرح چمٹ کرخون چوستے اور ہر کیس پر ایک معقول رقم اپنے آفیسران بالا تک پہنچاتے تھے۔

تیمور کے قتل کے بعد پولیس نے اسے ہضم کرنے کیلئے خودکشی کا ڈرامہ اسٹیج کرنے کی پوری کوشش کی جس کیلئے رسی کا پھندہ بنا کر تیمور کی نعش کے گلے میں فٹ کیا گیااور نعش کی بےحرمتی کی گئی لیکن نعش اور واش روم کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہی پولیس کی یہ بھونڈی کوشش بری طرح سے ناکام ہوگئی۔۔۔نتیجتاً عوام علاقہ کے شدید احتجاج پر رات گئے تیمور کے والد کی مدعیت میں ایف آئی آر زیر دفعہ 302/34 درج کی گئی۔۔۔

جس میں تفتیشی ٹیم (ایس۔ایچ۔او بابر رفیق ،سب انسپکٹر سرفراز حسین شاہ، کانسٹیبل منشا خان راٹھور ،کانسٹیبل آفتاب خان راٹھور ،کانسٹیبل عدنان برکت اور کانسٹیبل کلیم) کو نامزد کیا گیا ہے۔تاہم تاحال کوئی گرفتاری عمل میں نہیں شہزاد راٹھور نے کہا کہ تمام ملزمان عبوری ضمانتوں کیلئے مظفرآباد روانہ ہو چکے ہیں جبکہ تیمور کے ورثا ،سول سوسائٹی ،وکلاء بار اور دیگر تمام مکاتب فکر کے لوگ اس بہیمانہ قتل پر سراپا احتجاج بن چکے ہیں۔

ہمارا مطالبہ ہے کہ ارباب اختیار سے مطالبہ ہے کہ تیمور قتل کیس کی جوڈیشل انکوائری کرائی جائے اور تھانہ کہوٹہ کی اصلاح و احوال کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرتے ہوئے منشا راٹھور جیسی کالی بھیڑوں کو ابکسپوزکیا جائے۔۔واضع رہے کے منشا راٹھور کی تیمور کے ورثاء کو پیسے اینٹھنے کیلئے کی گئی فون کالز کی آڈیو ریکارڈنگ منظر عام پر آچکی ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں