حکومت آزادکشمیرنے بے روزگار نوجوانوں سے ساڑھے4 کروڑ روپے اینٹھ لئے

مظفرآباد(سٹاف رپورٹر/سٹیٹ ویوز)مسلم لیگ نوازآزادکشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر کی سرپرستی میں قائم حکومت کے محکمہ احتساب بیورو اورمحکمہ تعلیم نے 43 ہزار پڑھے لکھے اور بے روزگار نوجوانوں کو تقریباً ساڑھے چار کروڑ روپے کاچونا لگا دیا۔حال ہی میں محکمہ احتساب بیورو اور محکمہ تعلیم نے بذریعہ پبلک سروس کمشن اسامیاں مشتہر کیں اور نوجوانوں سے درخواست کے ساتھ اپلائی کرنے کی فیس اور لبریشن سیل کی مد میں رقم لی اور پھر ان اسامیوں پرتعیناتی کا پراسس روک دیا۔صحافی ثاقب علی حیدری کے مطابق احتساب بیورو کی آسامیوں کیلئے15 ہزار درخواستیں موصول ہوئیں جنکے ساتھ فیس فی درخواست معہ لبریشن سیل فیس1015 روپےفی فرد وصول کئے گئے۔

محکمہ تعلیم کی اسامیوں کیلئے کل 28 ہزار درخواستیں پبلک سروس کو موصول ہوئیں جن سے فیس اور لبریشن سیل کی مد میں فی فرد 1015 روپے وصول کئے گئے۔اس طرح مجموعی طورپر 43 ہزار نوجوانوں سے 4کروڑ 36 لاکھ 45 لاکھ روپے جمع ہوئے۔یہ رقم پبلک سروس کمشن کے ذریعے حکومت کے اکاؤنٹ نمبر 101 میں جمع ہوئی۔پڑھے لکھے بےروزگارنوجوانوں کا کہنا ہے کہ حکومتی محمکوں نے نوجوانوں کو روزگار کا لالچ دیکر ٹھگنے کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔اسامیاں مشتہر ہوتی ہیں۔درخواستیں اور فیس وصول کرنے کے بعد ایک نوٹیفیکشن کے ذریعے ان اسامیوں پر تعیناتی کا پراسس روک دیا جاتا ہے۔یہ سلسلہ سارا سال جاری رہتا ہے اور اس لوٹ کھسوٹ کیلئے پبلک سروس کمشن کو استعمال کیا جاتا ہے۔نوجوانوں نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت فیس کی مد میں وصول ہونے والی رقم نوجوانوں کو واپس کرے بصورت دیگر احتجاج کریں گے کیونکہ جو حکومت روزگار نہیں دے سکتی اسے نوجوانوں کو ٹھگ کر پیسے بنانے کا بھی حق نہیں ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں